کئی گزرے ہیں دل و جاں سے گزرنے والے

26 مارچ 2019 ء

کئی گزرے ہیں دل و جاں سے گزرنے والے
آپ پہلے نہیں راحیلؔ پہ مرنے والے

آئنہ دیکھ کے نک سک سے سنورنے والے
عشق میں اور بہت کام تھے کرنے والے

شرم سے ڈوب نہیں مرتے مکرنے والے
کہ خدا سے نہ ڈرے خلق سے ڈرنے والے

نئی دنیا کو پرانا ہی لگا ہے دھوکا
کارواں پہلے بھی آئے تھے ٹھہرنے والے

آدمی ہو کے کبھی منکشف آنکھوں پہ بھی ہو
اے خدا بن کے مرے دل میں اترنے والے

تیرے کوچے کو مبارک ہوں ہمارے دشمن
ہم تو تہمت بھی کسی پر نہیں دھرنے والے

کیسے کیسے انھی ذروں سے ستارے ابھرے
بن گئے ٹوٹ کے کیا لوگ بکھرنے والے

جنھیں کہتے ہیں شرر عشق کے ہم شاعر لوگ
وہ ستارے ہیں تری مانگ میں بھرنے والے

ان کا دل رکھنے کو راحیلؔ کہاں سے دل لائیں
ہائے وہ اور بھی رو رو کے نکھرنے والے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!