کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا

اردو شاعری

کاروبار لہو کا ہے اپنا جب ہوئے گھائل بیچ دیا
گہ گوشوں میں لگی ہے بولی گہ سرِ محفل بیچ دیا

تم اپنا سرمایہ جھونکو اہلِ زمانہ اور کہیں
اونے پونے داموں ہی سہی ہم نے تو دل بیچ دیا

زردئِ گل سے جان ہی لے گا آج نہیں تو کل گلچیں
کاٹ کے پر اور سی کے زباں صیاد نے بسمل بیچ دیا

جس کی کھنک سے فقیہِ شہر تہجد کو جاگ اٹھتا تھا
رقاصہ نے وہ گھنگرو بھی توڑ کے پائل بیچ دیا

جن کو ہنسی آتی ہے بہت مجنوں کی آبلہ پائی پر
سن بیٹھیں گے لیلیٰ نے بھی ناقہ و محمل بیچ دیا

یہ جو گدا ہیں اس کے در کے بندہ و آقا ان میں بھی ہیں
مول چکا کے منعم نے سائل کو سائل بیچ دیا

سَچے عشق کا سُچا موتی بھیک نہیں راحیلؔ میاں
سودا نقد اور نقد بھی ایسا عمر کا حاصل بیچ دیا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ