راہبر ہے مگر بھٹکتا ہے

اردو شاعری

راہبر ہے مگر بھٹکتا ہے
یہ غضب کر ہی عشق سکتا ہے

دل کہاں سینے میں دھڑکتا ہے
ایک دیوانہ سر پٹکتا ہے

آنکھ کو اب تو کر نہ کر سیراب
یہ سبو خود بخود چھلکتا ہے

عشق جب منبروں پہ چڑھ بیٹھے
سچ کہے تو بھی جھوٹ بکتا ہے

منزلوں کی خبر ہی آ جاتی
راہرو تھک کے راہ تکتا ہے

کیا تمھارے نہ دیکھنے کا گلہ
جسے دیکھو وہی سسکتا ہے

وہ گلستان ہے وفا جس میں
گل دھڑکتے ہیں دل مہکتا ہے

تیرے کوچے میں انتظار سہی
بیٹھنے سے بھی کوئی تھکتا ہے

باغ برباد ہو چکا لیکن
ایک کانٹا ابھی کھٹکتا ہے

کیا ستارہ ہے بخت کا راحیلؔ
جب بھڑکتا ہے تب چمکتا ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ