جھوٹ کی لاج اس قدر رکھنا

7 نومبر 2018 ء

(ایک نادان دوست کے نام)

جھوٹ کی لاج اس قدر رکھنا
اپنی آنکھیں کبھی نہ تر رکھنا

تم سے باہر کہیں نہیں تھا میں
اپنے اندر مری خبر رکھنا

جھوٹ بولے گا بارہا تم سے
اپنے آئینے پر نظر رکھنا

میں سنبھالا نہ جا سکا تم سے
میری یادیں سنبھال کر رکھنا

تم نے ٹھکرائے ہیں بہت سجدے
اب ہمیشہ اٹھا کے سر رکھنا

رہ گیا میں تو قافلے والو
تمھی جاری مرا سفر رکھنا

آدمی سے بڑا نہیں شیطان
خود سے ڈرنا خدا کا ڈر رکھنا

اب میں خاموش ہونے والا ہوں
اب ذرا تھام کر جگر رکھنا

کیا سلیقہ ہے شعر کا راحیلؔ
دل کے ٹکڑے ادھر ادھر رکھنا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!