دیکھتے دیکھتے امید نے دم توڑ دیا

اردو شاعری

دیکھتے دیکھتے امید نے دم توڑ دیا
جس نے لکھا ہے نصیب اس نے قلم توڑ دیا

شکریہ ہوش میں لانے کا مسیحا لیکن
پہلے کیا کم تھے جو اب یہ بھی ستم توڑ دیا

اب ذرا سامنے بھی آ کہ تجھے پوجوں میں
تیرے غازی نے تو پتھر کا صنم توڑ دیا

میں نے مر مر کے اسے زندہ رکھا ہے دل میں
جس نے امید کو دے دے کے جنم توڑ دیا

ہم نے سو بار لیا ترکِ محبت کا عہد
دل نے ہر بار ترے غم کی قسم توڑ دیا

باعثِ حسرت و غم ترکِ تعلق ہے مجھے
تو نے کیوں سلسلۂِ حسرت و غم توڑ دیا

ضبط کے زور پہ ہستی کی کھڑی ہے دیوار
جس نے سر پھوڑ لیا اس نے بھرم توڑ دیا

کیا ہوا ٹوٹ گیا دل اگر اپنا راحیلؔ
کون سا اس نے کوئی ساغرِ جم توڑ دیا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ