اسی چوٹی پہ کٹی عمر جو سر تک نہ ہوئی
ورنہ ہونے کو تو ہر راہ کدھر تک نہ ہوئی
غم کی شہرت تو ہوئی لیکن ادھر تک نہ ہوئی
ہوئی تعمیر سڑک آپ کے گھر تک نہ ہوئی
اسی کوچے میں جہاں ہم پہ نظر تک نہ ہوئی
پھر چلے آئے ہم اور ہم کو خبر تک نہ ہوئی
ہم فقیروں کو بھکاری نظر آتے ہیں وہ لوگ
جن غریبوں کی رسائی ترے در تک نہ ہوئی
مرے ایسے کہ اسے موت نہیں کہہ سکتے
زندگی ایسے بسر کی کہ بسر تک نہ ہوئی
اہلِ ہمت سے ورے اہلِ محبت نکلے
لے گئی چاہ ادھر راہ جدھر تک نہ ہوئی
کیوں نہ سوئیں گے شبِ وصل کے جاگے راحیلؔ
چاند رخصت بھی ہوا اور سحر تک نہ ہوئی