یہ نہیں ہے کہ خواب ٹوٹ گئے

اردو شاعری

یہ نہیں ہے کہ خواب ٹوٹ گئے
خود بھی خانہ خراب ٹوٹ گئے

تم تو ٹوٹے نہ لا کے غم کی تاب
لوگ لا لا کے تاب ٹوٹ گئے

توڑتے توڑتے کسی کا دل
خود نزاکت مآب ٹوٹ گئے

اس قدر تو ستم نہ ٹوٹے تھے
جس قدر آں جناب ٹوٹ گئے

رکھتے رکھتے شکستِ دل کا حساب
اہلِ دل بےحساب ٹوٹ گئے

ہاتھ رہتے ہیں ٹوٹنے ساقی
کاسہ ہائے شراب ٹوٹ گئے

نغمہ شاید زبور ہو جاتا
جھنجھنا کر رباب ٹوٹ گئے

بیٹھے دیوان جوڑنے راحیلؔ
کر کے شعر انتخاب ٹوٹ گئے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ