اسی چوٹی پہ کٹی عمر جو سر تک نہ ہوئی

اردو شاعری

اسی چوٹی پہ کٹی عمر جو سر تک نہ ہوئی
ورنہ ہونے کو تو ہر راہ کدھر تک نہ ہوئی

غم کی شہرت تو ہوئی آپ کے گھر تک نہ ہوئی
ہوئی تعمیر سڑک لیکن ادھر تک نہ ہوئی

اسی کوچے میں جہاں ہم پہ نظر تک نہ ہوئی
پھر چلے آئے ہم اور ہم کو خبر تک نہ ہوئی

ہم فقیروں کو بھکاری نظر آتے ہیں وہ لوگ
جن غریبوں  کی رسائی ترے در تک نہ ہوئی

مرے ایسے کہ اسے موت نہیں کہہ سکتے
زندگی ایسے بسر کی کہ بسر تک نہ ہوئی

اہلِ ہمت سے ورے اہلِ محبت نکلے
لے گئی چاہ ادھر راہ جدھر تک نہ ہوئی

کیوں نہ سوئیں گے شبِ وصل کے جاگے راحیلؔ
چاند رخصت بھی ہوا اور سحر تک نہ ہوئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ