گلِ بکاولی

مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ

بسلسلۂ اردو ادبِ عالیہ

مذہبِ عشق معروف بہ گلِ بکاولی

فہرست

آغازِ کتاب

مقدمہ

اثر قلم معجز رقم جناب پنڈت برجموہن دتاتریہ صاحب کیفی دہلوی

 

دار الاشاعت پنجاب نے یہ بہت خوب کیا کہ گل بکاؤلی کا قصہ رطب و یابس کا لحاظ رکھ کر اس صورت میں شائع کیا ہے۔ ورنیکولر اور اینگلو ورنیکولر مدرسوں کے طلباء اس سے بہت فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔اردو میں ایسی کتابیں کم تھیں جن سے مبتدی مستفید ہوسکیں، نہ صرف طالب علم بلکہ ہر انسان کو ضرورت ہوتی ہے۔ اور یہ ضرورت لا بد ہےکہ اُن اشغال کے بعد جو وقت موجودہ میں اس کے لاحق حال ہیں، دل و دماغ کی صحیح تفریح کا کچھ سامان ہو۔ موسیقی،نقاشی،ناٹک اور فسانہ وغیرہ ہی ایسی چیزیں ہیں جو کام سے تھکے ہوئے ذہن کو مفرح کرسکتی ہیں۔ اس نقطہ نظر سے اس کتاب کی اشاعت نہایت اہم ہے۔اس کے علاوہ اس کی زبان عمدہ ہے۔ چونکہ پنجاب میں عموماً اردو ابتدائی تعلیم کا ذریعہ ہے۔ اس لیے بھی اس کتاب کا مطالعہ نہایت ضروری اور مفید متصور ہوسکتا ہے۔ اس کی زبان بہت صاف اور عبارت سلیس واقع ہوئی ہے۔ ایک اور نظری سبق اس کتاب سے یہ ملتا ہے کہ ایک شخص جو اردو کا اہل زبان نہ ہو مگر اس نے اردو کو غور اور انہماک سے حاصل کیا ہو اردو میں عمدہ تصنیف و تالیف کرسکتا ہے۔ اس کتاب کا مولف منشی نهال چندلا ہور ہی کا رہنے والا تھا۔ یہ واقعہ اس تالیف کو اور دلچسپ بناتا ہے۔

باغ و بہار کی طرح یہ کتاب بھی فارسی سے اردو میں ترجمہ ہوئی۔اور اس کی عمر بھی باغ و بہار کے لگ بھگ ہے۔ یعنی مسٹر جان گلکرسٹ کی سرپرستی میں لکھی گئی۔ باغ و بہار کی تالیف کی تاریخ   ١٢١٧؁ھ ہے۔ اسی سال میں گل بکاؤلی کا قصہ بھی لکھا گیا تھا۔ اس وجہ سے اس کتاب کو اردو نثر کی تاریخ میں قدامت کا امتیاز بھی حاصل ہے۔ تالیف کے قریب پچاس برس بعد ١٢٥٤؁ھ میں لکھنؤ کے مشہور شاعر پنڈت دیا شنکر نسیم نے اس قصہ کو مثنوی کی صنف میں نظم کیا اور گلزار نسیم نام رکھا۔ گل بکاؤلی کے قصہ ہی سے امانت لکھنوی نے اپنے مشہور ناٹک اندر سبھا کا پلاٹ اخذ کیا جس کی تصنیف کی تاریخ  ١٢٧٠؁ھ کے قریب ہے۔انگریزی میں بھی اس کا ترجمہ ہو چکا ہے۔ اس سے ظاہر ہو گا کہ کتاب اور اس کا قصہ کس قدر مقبول اور ہر دلعزیز ہے۔

اردو تھیٹر نے گل بکاؤلی کے قصہ کو تین حصوں میں تقسیم کرکے اس میں سے تین ناٹک بنائے۔گل بکاؤلی،سنگین بکاؤلی اور چترا بکاؤلی۔ ان میں چترا بکاؤلی اپنے وقت میں بہت چل نکلا تھا اور نہایت پسند کیا جاتا تھا۔

نو عمر طلباء کے لیے جیسا دلچسپ انگریزی میں “ایلس ان دی ونڈر لینڈ” کا قصہ ہے، گل بکاؤلی کا قصہ اس سے کم دلچسپ نہیں، بلکہ اس سے بڑھ کر نتیجہ خیز ہے۔ جوئے کی خرابیاں جیسی تاج الملوک کے بھائیوں کو پیش آئیں، غیر کفو میں شادی یا محبت کے مصائب جو تاج الملوک اور بکاؤلی پر گزرے، جاہلانہ ضد اور نامناسب بے اعتباری کی آفتیں جو ہمارے ہیرو کے ہاتھوں راجا اندر کے حکم سے بکاؤلی کو سہنی پڑیں، بے احتیاطی اور بھید کو محفوظ نہ رکھنے کا نتیجہ جس سے تاج الملوک نے وہ پھول جس کے لیے اتنی سختیاں جھیلیں تھیں اپنے ہاتھ سے گنوایا۔ یہ سب اور ان کے علاوہ اور ایسی باتیں بھی اس کتاب میں موجود ہیں جن کی تعمیل انسانی زندگی میں نہایت سبق آموز ہے اور جو کیرکٹر کو پختہ اور کوششوں کے کامیاب کرنے میں بہت مدد دیتی ہیں۔جب ایک شخص اپنے آپ کو محض تاریکی میں یا بالکل بے بس پائےتو اوسان گنوانا نہیں چاہیے بلکہ لازم ہے کہ اپنے حواس بجا رکھے۔ گھبرائے نہیں اور استقلال سے سوچے کہ اس مصبیت پر فتح پانے کو کیا تدبیر ہوسکتی ہے۔ اول منزل یعنی لکّھا پر فتح پانا اور اس دیو سے اپنا مقصد نکالنا جو اس کی جان کی ذرا پروانہ کرتا تھا، حکمت عملی سے کام نکالنے کا بہترین سبق ہے۔

ان سب باتوں پر نظر رکھ کر امید کی جاتی ہے کہ اس اشاعت کا خلوص دلی سے خیرمقدم کیا جائے گا اور اس سے وہ فائدہ عام اردو دانوں اور خصوصاً طلباء کو پہنچنے کا موقع ملے گا جو اردو پڑھتے ہیں۔ اس کی طرف پہلے اشارہ ہوچکا ہے کہ اصل کتاب میں جو باتیں اعتراض کے قابل تھیں وہ نکال دی گئی ہیں۔(١)

اخیر میں یہ ذکر کر دینا ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ قصہ یوں تو ایک قسم کا “ونڈر لینڈ” ہے ہی لیکن اس کی تہ میں تاریخی حقیقت موجود ہے جس کی تشریح مولوی سید احمد صاحب مرحوم نے اپنی بیش بہا تالیف فرہنگ آصفیہ میں دے دی ہے۔ عرصہ ہوا راقم نے اس کی تصدیق فرہنگ کی اشاعت سے پہلے ہوشنگ آباد اور امرکنٹک کے سرکاری دفتر سے کی تھی۔ صوبجات متوسط یعنی جبل پور وغیرہ میں ایک خودرو پودا ہے جو اکثر پانی کے کنارے اُگتا ہے۔ اس کے پھول کاعرق آنکھوں میں ڈالنے سے کئی بیماریاں آشوب وغیرہ دور ہوجاتی ہیں۔ اس کا نام کا بکاؤلی ہے۔

 

برجموہن دتاتریہ کیفی

لاہور

٢١مارچ  ١٩٢٧؁ء

حمد و ثنا

الٰہی کر سخن کو میرے وہ پھول
کہ ہو ہر ایک کے دل کا وہ مقبول

حمد وثنا کا گلستان ہمیشہ بہار باغبان حقیقی کو سزاوار ہے کہ اُس کے باغِ لطف سے اس طُرفہ بوستانِ جہان نے آب ورنگِ تازہ اور لطافت بے اندازہ پائی۔ پھولوں کی بہار میں اور زیبا عروسوں کے نقش ونگار میں اسی کے نور کی تجلی سمائی۔ خامہ خشک مغز کا کیا مقدور اور کتنی طاقت کہ اُس کی حمدوثنا تحریر کرسکے اور جو حق لکھنے کا ہے لکھ سکے:

ہر ایک پتی سے گل کی بو عیاں کی
وہی علت ہے بلبل کے فغاں کی
جو منہ ہے بند غنچے کا چمن میں
اُسی کا نام لیتا ہے دہن میں
اسی کے حکم نے شیرازہ بندی
کتابِ عارضِ محبوب میں کی
جو عکس روئے لیلیٰ گل میں آیا
تو موئے قیس کو سنبل بنایا
جو ابرِ رحمتِ غفار برسے
گناہوں کو ہمارے دم میں دھوئے
طراوت پائے اپنی کشِت امید
ہری ہوجائے اپنی کشِت امید
اگر دل قہر پر آجائے اُس کا
سوائے ظلِ احمدؐ پھر نہیں جا

جناب محمد ؐ مصطفی ﷺ کی نعت میں

ہزاروں ہزار درود وسلام اُس والا حسب، عالی نسب پر ہے جو باعث بِنائے زمین وآسمان اور سببِ ایجادِ کَون ومکان ہوا۔ اس کے بُرّاق کے سُم کا نقش مہر وماہ کی پیشانی پر درست بیٹھا۔ اُس کے مجموعۂ امکان سے جہان ہے ایک کتاب اور اُس کتاب سے ہستی ہے ایک باب۔ صفحۂ خاک کو جو دلچسپ دیکھا تو بیتِ افلاک میں نہ رہا۔ اُس مطلعِ نور اور مقطعِ ظہور نے عناصر کی رباعی اختیار کی۔

اس مرحلے کا نہیں پایاں
کہو اب تو ثنائے شاہ مرداں

حضرت علی مرتضیٰ علیہ السلام کی منقبت میں

جب صبح کو آفتاب نے قلم شعاعی سے ورقِ عالم پر آیتِ نور لکھ کر صفحۂ جہاں کو روشن کیا، میں نے چاہا کہ دریائے سخن میں غوطہ لگا کے لولوئے آبدار، جو سخن کے جوہریوں کو منظور ہوں، نکالوں۔ جس طرف غور و تامل سے نگاہ کی، ڈھیر کے ڈھیر نظر آئے۔ سوچا کہ ان کو کس پر نثار کروں، اس تردد و فکر میں تھا کہ یکایک یہ مُژدہ میرے کان میں پہنچا کہ اے غریقِ دریائے فکر! یہ جواہرِ درخشاں دوسرے کے لائق نہیں، حضرت علی علیہ السلام کے قدموں پر نثار کر، یعنی ان کی مدح میں زبان کھول۔ وہ شہنشاہ کہ جس کے چہرے کے عکس سے ماہ کے رخ پر صفائی آئی اور خورشید کے آئینے نے جِلائے وافر پائی۔ اگر ساتویں آسمان کے میدان میں گھوڑا دوڑائے تو ستاروں کے لشکر میں فتور پڑ جائے۔ اے شہنشاہ! تیری درگاہ میں میری یہی عرض ہے کہ داروگیر قیامت میں مجھ کو باروئے سفید اپنے غلاموں کی صف میں رکھنا۔ اس کے سوا اور کیا عرض کروں کہ بندے کو زیادہ عرض کرنی اپنے مولا کی جناب میں کمال گستاخی ہے۔

وجہِ تصنیفِ کتاب

ناظرین پر روشن ہو کہ شیخ عزّت اللہ بنگالی نے یہ کتاب فارسی میں تصنیف کی تھی۔ اُس نے اِس کا سبب یوں لکھا ہے کہ طالب العلمی کے ایام میں اس حقیر کو انشاپردازی کے فن میں رغبت تمام تھی اور مسودے بھی کاغذ پر لکھ کر رکھ چھوڑتا تھا۔ ایک روز رفیق شفیق نذر محمد کہ نو برس تک اس شوریدہ حال کا مرغِ دل اُس شمع جمال پر پروانے کی مانند حیران اور ذرّے کی طرح اس آسمانِ ملاحت کے خورشید پر سرگرداں تھا، چکور کی مانند خراماں خراماں آیا۔

غزالوں سے چشم اس کی چاہے تھی باج
قمر سے بھی منہ اس کا مانگے خراج
ان آنکھوں کو تھی عشوہ سازی مدام
کرشمے میں کرتی تھی عالم کا کام
کبھی مستی میں لہر آئی اگر
کِیا صفحۂ دل کو زیر و زبر
خطِ سبزہ چہرے پہ تھا اس کے یوں
ہو قرآن پر جدولِ نیلگوں
اگر لعل کی رگ سے ہووے قلم
تو سرخی لبوں کی کروں کچھ رقم

اور جیسی کہ ہمارے اور اس کے بیچ دوستی تھی، ویسی ہی طرح کبھی اپنا ہاتھ لا میرے کاندھے پر دھرتا اور کبھی میری گود میں آبیٹھتا۔ آخرش جامِ لب کو شرابِ تکلم سے بھر کر ہر وضع کی نرم نرم باتوں سے محبت کی آشفتگی کا بازار گرم کیا اور یہ شوریدہ حال بھی اس فرشتہ خصال سے متکلم رہا۔ پھر میرے زانو کا تکیہ لگا کر کہنے لگا کہ مجھ کو نیند آئی ہے، جب تک میں سوؤں تم بیٹھے کوئی کہانی کہو۔

پہلے تو میں نے چاہا کہ میں بھی اس کے ساتھ لیٹ رہوں لیکن یہ خیال گزرا کہ شاید بُدّھو یہ نہ سوچے کہ میرا کہنا نہ مانا۔ تب وہ قصہ کہ جس کی ہر ایک داستان عشق ہی سے بھری ہوئی تھی، اُس سرمایۂ بہجت و سرور کے آگے کہنے لگا۔

مِن بعد، اُس یار ارجمند کی خواہش اس مستمند کو اس پر لائی کہ اس دلچسپ قصے کو فارسی کی عبارت کا لباس پہنا کر نظم و نثر کے زیور سے آراستہ کرکے مشکل پسند دیکھنے والوں کی دید کے لائق کروں۔

اس اثنا ميں غرہ ذی الحجہ کو کہ سنہ ایک ہزار ایک سو چوبیس ہجری تھے، اس نو باوۂ باغ دل و دیدہ کو موت کی صرصر نے جڑ سے اکھاڑ ڈالا۔ اس واقعہ جانکاہ سے اِس مصیبت زدہ کے ہوش و حواس کا طائر اڑ گیا۔ چاہا کہ اوراق مسودات کو اس افسانے کے بھی پرزے پرزے کر ڈالوں لیکن چند دوستوں نے کہ ایک گونہ پاس خاطر ان کی بھی منظور تھی آکر سمجھایا اور کہا:

آسان بہت ہے لعل بدخشاں کا توڑنا
لیکن بہت محال ہے پھر اس کا جوڑنا

بحکم ضرورت آدھے کو فارسی کیا اور آدھے کو جوں کا توں رکھا۔ سبب تالیف اس کتاب کا یوں ہے کہ مستمند نہال چند لاہوری کہ اس نحیف کا مولد شاہجہاں آباد ہے، آب و خور نے کھینچ کر بیچ اشرف البلاد کلکتے کے، جواس وقت میں دار السلطنت ہندوستان کا ہے، لا ڈالا اور یہ خاکسار کپتان ڈیوڈ روبرٹ سن صاحب بہادر کی خدمت میں سابق سے بندگی رکھتا تھا۔ انہی کی دست گیری سے صاحب خداوندِ نعمت، حاتم زماں، دستگیر درماندگاں، منبع جود وعطا، سرچشمہ فیض و سخا، دریائے عنایت و کرامت، بحر احسان و شجاعت جناب جان گلکرسٹ صاحب بہادر مدظلہ کے دامن تلک رسائی ہوئی۔

ثنا میں اس کی بجا ہے اگر صغیر و کبیر
ہزار صفحۂ کاغذ سدا کریں تحریر
وہی ہے باغِ فصاحت کا نخل عالم میں
گل سخن سے اسی کے شگفتہ دل ہیں زخیر
وہی ہے گوہرِ بحر سخا و کانِ عطا
نہیں ہے اس کا جہاں میں کوئی عدیل و نظیر
ضیائے عقل سے روشن ہے اس کی شمع امید
جہاں کی بزم میں دن رات جیسے مہرِ منیر
خدا نے اپنے تفضّل سے خلعتِ اخلاق
سجایا قامت موزوں پر اس کے با توقیر
جو کوئی چاہے تو خدمت سے اس کی فیض اٹھائے
گواہ اس پہ ہے دل سے ہر اک غنی و فقیر
لیاقت اتنی کہاں خاکسار کو اس کی
کہ اس کی بخشش و ہمت کی کر سکے تقریر
مگر خدا سے دعا مانگتا ہے یہ دن رات
سپہر میں رہے جب تک ضیائے مہرِ منیر
سلامت اس کو رکھے احتشام و دولت سے
عدو کو اس کے کرے دہر میں ذلیل و حقیر

غرض صاحب بہادر کے تفضّلات سے بخوبی اس ضعیف کی بسر اوقات ہونے لگی اور آگے کو امید بندھی کہ اگر یہ دامن دولت اپنے ہاتھ میں ہے تو ان شاء اللہ ایک نہ ایک دن بیڑا پار ہو جائے گا۔

پھر ایک روز خداوندِ نعمت نے ارشاد کیا کہ قصۂ تاج الملوک اور بکاؤلی کا فارسی سے ہندی ریختہ کے محاورے میں تالیف کر کہ تیری سرخروئی اور یادگاری کا موجب اور ہماری خوشنودی کا سبب ہو۔ چنانچہ اس نحیف نے حسب ارشاد فیض بنیاد اپنے حوصلے کے موافق فلاطوں فطنت، والا شکوہ، عالی حشمت، فلک اشتباہ مارکویس ولز لی نواب گورنر جنرل بہادر دام اقبالہ کے عہد میں اس کو ہندی میں تالیف کیا اور نام اس کا مذہب عشق رکھا، لیکن نظم کتاب کو کتنے موقع میں بالکل چھوڑ دیا اور بعضے مقام میں جو مناسب دیکھا تو بطور انتخاب کے ترجمہ کیا، کہیں تو نظم میں اور کہیں نثر میں۔ سوا اس کے، عبارت کی ترکیب بھی بعضے مواقع میں بدلی ہے، بلکہ کہیں کہیں قلم انداز کی ہے۔

اب صاحبان سخن رس اور نکتہ دان صبح نفس سے یہ امید ہے کہ جہاں کہیں میدان عبارت میں نشیب و فراز دیکھیں، وہاں اصلاح کے قلم سے ہموار کر دیں اور اس ہیچمدان کو اپنی نوازش سے ممنون فرمائیں۔

مذہبِ عشق معروف بہ گلِ بکاولی

 

آغاز داستان

کہتے ہیں کہ پورب کے شہزادوں میں کسی شہر کا بادشاہ زین الملوک نام، جمال اس کا جیسے ماہِ منیر، عدل و انصاف اور شجاعت و سخاوت میں بے نظیر۔ اس کے چار بيٹے تھے۔ ہر ایک علم و فضل میں علامہ زمان اور جوانمردی میں رستم دوراں۔ خدا کی قدرت کاملہ سے اور ایک بیٹا آفتاب کی طرح جہاں کا روشن کرنے والا اور چودھویں رات کے چاند کی طرح دنیا کے اندھیرے دور کرنے والا پیدا ہوا۔

قمر اس کی جبین سے داغ کھائے
مہ نو پیش ابرو سر جھکائے
اگر چین جبین اس کی بنائے
مصور چین کا چیں بول جائے
بلا انگیز دو آنکھیں جادو آمیز
مئے گلرنگ سے دو جام لبریز
کبھی دیکھی تھی اس گلرو کی کاکل
پریشان آج تک ہے حال سنبل
جہاں مجروح ہو تیغ نظر سے
پلک سے پار ہو خنجر جگر سے
وہ مکھڑا مہر اگر دیکھے تو تھرّائے
قمر کے چہرے کا بھی رنگ اڑ جائے
عجب انداز سے تل گال پر تھا
کہ گنج حسن پر کالا ہو بیٹھا
وہ سینہ تختۂ بلور سا صاف
یہ کیا کہتا ہوں میں ہیرا تھا شفاف
ریاض حسن کا سرو سر افراز
غرض وہ تھا سراپا مایہ ناز

بادشاہ نے باغ باغ ہو کر جشن کیا اور نجومیوں کو بلا کر کہا کہ اس کی لگن دیکھو۔ ہر ایک نے کنڈلی کھینچ کر اس کا نام تاج الملوک رکھ دیا اور کچھ انگلیوں پر گن گنا کے عرض کی کہ یہ باغ عالم میں گل تازہ ہے، اس کے نصیبوں میں دولتِ دنیاوی بے اندازہ ہے۔ صاحب ہمت اس طرح کا نہ کوئی ہوا ہے اور نہ ہوگا۔ یقین ہے کہ ایسا شہریار ہو تو عالم جنات بھی مطیع اور فرماں بردار ہو مگر ایک قباحت بھی اس کے ساتھ ہے۔ جب بادشاہ کی اس پر نظر پڑے تو فوراً بادشاہ کی آنکھوں سے بینائی جاتی رہے۔ بادشاہ نے کچھ شاد کچھ ناشاد ہو کر ان کو رخصت کیا اور وزیر سے فرمایا کہ ایک محل میں بتفاوت تمام ہماری گزرگاہ سے اُس کی ماں سمیت رکھو۔ چنانچہ موجب ارشاد کے وزیر عمل میں لایا۔

چند سال کے بعد وہ نونہال باغ سلطنت کا کمال ناز و نعمت سے پرورش پا کر ہوائے علم و ہنر سے سے سر سبز ہوا۔ ایک روز اس کو شکار کی خواہش ہوئی، سوار ہو کر جنگل میں گیا اور شکار کے پیچھے گھوڑا اٹھایا۔ سچ ہے کہ ہونے والی بات بے ہوئے نہیں رہتی:

تقدیر کے لکھے کو امکان نہیں دھوتا

اتفاقاً بادشاہ بھی اسی دن شکار کو سوار ہوئے تھے۔ ایک ہرن کے پیچھے گھوڑا ڈالے اسی طرف کو آنکلے۔ مشہور ہے کہ کانے چوٹ کنوڈے بھینٹ۔ جونہی شہزادے پر نگاہ پڑی آنکھوں کی بصارت جاتی رہی۔ ارکان دولت نے شہزادے کو دیکھ کر بادشاہ کے نابینا ہونے کا سبب دریافت کیا، حضرت نے فرمایا کہ لازم یوں تھا کہ بیٹے کو دیکھ کر باپ کی آنکھیں اور روشن ہوں، سو یہ طرفہ ماجرا ہے کہ برعکس ظہور میں آیا۔ پس اب یہ بہتر ہے کہ اِس کو میرے ممالک محروسہ سے نکال دو اور اس کی ماں کے واسطے خدمت جاروب کشی کی مقرر کرو۔

یہ فرما کے بادشاہ الٹے پاؤں تخت گاہ کی طرف پھر آیا اور اسے دل سے نکال دیا۔

دوسری داستان

چاروں بیٹوں کے جانے کی بکاؤلی کے واسطے

کہتے ہیں کہ جب بڑے بڑے حکیم مسیحا خصلت اور بو علی طبیعت آنکھوں کے علاج کے لیے بلائے، سب نے متفق ہو کر عرض کی کہ بکاؤلی کے سِوا کسی اور دوا سے ممکن نہیں کہ بادشاہ شفا پائے۔ اگر کسی صورت سے گل بکاؤلی پیدا ہو تو حضرت کیا بلکہ اندھا مادر زاد بھی آنکھیں پائے۔

یہ سن کر بادشاہ نے اپنے تمام ملک میں منادی پھروادی کہ جو گل بکاؤلی پیدا کرے یا اس کی خبر لائے تو اس کو بہت انعام و اکرام دے کر نہال کروں۔ اس طرح بادشاہ نے ایک مدت تک اس کے انتظار میں رو رو کر حضرت یعقوبؑ کی طرح اپنی آنکھوں کو سفید کیا اور اس غم میں مانند حضرت ایوبؑ کے آپ کو گھلا دیا۔ ہر چند کہ خونِ جگر پیا لیکن کسی طرف سے کچھ اس کا سراغ نہ ملا۔

ایک روز چاروں بیٹوں نے بادشاہ کی خدمت میں دست بستہ عرض کی کہ سعادتمند وہی لڑکا ہے کہ جو ماں باپ کی خدمت بجا لائے اور اگر سعی و کوشش میں جان دے تو وہ سعادت دارین پائے۔ اس واسطے ہم امیدوار ہیں۔ رخصت فرمائیے تو گل بکاؤلی کی تلاش کو نکلیں۔ بادشاہ نے فرمایا کہ ایک تو آگے ہی میں اپنی آنکھیں کھو بیٹھا ہوں، نور چشم کو رو بیٹھا ہوں، وہ داغ اب تک جگر سے نہیں گیا۔ جو چشم و چراغ ہیں ان کو برباد کس طرح ہونے دوں؟ یہ صدمہ دیدہ و دانستہ دل پر لوں۔ شہزادوں نے پھر مکرر عرض کی تب چار و ناچار بادشاہ نے رخصت دی اور وزیروں سے فرمایا کہ جو اسباب سفر کا چاہیے مہیا کرو۔ چنانچہ انہوں نے بموجب حکم کے نقد و جنس و دواب و لشکر سے لے کر جتنا درکار تھا موجود کر دیا۔ تب بادشاہ سے رخصت ہو کر شہزادوں نے اپنا راستہ لیا۔ شہزادے منزل بمنزل جاتے تھے۔ اتفاقاً تاج الملوک کہ جس کو باپ نے شہر بدر کیا تھا، دشت آوارگی کو قدم پریشانی سے ناپتے ناپتے ان سے دوچار ہوا۔ کسی سے پوچھا کہ یہ کون ہیں اور کہاں جاتے ہیں۔ اس نے بادشاہ کے اندھے ہونے کا اور سبب ان کے سفر کا گل بکاؤلی کی تلاش کے واسطے تاج الملوک سے بیان کیا۔

شہزادے نے دل میں کہا: ؏

کہ اٹھ بخت کو تو بھی اب آزما

مصلحت نیک تو یہ ہے کہ میں بھی بھائیوں کے ہمراہ گل بکاؤلی کی جستجو کروں اور اپنے زر قسمت کو محکِّ امتحان پر کسوں۔ اس میں اگر دامن کو گلِ مراد سے بھروں تو فھو المراد، نہیں تو اس وسیلے سے باپ کے ملک سے باہر نکلوں۔ یہ دل میں ٹھان کر ایک سردار کے پاس کہ نام اس کا سعید تھا، گیا اور بہ ادب اسلام کیا۔ اس کی نظر جو شہزادے پر پڑی تو دیکھا کہ اس کے گالوں کی چمک خورشید کی روشنی کے ساتھ برابری کر رہی ہے اور چاند سی پیشانی زلفِ شب رنگ کے پہلو میں ماہِ تمام کی طرح جلوہ گر ہے۔ پوچھا تم کون ہو اور کہاں سے آنا ہوا۔ تاج الملوک نے عرض کی کہ میں بیچارہ غریب مسافر ہوں اور بیکس و آشفتہ خاطر ہوں۔ نہ کوئی غمگسار ہے کہ غمخواری کرے، نہ یار ہے کہ شرط یاری بجا لائے، نہ کوئی مددگار ہے کہ مددگاری کرے۔ سعید نے اس یوسف ثانی کی شیریں زبانی سے محظوظ ہو کر بصد آرزو و خواہش اپنی رفاقت میں رکھا اور ہر روز عنایت زیادہ کرتا۔

کہتے ہیں کہ شہزادے ایک مدت کے بعد شہر فردوس میں کہ تخت نشین وہاں کا رضوان شاہ تھا، پہنچے اور شام کے وقت دریا کے کنارے اس ارادے سے کہ چند روز یہاں ٹھہریں، خیمے ایستادہ کیے۔ جب مسافر آفتاب ملک مغرب کی سیر کو گرم رفتار ہوا اور سیّاح ماہتاب رات کے مشکی گھوڑے پر سوار ہو کر مشرق کی طرف سے باگ اٹھا کر چلا تب چاروں شہزادے اپنے اپنے سمند باد رفتار پر سوار ہو کر بطریق سیر شہر میں آئے اور ادھر ادھر گشت کرنے لگے۔ اس میں ایک محل منقّش اور مکلف کہ جس کے جا بجا دروازوں پر زردوزی کے پردے پڑے ہوئے تھے نظر آیا۔

وہاں کے باشندوں میں سے ایک سے پوچھا کہ یہ مکان عالیشان کس کا ہے؟ اس نے جواب دیا کہ اس کی مالک دلبر لکھا بیسوا ہے۔ شہزادوں نے کہا، اللہ اکبر! یہ محل بادشاہی اس نے کہاں سے پایا۔ وہ شخص پھر کہنے لگا کہ یہ رنڈی اس زمانے میں یکتا ہے اور ملاحت میں بے ہمتا۔ شہرہ آفاق، اپنے کام میں طاق، رعنائی اور زیبائی میں نہایت دلجو، خوبی اور دلربائی میں بغایت خوب رو، چشم خورشید مدام اس کی شمع جمال پر پروانے کی طرح شیدا اور چہرۂ ماہتاب دوام اس کے مکھڑے پر فدا۔

کسی نے راہ میں اس کے اگر قدم مارا
تو اپنی عقل کی فہرست پر قلم مارا
اسی نے تج دیا ناموس و ننگ کو اپنے
کہ جس نے دزہ بھی خواہش میں اس کے دم مارا

صاحبانِ مباشرت کے واسطے ایک نقارہ مع چوب اس نے اپنے دروازے پر رکھا ہے، جو کوئی اسے جا کر بجائے وہ عیارہ زمانے کی اسے گھر میں بلائے اور لاکھ روپے لے، تب اس سے ملے۔ شہزادے کہ اپنے مال و دولت پر نہایت مغرور تھے، نشۂ بادۂ نخوت سے چور تھے، نشانِ ہمت اس کے میدان شوق میں بلند کر کے دروازے پر گئے اور جاتے ہی بے تحاشا نقارہ بجا دیا۔

سنتے ہی اس مکارۂ دوراں نے دل میں کہا کہ الحمد للہ مدت مدید کے بعد کسی ایسے نیک بخت نے میرے گھر کا قصد کیا۔ چاہیے کہ میرے حجرے کو روشن کرے اور ایسے موٹے تازے شکار نے میرے جال میں آنے کا ارادہ کیا، اغلب ہے کہ دام میں پھنسے، پھڑک پھڑک کر مرے۔ نقل مشہور ہے کہ یہ طائفہ اسی تردد میں رہتا ہے کہ کوئی عقل کا اندھا گانٹھ کا پورا ملے، سو خدا نے ویسے ہی شخص بھیج دیے۔ جھٹ پٹ بناؤ سنگار کرکے زیور مرصع، لعل، موتی، ہیرا، زمرد جا بجا موقعے سے پہن کر بڑی آن بان سے بن ٹھن کر بیٹھی۔ یہ بھی اس میں آپہنچے۔ چند قدم استقبال کرکے ہر ایک کو سونے کی کرسی پر بٹھایا۔

اتنے میں کچھ رات گئی کہ ساقیانِ گل عذار شیشۂ شراب اور ساغرِ زرنگار لیے حضور میں آئے اور جام کو گردش میں لائے۔ اسی طرح آدھی رات گئی، تب اس عیار نے کہا کہ اگر اجازت ہو تو تختہ نرد منگواؤں، باقی رات اس شغل میں بسر ہو کر سحر ہو۔ شہزادوں نے کہا کہ منگواؤ، اس سے کیا بہتر۔

مکارہ نے ایک بلی کے سر پر چراغ رکھا اور لاکھ روپے کی بازی بد کر کھیلنے لگی۔

لکھنے والے نے یوں لکھا ہے کہ شہزادوں نے اس آدھی رات کے عرصہ میں پچاس لاکھ روپے ہارے۔ اس میں خورشید گردوں زمردی تختے پر نمودار ہوا اور سمیں مہرۂ ماہ اپنے گھر گیا۔ اس مکر ہائی نے بھی بساط بازی لپیٹی۔ شہزادے اپنے مکانوں کو گئے۔ دوسرے روز جب آفتاب سیاحوں کی طرح مغرب کی منزل میں پہنچا اور ماہتاب بادشاہوں کی صورت سپاہِ انجم کو لیے تخت فیروزہ رنگ پر رونق بخش ہوا۔شہزادے اُسی آن بان سے اس کے مکان میں آئے اور بدستور سونے کی چوکیوں پر اجلاس فرمایا۔ حور لقا لونڈیاں خدمت میں آکر حاضر ہوئیں اور طرح طرح کا کھانا سونے چاندی کے خوانوں میں لا کر دسترخوانوں پر چُن دیا۔

بعد تناولِ طعام تختۂ نرد منگوا کر دس لاکھ روپے کی بازی بد کر کھیلنے لگے۔ غرض اُس رات کو سب مال و متاع، نقد و جنس، ہاتھی گھوڑے، اونٹ وغیرہ جس قدر کہ رکھتے تھے ہار گئے۔ تب اس مکّارہ نے بازی سے ہاتھ کھینچ کر کہا “اے جوانو! تمہارا سرمایہ آخر ہو چکا، اب بساط بازی لپیٹو، اپنے گھر کی راہ لو”۔

شہزادوں نے کہا کہ اب کی بار ہم زرِ طالع کو ترازوئے امتحان میں تولیں۔ اگر ہمارے بخت کا پلہ جھکے تو اپنی ہاری ہوئی سب نقد و جنس کہ گرہ میں تو نے باندھی ہے، کھول لیں۔ نہیں تو ہم چاروں تیرے فرماں بردار ہیں، غلام ہو کر رہیں۔ کچھ نہ بولیں۔

جب یہ قول و قرار ٹھہرا تب اُس اُچھال چھکّا نے طُرفۃ العین میں وہ بھی بازی جیت لی اور بہت اسباب نقد و جنس اپنی سرکار میں داخل کیا۔ ان کو قیدیوں کے سلسلہ میں کہ ویسے سیکڑوں تھے بھیج دیا۔ لشکر اور سپاہ اور رفیق اُن کے گل خزاں دیدہ کے پتوں کی طرح درہم برہم ہو گئے۔

تاج الملوک نے دل سے مصلحت کی کہ اب کچھ ایسی حکمت کیا چاہیے جو اُن کی خلاصی کا سبب ہو۔ مجھ سے جو یہ کام نمایاں ہو، دنیا میں نام ہو، آخرت میں اجر فراواں ہو۔

یہ دل میں سوچ کر شہر میں آ ایک امیر کے درِ دولت پر جا کر دربانوں سے کہا :“مسافرہوں بے خانماں، کسی قدردان امیر کو ڈھونڈتا ہوں۔ تمہارے صاحب کے اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ پسندیدہ سن کر آیا ہوں، اگر بندہ کو اپنی بندگی میں لیں اور بندہ نوازی فرمائیں، بہ دل و جان خدمت بجا لاؤں۔”

ان میں سے ایک نے جا کر امیر کی خدمت میں شہزادے کی کیفیت بیان کی۔ فرمایا “اسے حاضر کر!” وہ لے گیا، امیر نے اُس کے منہ کو دیکھ کر کہا “یا الٰہی! کیا آفتاب چوتھے آسمان سے انسان کے قالب میں آیا یا کوئی غِلمان بہشتِ بریں سے؟”

پیشانیٔ نازنین پہ اس کے
چمکے تھا ستارۂ بلندی

غرض کہ امیر نے اس کو اپنی خدمت میں سرفراز کیا۔

تیسری داستان

تاج الملوک کے تختہ نرد کھیلنے کی دلبر لکھا بیسوا سے اور جیتنے میں مال اور اسباب کے

جب تاج الملوک کو امیر کی خدمت میں کئی مہینے گزرے اور اس نے وجہ مقررہ سے کچھ روپے جمع کیے تو ایک روز اس کی خدمت میں عرض کی کہ ایک فدوی کے آشناؤں میں اس شہر میں تازہ واردہے، اگر حکم ہو تو ہر روز چار گھڑی کے واسطے اس کے پاس جایا کروں،دل بہلایا کروں۔ امیر نے کہا بہتر۔

پس شہزادہ ہر روز تختہ نرد کھیلنے والوں کے پاس جا بیٹھتا اور کھیلتا۔ جب قانون اس کے دریافت کر لیے اور ہر ایک سے بازی ہاتھ آنے لگی تو یہ تجویز کیا کہ اب اس عیّارہ سے کھیلنے اور اپنے طالع کے قرعہ کو تختۂ امتحان پر پھینک کر خدا کی قدرت کا تماشہ دیکھیے کہ پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ پھر ایک روز شہزادہ اس کے دروازے پر گیا دیکھا کہ ایک بڑھیا اندر سے باہر آتی ہے کسی سے پوچھا یہ کون ہے؟ اس نے کہا یہاں کی یہی مدار المہام ہے۔ بے مشورہ اس کے وہ کچھ کام نہیں کرتی ہے۔

تاج الملوک نے دل سے کہا کہ اب کچھ مکر پھیلایا چاہیے، دام محبت میں اسکو لایا چاہیے، اس کے ہاتھ میرا کام نکلے تو نکلے۔ اس دن تو شہزادہ چلا آیا پھر ایک روز وہی بڑھیا اس کو دکھائی دی، سلام کیا اور پاؤں پر سر رکھ کر بے اختیار رونے لگا۔ بڑھیا نے پوچھا تو کون ہے اور کہاں سے آیا ہے مگر دیوانہ ہے یا مظلوم کہ اس طرح پھوٹ کر روتا ہے۔ شہزادے نے کہا:

کیا مجھ سے پوچھتی ہو میں ہوں کمال مضطر
دنیا میں کوئی مجھ سا ڈھونڈھو تو پاؤ کمتر
آتش سے غم کی میرا سینہ جلا بھنا ہے
دو دن کی زندگانی مجھ پر عجیب بلا ہے
گردش سے آسمان کی کیا کیا ستم ہے مجھ پر
سایہ بغیر اپنا ساتھی نہ دوسرا ہے

مسافر ہوں بے سر و پا۔ اس شہر یگانہ میں نہ کوئی یار نہ آشنا۔ بجز باری تعالی کی ذات کے نہ اپنا کوئی پشت پناہ، نہ کسی کا آسرا۔ پورب دیس میں میرا وطن ہے، ایک میری دادی تھی، وہ بھی قضائے الٰہی سے کئی برس ہوئے کہ اس عالم فنا سے ملک بقا کو کوچ کر گئی۔ اس کے تمام آثار تجھ میں پائے، اس واسطے بصد آرزو تیری پابوسی کی۔ اگر میرے حال زار کو الطاف کی نظر سے تو دیکھے اور اس عاجز کی غریبی اور بے کسی پر رحم فرمائے تو میں تیرا ہو کر رہوں اور دادی کی جگہ تجھ کو تصور کروں۔

نظر سے اپنی جو کرتے ہیں خاک کو اکسیر
کبھی تو گوشۂ چشم اس طرف کریں للہ

ایسی چکنی چپڑی باتیں کیں کہ اس پیر زال کا دل پھسل گیا، بلکہ شعلۂ آواز سے موم کی مانند پگھل گیا۔ بولی کہ اے جوان! میرا بھی اس جہاں میں کوئی نہیں رہا، آج سے میں تیری دادی تو میرا پوتا۔ پھر تاج الملوک نے کہا، دادی صاحب! کئی روز سے میں ایک جگہ نوکر ہوں، اس کی فرمانبرداری لازم ہے۔ ہر روز تمہاری قدم بوسی کے واسطے نہ پہنچ سکوں گا، مگر کبھی کبھی۔

بڑھیا نے کہا “بیٹا کیا مضائقہ ہے”۔

اگرچہ شہزادے نے ہر روز کے آنے کا عذر کیا لیکن مدام اس غم خوار کے گھر جاتا اور چاپلوسی اور تملق کی باتیں بناتا۔ آخرش رفتہ رفتہ اس کا محرم راز ہوا۔

اسی طرح سے کچھ روز گزرے۔ ایک دن شہزادہ کچھ روپے اس کے پاس لے گیا اور کہا “دادی صاحب! یہ روپے رکھ چھوڑو۔ اگر کسی کام میں درکار ہوں تو خرچ کرو”۔

وہ بولی “بیٹا تیرے روپے میں لے کر کیا کروں گی۔ خدا کا دیا میرے گھر میں سب کچھ ہے، کسی چیز کی کمی نہیں۔ اگر تجھے کسی کام کے لیے کچھ درکار ہو تو یہ نقد و جنس تیرا ہے۔ بے وسواس اپنے تصرف میں لا”۔

کھانے کے لیے یہ زر ہے اے نور بصر
رکھنے کے لیے تو سنگ و زر یکساں ہے

غرض شہزادے نے جب اس کو اپنے حال پر مہربان پایا، ایک روز ادھر ادھر کا تذکرہ کرکے کہنے لگا کہ اے دادی صاحب! تم کو کچھ معلوم ہے کہ جو کوئی اس عیارنی کے ساتھ تختہ نرد کھیلتا ہے اس سے بازی نہیں پاتا؟

اس نے جواب دیا “بیٹا یہ راز بہت نازک ہے، خبردار ہرگز کسی سے نہ کہو، ایسا نہ ہو کہ یہ بات طشت از بام ہو۔ اگر اس کی بھنک اُس خام پارہ کے کان میں پہنچے تو میرے زوال کا باعث ہو”۔

شہزادے نے کہا “استغفر اللہ یہ کیا بات ہے”۔

بڑھیا بولی کہ اس نے ایک بلی اور چوہے کو پرورش کرکے یہ سکھایا ہے کہ بلی کے سر پر چراغ رکھے تو وہ لیے رہے اور چوہا چراغ کے سائے بیٹھا رہے، جب اس کی خاطر خواہ پانسا نہ پڑے تب بلی چراغ کو ہلا کر نردوں پر سایہ کرے اور چوہا پانسے کو اس کے حسب دل خواہ الٹ دے۔ پس جو کوئی اس سے کھیلنے آتا ہے وہ بے چارہ بازی ہار جاتا ہے اور یہ بلی چوہے کی مدد سے بازی جیت لیتی ہے، لیکن کسی کھلاڑی پر یہ بھید آج تک نہیں کھلا اور جو کوئی اس ارادے پر آیا اس نے داغ ندامت کا اپنی پیشانی پر کھایا۔

تاج الملوک جب یہ بات دریافت کر چکا، بازار میں گیا اور ایک نیولے کا بچہ مول لے کر اسے آستین میں رکھ کر یہ سکھانے لگا کہ جوں ہی وہ چٹکی کی آواز پائے وہیں بچۂ پلنگ کی طرح آستین سے کود کرباہر آئے۔ جب اس طرح سیکھ سکھا کر وہ طاق ہوا، تب ایک روز شہزادے نے بڑھیا سے یہ مکر پھیلایا کہ میں اب اس نوکری سے اداس ہواہوں۔ اگر تو ہزار روپے سے میری مدد کرے تو تجارت کروں۔ بڑھیا نے کوٹھری میں لے جاکر کہا کہ دیکھ بیٹا یہ سب توڑے حاضر ہیں، جتنا جی چاہے اتنا لے لے۔ تب شہزادہ ہزار روپیہ اس سے لے کر امیر کی خدمت میں گیا اور عرض کی کہ میرے آشناؤں میں سے ایک شخص کا آج بیاہ ہے۔ اگر سرکار سے ایک خلعت فدوی کو مرحمت ہو تو اس مجلس میں جائے، ہم چشموں میں عزت پائے۔

امیر نے اپنا ملبوس خاص شہزادے کو عنایت کیا اور فرمایا کہ گھوڑوں میں سے بھی جو تیرے پسند ہو لے جا۔ تب تاج الملوک حضور کے خاصے پر سوار ہو کر اس بیسوا کے دروازے پر گیا اور گھوڑے سے اتر کر بے باکانہ قدم اندر رکھا۔ اس کی ہیئت سے اس کے منہ کا رنگ اڑ گیا۔ گھبرائی اور استقبال کے لیے دوڑی آئی۔ شہزادہ نے کہا کہ تو ایک مدت سے اس شہر میں مسافر کی دم ساز رہتی ہے اور عاشق مزاجوں کی ہمراز رہتی ہے اور میں کہ اس شہر کے والی کا خواص ہوں، کبھی مجھ سے رجوع نہیں ہوتی۔ بہر حال لا کچھ تحفہ یاروں کی بھی نذر کر۔

اس نے شہزادہ کو باعزاز تمام جڑاؤ کرسی پر بٹھایا اور آپ ہٹ کر پیچھے بیٹھی۔ اس میں شاطر فلک کج باز نے اکتشاف کے سنہرے نرد کو مغرب کے گھر میں چھپایا اور فرق دان کی روپہلی گوٹوں کو تختۂ طلوع پر بٹھایا۔ شہزادے نے کہا میں نے سنا ہے کہ تجھ کو نرد کھیلنے کا بڑا شوق ہے۔ آ ایک بازی کھیلیں۔ اس مکرہائی نےپہلے تو انکار کیا، آخر شہزدے کے کہنے سے تختۂ نرد منگواکر بدستورِ قدیم بلی کے سر پر چراغ رکھا اور لاکھ روپے کی بازی بد کر پانسہ پھینک دیا۔

پہلی بازی تو شہزادے نے جان بوجھ کر ہار دی اور اس نے بلی چوہے کی مدد سے جیت لی پھر دوسری بازی رکھ کر کھیلنے بیٹھی جو ایک پانسہ اس کے خاطر نہ پڑا تو وہیں بلی نے سرہلایا۔ چوہے نے چاہا کہ پانسے کو الٹ دے۔ تاج الملوک نے چٹکی بجائی، نیولا بچۂ پلنگ کی طرح جست کر کے آستین سے باہر نکلا، چوہا تو اس کی صورت دیکھتے ہی کافور ہو گیا اور بلی پر بھی دہشت غالب ہوئی، چراغ سر سے پھینک کر ہوا ہوئی۔ شہزادے نے برہم ہو کر کہا “اے عیارنی تو نے کیا بھگل نکالا ہے۔ باوجودیکہ تیرے گھر گوہر شب چراغ تک ہیں، ایک شمع دان بھی نہیں رکھتی ہے؟”

وہ اس گفتگو سے نہایت خجِل ہوئی، غیرت سے پسینے پسینے ہوئی۔ اسی وقت جڑاؤ شمع دان منگوا کر رکھا اور دونوں پھر اسی کام میں مشغول ہوئے۔

کہنے والے نے یوں کہا ہے کہ شہزادے نے اسی رات میں سات کروڑ روپے جیتے۔ اس میں صبح صادق ہو گئی۔ تاج الملوک نے کہا کہ اب حضرت جہاں پناہ کے ناشتے کا وقت عنقریب آ پہنچا ہے، اگر اس وقت میں حضور میں حاضر نہ ہو سکا تو موجب قباحت ہوگا۔ یہ کہہ کر اٹھ کھڑا ہوا اور وہ روپے شام کے وعدے پر اس کے پاس چھوڑ کر امیر کی خدمت میں آ کر حاضر ہوا۔ شام کے انتظار میں تمام دن جوں کا توں کاٹا۔ سورج کے ڈوبتے ہی سج سجا کے ایک ایسے گھوڑے باد رفتار پر کہ جس کی جلدی سے باد صبا بھی ہر دم دمِ سرد بھرتی تھی، سوار ہو کر اس کے گھر پہنچا۔

یہ خبر سن کر اس نے چند قدم چار ناچار استقبال کیا اور شہزادے کو بدستور کرسی پر لا کر بٹھایا۔ کھانا کھانے کے بعد کروڑ روپے کی بازی بد کر کھیلنے لگی۔ کہتے ہیں کہ اس کھلاڑن نے آدھی رات کے عرصے میں قریب سو کروڑ کے جو اس کے خزانے میں تھے، ہار دیے۔ تب ششدر ہو کر شش و پنج کرنے لگی۔ آخر اثاث البیت کی نوبت پہنچی، وہ بھی تاج الملوک کے ہاتھوں ہاتھ، ہاتھ لگا۔ پھر اس نے کہا “اب تیرے پاس کچھ باقی نہیں رہا، اتنی رات کس شغل سے کٹے گی؟ اب پورب اور پچھم کے شہزادے جو تو نے قید کیے ہیں، ان پر بھی ایک بازی کھیل۔ اگر تو جیتی تو لاکھ روپے میں دوں، نہیں اِن کو بھی لے لوں اور جو چاہوں سو کروں”۔

اس بات پر وہ راضی ہوئی۔ پلک مارتے شہزادے نے وہ بھی بازی جیت لی۔ تب وہ بولی “اے جواں بخت! ایک بار اور میں اپنا نصیب آزماؤں، اگر یہ بازی میرے ہاتھ آئی تو اپنی سب جنس ہاری ہوئی تجھ سے پھیر لوں، نہیں تو تیری لونڈی ہو کر رہوں”۔ شہزادے کے طالع کا ستارہ آسمان ترقی پر چمک رہا تھا، بات کی بات میں وہ بھی بازی جیت لی۔ تب وہ سرو قد اٹھ کھڑی ہوئی اور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگی کہ اے جوان! خدا کی مدد سے تو نے مجھے اپنی لونڈیوں میں ملایا، غرض کہ جس شکار کے واسطے ساری زمین کے بادشاہوں نے تمام عمر صرف کی، بخت بلند کی مدد سے اس کو تو نے ہاتھوں ہاتھ پکڑ لیا۔ اب یہ تیرا گھر ہے، مجھ کو اپنے نکاح میں لا اور باقی عمر دولت و حشمت کے ساتھ یہیں بسر کیے جا۔

تاج الملوک نے کہا، یہ مجھ سے نہ ہو سکے گا۔ مجھے ایک بڑی مہم درپیش ہے۔ اگر حق تعالیٰ کے فضل وکرم سے اس پر فتحیاب ہوا تو البتہ تو بھی کامیاب ہوگی۔ اب تجھے لازم ہے کہ بارہ برس تک میرے انتظار میں نیک بختی کا لباس پہن کر حق تعالی کی عبادت میں مشغول رہے اور اپنے کسب سے ہاتھ اٹھائے۔ اس نے کہا اے بوستان سرداری کے نو نہال! اب تک تیری جوانی کا شگوفہ نہیں پھولا اوربہار شباب کے چمنوں پر صرصرکا جھونکا بھی نہیں لگا۔ کیا لازم ہے کہ تو سفر کر کے آتش کدۂ محنت میں عمداً آپ کو گرائے اور آتش سر گردانی قصر شادمانی میں قصداً لگائے؟ مجھ کو بھی اس کیفیت سے مطلع کر کہ میں بھی تیرے ساتھ جب تک میرے قالب میں جان ہے اور مہم سر نہ ہو، سعی و تردد کروں کہ اب مجھ کو تیرے بغیر یہ گھر بندی خانہ ہے:

‌اے فصیحی! گھر بغیر از یار کے زندان ہے
ہر در و دیوار پہ اس بات کو لکھ دیجیے

جب اس علامہ نے اس راز سر بستہ کے کھولنے میں حد سے زیادہ مبالغہ کیا، تب شہزادےنےکہا سن! میرا نام تاج الملوک ہے  اور زین الملوک شرقستان کے بادشاہ کا بیٹا ہوں۔ قضائے کار میرے باپ کی آنکھیں جاتی رہیں۔ حکیموں اور طبیبوں نے بالاتفاق گل بکاؤلی کے سوا اور کوئی دوا تجویز نہیں کی۔ اسی روز سےمیرے چار بھائی جو چند روز سے تیری قید میں ہیں، گل مذکور کی تلاش کو نکلےہیں۔ میں بھی خفیہ ان کے ساتھ تھا، وہ تو تیرے مکر و فریب کے دام میں پھنس گئے ہیں۔ میں سینکڑوں حیلوں سے تجھ تک پہنچا اور غالب ہوا۔ اب اسی کی تلاش میں جاتا ہوں۔ اگر گل مقصود ہاتھ آیا تو خیر۔ نہیں تو اس کے پیچھے جان لے کہ میں نے اپنی جان سے ہاتھ اٹھایا۔

اس نے سن کر کہا اے شہزادے یہ کیا خیال باطل تیرے دل میں سمایا اور اندیشۂ فاسد تیرے جی میں آیا۔ ذرہ کو کیا مجال کہ اپنے کو آفتاب کی منزل تک پہنچائے۔ پرندے کو کیا طاقت آپ کو ہمدم صبا بنائے۔ سن بکاؤ لی پریوں کے بادشاہ کی بیٹی ہے۔ اس کے باغ میں وہ گل ہے، پر اس کی چار دیواری کو آفتاب بھی نظر اٹھا کے نہیں دیکھ سکتا۔ ہزاروں دیو اس کی نگہبانی کے واسطے چاروں طرف مستعد رہتے ہیں۔ کسی ذی روح کو طاقت نہیں کہ بے اجازت ان کے وہاں تک پہنچے اور بیشمار پریاں پاسبانی کے واسطے ہوا پر مقرر ہیں کہ کوئی پرندہ پر نہ مارسکے۔ اس کے سوا زمین پر سانپ بچھو بے انتہا پہرہ چوکی دیتے ہیں کہ کوئی شخص کسی راہ سے بھی اس تک نہ پہنچ سکے اور زمین کے پیچھے چوہوں کا بادشاہ ہزاروں چوہوں کے ساتھ رات دن نگہبانی کرتا ہے کہ سرنگ کی راہ سے بھی کسی کی رسائی نہ ہو۔ سچ تو یہ ہے کہ چیونٹی چاہے کہ رینگتی ہوئی کسی حیلہ سے اس تک پہنچے ممکن نہیں۔ اے شہزادے! تو اس خرابی میں زنہار گرفتار نہ ہو۔ قرآن شریف میں ہے کہ نہ ڈالو تم ہاتھ ہلاکت کی طرف اور سعدی شیرازی نے بھی فرمایا ہے جس کا ترجمہ یہ ہے:

کوئی مرتا نہیں ہے بن آئے
لیک تو منہ میں اژدہے کے نہ جا

شہزادے نے کہا فی الحقیقت یہی بات ہے، مگر حق تعالیٰ نے اپنی مہربانی سے خلیل اللہؑ پر آگ کو گلزار کیا تھا۔ اگر میں عاشق ثابت قدم ہوں اور میرے عشق کا جذبہ صادق ہے تو البتہ شاہد مراد کے دامن تک میرا دست رس ہوگا۔ ؏

کیا کر سکے ہے دشمن جو دوست مہربان ہو

میرے چھوٹے سے قد پر نہ جا۔ اگرچہ بنی آدم قوت میں دیو سے کمتر ہیں لیکن فہم و فراست میں زیادہ تر ہیں۔ چنانچہ حق تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ ہر آئینہ بزرگی دی ہے میں نے بنی آدم کو۔

حکایت برہمن اور شیر کی

وہ تو سنی ہے یا نہیں کہ کسی جنگل میں ایک روز برہمن کا گزر ہوا۔ دیکھتا ہے کہ ایک شیر موٹی سی رسی سے جکڑا ہوا پنجرے میں بندھا ہے۔ وہ شیر برہمن کو دیکھ کر نہایت غریبی سے گڑگڑانے لگا کہ اے دیوتا میری اس حالت زار پر رحم کر اور اس قید سے نجات دے تو اس جاں بخشی کے عوض ایک نہ ایک دن میں بھی تیرے کام آؤں گا۔ برہمن سادہ لوح کا دل شیر کے بلبلانے پر بھر آیا مگر عقل کے اندھے کو یہ نہ سوجھا کہ دشمن ہے، اس کی بات کا اعتبار نہ کیا چاہیے۔ بے تامل قفس کا دروازہ کھول کر اس کے ہاتھ پاؤں کھول دیے۔ بند سے خلاصی ہوتے ہی اس خونخوار نے اس کو تہ اندیش کو گردن سے پکڑ کر اپنی پیٹھ پر ڈال لیا اور وہاں سے چل نکلا۔

شعر سعدی :

نیکی کرنی بدوں سے ایسی ہے
جیسے نیکوں سے کی بدی تو نے

برہمن نے کہا اے شیر! میں نے تجھ سے بھلائی کی نیکی کی امید پر اور تو ارادہ بدی کا رکھتا ہے۔؏

میں نیکی سے گزرا، بدی بھی نہ کر

شیر بولا کہ ہمارے مذہب میں نیکی کی جزا بدی ہے، اگر میرے کہنے کا اعتبار نہیں تو چل کسی دوسرے سے پُچھوا دوں اور جو وہ کہے سو صحیح ہے۔ اس بات پر وہ گوبر گنیش راضی ہوا۔ اس جنگل میں بڑا پرانا برگد کا درخت تھا۔ شیر اور برہمن اس کے نیچے گئے۔ شیر نے اپنی درخواست اس سے ظاہر کی، اس نے اس کے جواب میں کہا “شیر سچ کہتا ہے، اس وقت میں نیکی کا بدلہ بدی کے سوا اور کچھ نہیں۔ اے برہمن! سن کہ میں بر سرراہ ایک پاؤں سے کھڑا ہوں اور سب چھوٹے بڑے مسافروں پر سایہ کرتا ہوں لیکن جو مسافر گرمی کا مارا میرے سایہ میں آکر دم لیتا ہے، بیٹھ کر ہوا کھاتا ہے وہ چلتے وقت سر پر سایہ کرنے کو میری ڈالی توڑ کر لے جاتا ہے۔ کوئی میری شاخ کی لاٹھی بناتا ہے۔ بتا کہ بھلائی کا عوض برائی ہے یا نہیں۔”

شیر نے کہا کہو دیوتا اب کیا کہتے ہو۔ اس نے کہا کسی اور سے بھی پوچھ لو۔ شیر نے چند قدم آگے جا کر راستے سے اس بات کو پوچھا۔ اس نے کہا “شیر سچا ہے۔ سنو مصر جی! مسافر مجھے بھول کر ادھر ادھر بھٹکتا پھرتا ہے۔ جب میں اسے ملتا ہوں وہ بآرام تمام اپنے منزل مقصود کو پہنچتا ہے، لیکن اس کے بدلے وہ میری چھاتی پر پیشاب کرتا ہے، جاء ضرور بھی پھرتا ہے۔”

برہمن بولا “تیسرے سے اور بھی دریافت کر۔ پھر تیری جو رضامندی ہووے بہتر ہے۔”

شیر آگے بڑھا، سامنے سے ایک گیدڑ ٹیلہ پر بیٹھا نظر آیا۔ اس نے ارادہ بھاگنے کا کیا۔ شیر للکارا کہ اے گیدڑ تو کچھ اندیشہ نہ کر، ہم ایک بات تیرے پاس پوچھنے آئے ہیں۔ تب وہ بولا کہ حضرت کو جو ارشاد کرنا ہے دور سے فرمائیے کہ خود بدولت کے رعب سے اس عاجز کا طائر ہوش وحواس اڑا جاتا ہے۔ شیر نے کہا کہ اس برہمن نے مجھ سے نیکی کی اور میں اس سے ارادہ بدی کا رکھتا ہوں۔ تو کہہ اس مقدمہ میں تو کیا کہتا ہے؟

گیدڑ نے عرض کی “یہ بات جو آپ ارشاد کرتے ہیں اس خاکسار کے خیال میں نہیں آتی۔ آدمی کی کیا مجال جو قوی ہیکل جانوروں کے شہنشاہ سے کہ جس کے رو برو انسان پشّے سے بدتر ہے، کچھ نیکی کر سکے۔ مجھ کو اس بات کا ہرگز اعتماد نہیں آتا، جب تک کہ اپنی آنکھوں سے نہ دیکھوں۔”

شیر نے کہا آ ہم دکھا دیں۔ پھر شیر برہمن کو لیے آگے آگے اور گیدڑ آہستہ آہستہ پیچھے روانہ ہوا۔ ایک آن میں پنجرے کے پاس تینوں آ پہنچے۔برہمن نے کہا اے گیدڑ! شیر اسی پنجرے میں بند تھا۔میں نے خلاص کیا۔کہہ تیرا کیا فتوی ہے؟

گیدڑ بولا کہ اتنا بڑا شیر اس چھوٹے سے پنجرے میں کیونکر تھا! اب میرے روبرو پھر اس میں جائے اور جس طرح اس کے ہاتھ پاؤں بندھے تھے اسی صورت سے باندھ کر پھر تو کھولے تو میں جانوں۔

شیر اندر گیا اور برہمن اس کے ہاتھ پاؤں باندھنے لگا۔گیدڑ نے کہا اگر آگے سے اس کے باندھنے میں کچھ بھی فرق کرے گا تو باللہ میں ہرگز اس بات کا جواب نہ دے سکوں گا۔ اس نے گیدڑ کے کہنے سے شیر کو خوب مضبوط باندھا اور پنجرے کا دروازہ بند کر کے کہا۔ اے گیدڑ دیکھ اس طرح یہ گرفتار تھا جو میں نے کھولا۔

گیدڑ بولا۔“پتھر پڑیں تیری عقل پر۔اے نادان ! ایسے دشمن قوی سے نیکی کرنی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مارنی ہے۔تجھے کیا ضرورت کہ دشمن کو قید سے چھڑائے۔ جا اپنی راہ لے، دشمن تیرا مغلوب ہوا۔”

اے عزیز سچ ہےجو کوئی بے صبری اور فریاد اپنے نفس کی جو مثل شیر جسم کے پنجرے میں بند ہے، سنے اور اس کے حال پر رحم کر کے صبر و توکل کی رسی اس کے ہاتھ پاؤں سے بے محابا کھول دے تو بہر صورت آپ کو اس کا لقمہ بنائے۔مگر خضر رہنما کی دستگیری سے بچے تو بچے۔

اے بیسوا! یہ ذکر اس واسطے میں نے کیا جو تو جانے کہ طاقت جسمانی، قوت روحانی پر زیادتی نہیں رکھتی۔ اب تجھ پر یہ لازم ہے کہ پورب پچھم کے شہزادوں کو جو تونے اپنے مکرو فریب سے قید کیا ہے چھوڑ دے، حق تعالی تجھ کو بھی دوزخ کی قید سے نجات دےگا۔

لیکن اپنے بھائیوں کے واسطے بہت تاکید سے کہا کہ جب تک خدا مجھے پھر یہاں لائے، ان کی حفاظت قرار واقعی کیجو۔ یہ کہہ کر رخصت چاہی تب اُس نے با چشم خوں بار یہ چند اشعار پڑھے :

آتش سوزاں میں تو اے شوخ بے پروا نجا
نقد جانِ بے کساں کو چھوڑ کر تنہا نجا
تشنہ لب اے ابر نیساں اس صدف کو چھوڑ کر
جانبِ ویرانہ ظالم اس قدر دوڑا نجا
چل رہی ہے چار سو باد حوادث تیز و تند
کلبۂ احزاں سے تو اے شادیِ دلہا نجا
تو نہیں واقف ہے حیلے سے زمانے کے ابھی
یوسفِ دوراں یہ زنداں ہے تو پھر آ نجا
جس میں تو جاتا ہے وہ ہے بحر ناپیدا کنار
مان میری بات کو ظالم یہیں رہ جا نجا
حشر میں پروانے کو ظالم تو کیا دے گا جواب
چھوڑ کر اُن کو کہیں اے شمع نور افزا نجا

اے عزیز! تو نے معلوم کیا کہ یہ میں نے کیا کہا۔ اس بات کا حاصل یہ ہے کہ دلِ عرش منزل تیرا جو رونق بخش تختِ بادشاہی کا اور دیکھنے والا مادی مجرد کا تھا۔ جب اُس کی آنکھ اس خلقت ناپاک پر پڑی، اُس کی بصارت کو زنگ لگا اور دیدۂ روشن تاریک ہوگیا۔ اب اٹھ اور سرمۂ بینائی ڈھونڈ، یعنی گل مراد کی تلاش میں کوشش کر، لیکن راہ میں دنیائے عیّارہ کی بازی میں کہ تختہ فریب کا دھرا ہوا ہے، مشغول نہ ہونا۔ مبادا وہ تجھ کو پہلے فریفتہ کرکے بتّا دے اور بعد اس کے مکر کی بلّی اور فریب کے چوہے کی مدد سے اچھا پانسا اپنے حسب مرضی پھینکے اور اچانک تیرے توکل کا سرمایہ آخر ہوجائے، تب تجھ کو دائم الحبس کر رکھے۔ اگر تو صبر کے نیولے کی اعانت سے اس مکارہ کی بازیِ طلسم کو درہم برہم کردے تو وہ جو بادشاہوں اور گردن کُشوں کی ہم نشیں ہے تیری فرماں بردار لونڈی ہوکر چاہے کہ تجھ کو اپنے حسن وجمال پر لُبھائے۔ پھر اگر تو اس کے منہ پر الفت سے نگاہ نہ کرے تو یقین ہے کہ گل مراد کے دامن تک تیرا دسترس ہو۔

چوتھی داستان

تاج الملوک کے پہنچنے کی بکاؤلی کی سرزمین میں دیو کی مدد سے

راوی شیریں زبان یہ داستان یوں بیان کرتا ہے کہ تاج الملوک نے ٹھاٹھ قلندرانہ کیا اور چہرے پر راکھ مل کر خدا کا نام لے کر چل نکلا۔

بعد کئی روز کے ایک ایسے وادی پُرخار میں کہ جس کی انتہا نہ تھی، تاریکی سے ہر گز دن رات میں فرق معلوم نہ ہوتا تھا، سپیدی اور سیاہی میں ذرا بھی امتیاز نہ کیا جاتا تھا، وہاں جا کے وارد ہوا اور اپنے دل کو ڈھارس سے کہنے لگا کہ اے عزیز! یہ پہلے ہی بحر مصیبت کی لہر ہے، تجھ کو ابھی سارا دریا کا دریا تیرنا ہے، ہمت کی کمر چست باندھ اور سمندر کی مانند آپ کو آتش کدہ میں ڈال، دیکھ تو خدا کیا کرتا ہے۔

سعدی:

غوّاص گر اندیشہ کند کام نہنگ
ہرگز کند درّ گراں مایہ بہ چنگ
غواص کرے خوف جو گھڑیالوں سے
تو ایک بھی موتی نہ لگے ہاتھ اسے

یہ سوچ کر آخر اس صحرا میں جانکلا۔ جو قدم پڑتا تھا، کانٹا گڑتا تھا، ہر گام پر آہ و نالہ کرتا تھا۔ غرض اس دشت پُرخار میں جو جاہلوں کے دل سے تاریک تر تھا، درندوں کا مسکن پر خطر تھا، اگر ایک دم وہاں آفتاب آئے تو اپنا نور کھو جائے۔ ہر طرف اژدہے بھوکے پیاسے منہ کھولے پڑے تھے گویا خالی گھروں کے دروازے، چھالوں کے سوا نہ کہیں دانہ، پھپھولوں کے سوا نہ کوئی آبشار۔ مدت تک شہزادہ دائیں بائیں چاروں طرف دوڑتا پھرا، جھاڑیوں کی رگڑوں سے بدن چھل گیا، ہر ایک عضو سے لہو ٹپکنے لگا، یہاں تک کہ پھول سے تلوے اس کے ببول کے کانٹوں سے چِھد گئے۔

کہتے ہیں کہ شہزادے نے ایسی مصیبت اور محنت اٹھا کر بارے اس جنگل کو طے کیا اور لاکھوں سجدے شکرِ الٰہی کے بجا لا کر آگے بڑھا۔ سامنے سے ایک دیو پہاڑ سا بیٹھا نظر آیا۔ وہ سمجھا یہ پہاڑ ہے، جب نزدیک پہنچا دفعتاً اس ظالم نے اپنےسر کو بلند کیا۔ ہمسر فلک ہوگیا اور مارے خوشی کے گرج کر بولا کہ تصدّق ہو جاؤں میں اپنے راز‍ق کے اور قربان ہوجاؤں اس خالق کے کہ جس نے ایسا لقمۂ لطیف مجھ دیو کثیف کے واسطے گھر بیٹھے بھیجا۔ یہ کہہ کر شہزادے سے مخاطب ہو کر بولا کہ اس ایامِ جوانی میں تجھے کس نے عروسِ اجل کا مشتاق کیا اور حلاوت زندگی کو تجھ پر شاق کیا جو تو شہر حیات کو چھوڑ کر پائے خواہش سے ویرانۂ موت میں آیا؟

شہزادہ اس کی ہیبت سے تھرّایا، چہرے کا رنگ پتنگ سا اڑ گیا، منہ پر ہوائیاں چھوٹنے لگیں۔ کہا اے دیو! تو میرا حال پوچھتا ہے کہ زندگانی اس دنیائے فانی کی مجھ پر وبال ہوئی ہے۔ اگر مجھے اپنی جان عزیز ہوتی تو میں ہرگز اپنے آپ کو موت کے پنجے میں نہ ڈالتا اور تجھ جیسے خونخوار کے دام میں گرفتار نہ ہوتا۔ اب مجھ کو زندگانی کی صعوبت سے چھڑا اور بلا توقف میرا کام تمام کر کہ ایک ساعت کی زیست مجھ پر سو برس کی مشقت کے برابر ہے:

کٹے خوشی سے تو ہے زیست خضر کی تھوڑی
نہیں تو نیم نفس بھی بہت ہے جینے کو

دیو کو اس کی درد انگیز باتوں پر رحم آیا۔ حضرت سلیمان علیہ السلام کی قسم کھا کر یہ بات زبان پر لایا کہ اے آدم زاد! میں تجھے ہرگز رنجیدہ خاطر نہ کروں گا اور سر مو تصدیع نہ دوں گا بلکہ اپنی پناہ میں رکھ کر جس مطلب کے واسطے نکلا ہے اس میں کوشش اور مدد کروں گا۔

پس ہر روز دیو شہزادے پر شفقت زیادہ کرتا اور بارہا دلاسا دیا کرتا۔ تاج الملوک میٹھی میٹھی باتیں کر کے اس سے شیر و شکر کے مانند مل گیا اور چاپلوسی اور تملق سے اس کو محبت کے شیشے میں اتارا۔

القصہ ایک روز دیو نے مہربان ہو کر کہا تیری غذا کیا ہے، میں لاؤں؟ تاج الملوک نے عرض کی کہ آدمیوں کی غذا شکر، گھی، میدہ، گوشت وغیرہ یہی چیزیں ہیں۔ یہ سنتے ہی دیو اٹھ دوڑا اور ایسے قافلے پر پہنچا کہ جس کے لوگ شکر اور گھی اور میدہ اونٹوں پر لادے ہوئے کہیں لیے جاتے تھے اور وہ لدے لدائے اونٹ اٹھا کر شہزادے کے آگے لے آیا۔ کہا کہ اپنی خورش لے اور اس سے کچھ کھا لے۔

تاج الملوک نے اونٹوں پر سے وہ سب اتار لیا اور انہیں جنگل میں چھوڑدیا۔ پھر ہر روز اپنے کھانے کے موافق کچی پکی روٹی پکا کر کھانے لگا۔ اسی طرح چند روز گزرے۔ ایک دن شہزادے نے کئی من میدا لےکر اس میں گھی شکر ملا کر بڑی بڑی پتھر کی چٹانوں پر ڈال کے ہاتھ پاؤں سے خوب روند کر گوندھا۔ پھر ادھر اُدھرسے سوکھی لکڑیاں جمع کرکے روغنی روٹ سینک سانک کے تیار کیے اور ایک اونٹ کے کباب بھی خوب نمکین بھونے۔ دیو نے دیکھ کے پوچھا کہ آج تو نے کیوں اتنی تکلیف اٹھائی اور کس واسطے فضولی پر کمر باندھی؟ تاج الملوک نے کہا یہ سب تمہارے لیے ہے تا کہ تم بھی ایک نوالہ اس میں سے کھا کر آدمیوں کے کھانے کی لذت دریافت کرو۔ دیو نے ایک بارگی سب کا سب اٹھا کر منہ میں ڈال لیا۔ ازبس کہ اس طرح کے کھانے کی اس نے کبھی لذت نہ چکھی تھی، مارے َخوشی کے اچھل اچھل کر کھاتا تھا اور بار بار شاباش کہہ کر تعریف کرتا تھا اور کہتا تھا اےآدمی زاد! تونے مجھے ایسی چیز کھلائی کہ میرے باپ دادا نے بھی نہ کھائی ہوگی بلکہ آج تک کسی دیونے ایسے کھانے کی لذت نہ پائی ہوگی۔ اس روٹی کے ٹکڑے کا احسان میں ابد تک مانوں گا اور دل سے تیرا ممنون رہوں گا۔

شہزادے نے جو اس کی رغبت دیکھی تو ہر روز نئی قسم کی روٹی اور کباب تیار كركے كھلاتا، دیو نہایت محظوظ اور خوش ہوتا۔ یہاں تك كہ ایك روز خود بخود كہنے لگا، اے آدم زاد! تو ہر روز اس لقمۂ لذیذ سے مجھے ایسا خرسند ركھتاہے كہ اگر میرے بدن پر ہر روئیں كی جگہ زبان پیدا ہو اور ہر زبان سے شكر تیرے احسان كا ادا كروں تو بھی نہ ہو سكے، لیكن اب تك تیرا كوئی كام میرے ہاتھ سے نہیں نكلا، اگر كچھ مطلب ہو تو بیان كر۔

تاج الملوك نے عرض كی، میں نے سنا ہے دیوؤں كا مزاج اكثر جھوٹ كی طرف راغب ہوتا ہے اور اپنی بات پر قائم نہیں رہتے۔ اگر تم حضرت سلیمانؑ كی قسم كھاؤ تو میں اپنا راز تم سے ظاہر كروں۔ تب دیو بولاكہ میں اس بزرگ كی قسم سے ڈرتا ہوں، خدا جانےكیا كہے اگر وہ مجھ سے نہ ہو سكےتو مرنا پڑے۔ آخرش چار ناچارقسم كھائی اور پوچھا، كہو كیا مطلب ہے۔

تاج الملوك نے كہا، ایك مدت سے مجھ كو ملك بکاؤلی كی سیر كا سودا ہوا ہے۔ اس سرزمین میں پہنچادے یہی میری آرزو ہے۔ یہ بات سنتے ہی اس نے ایك دم سرد سینے سے كھینچا اور دو ہتھڑ اپنے سر پر مار كر بے ہوش ہو گیا۔ بعد ایك رات كے ہوش میں جو آیا، ہائے ہائے كرنے لگااور ماتم زدوں كی صورت بنا كر بولا، اے آدم زاد! حق تعالیٰ نے تیری اجل كا سر رشتہ میرے ہاتھ میں نہ دیا بلكہ میری حیات كی باگ تیرے ہاتھ میں دی۔

سن، بکاؤلی پریوں كے بادشاہ كی بیٹی ہے۔ اٹھارہ ہزار دیو بلكہ اس سے بھی زیادہ اس كے باپ كے غلام ہیں۔ وہ ہر طرف اس كے ملك كی پاسبانی كرتے ہیں۔ میں تو ایك طرف، وہاں كے خاص چوكیدار جو اس ملك سے نزدیك ہیں انہوں نے بھی اس شہر كی چاردیواری كو نہ دیكھا ہوگا۔ كسی ذی حیات كی كیا طاقت، بلكہ صرصر بھی ان دیوؤں كی اجازت كے بغیر جو برس روز كی راہ تك نگہبان ہیں ممكن نہیں كہ پہنچ سكے۔ او رپریاں بے شمار دن رات نگہبانی میں مشغول ہیں كہ كوئی پرندہ اس سرحد میں پر نہ مارے اور زمین كے نیچے چوہوں كا بادشاہ بے انتہا فوج سے اور سانپ بچھؤوں كا لشكر زمین پر محافظت كے واسطے مقرر ہے تا كوئی سرنگ لگا كر بھی نہ پہنچے۔ بھلا میں تجھے وہاں كیوں كر پہنچاؤں اور جو نہ پہنچاؤں تو یقین ہے كہ بسبب اس قسم كے جان سے جاؤں۔ اب تو ایك كام كر كہ آج پھر اسی طرح سے كھانا پكا، دیكھ كہ پردۂ غیب سے كیا ظاہر ہو اور میری كوشش كے ہاتھوں كیا بن پڑے۔

تاج الملوك نے وہی كیا، جب كھانا دیو نے تیار دیكھاچنگھاڑا، فوراً شمال كی طرف سے ایك اور دیو پہاڑ سا پہنچا اور دونوں دست بوسی كر كے بیٹھ گئے، پھر تاج الملوك پر دوسرے دیو كی نظر پڑی۔ شہزادہ نے فی الحال جھك كر سلام كیا، اس كے سلام كرنے سے دیو نے حیران ہو كر صاحب خانہ سے پوچھا كہ اے بھائی، یہ مقام تعجب كا ہے۔ اب تك كسی نے نہ دیكھا نہ سنا ہوگا كہ دیو اور آدمی سے موافقت ہواور دونوں ایك جگہ ہم نشین رہیں، اس كے یہاں رہنے كا كیا باعث ہے؟

دیو نے كہا، اے بھائی اس آدم زاد نے مجھ كو نہایت ممنون كیا ہے۔ مجھے كسی طرح اس سے بدی كرنی منظور نہیں اور تجھ كو اس واسطہ بلایاہےكہ تو بھی اس كے ہنر سے واقف ہو۔ یہ كہہ كے صاحب خانہ نے سامان مہمانی كا لا مہمان كے آگے ركھا، وہ دیو اس لقمۂ شیریں كو منہ میں ڈالتے ہی نہایت متلذذ ہو كر خوشی كے مارے ناچنے لگا۔ آخر كھا پی كر مہمان نے كہا كہ كہو بھائی تم سے بھی آج تك اس آدمی كا كا كچھ كام ہوا یا نہیں؟ گھر كے مالك نے جواب دیا كہ یہ شخص ایسے كام كے واسطہ تكلیف دیتا ہے كہ میرے حد امكان سے باہر او ر سعی و تردد كے احاطے سے خارج ہے۔ اگر تو مہربانی كرے تو شاید یہ كامیاب ہو۔ پھر اس نے پوچھا كہ یار ایسی كون سی بات ہے جو تم اس میں عاجز ہو؟ میزبان نے كہا، اس كو سیر ملك بکاؤلی كی خواہش ہے۔ مہمان بولا ؏

جو جان بوجھ كے پوچھے تو پھر خطا ہے سوال

صاحب خانہ نے كہاكہ میں نے حضرت سلیمانؑ كی قسم كھائی ہے، اگر تو توجّہ كركے اس كو شاہد مراد سے ملائے تو فی الحقیقت میری جان بخشی كرے۔

القصہ، اس دیو كی بہن حمّالہ نام، اٹھارہ ہزار دیو جو بکاؤلی كے ملك خاص كے چوكیدار تھے، ان كی وہ سردار تھی۔ اس كو ایك خط اس مضمون كا لكھا كہ اے خواہر عزیز! مجھ كو ان دنوں میں ایك سفر ایسا درپیش ہوا ہےكہ بغیر اس كے كسی صورت سے مجھے رہائی نہیں اور ایك مدت سے میں نے ایك آدم زاد كو بجائے فرزند پرورش كیا ہے۔ اب میرے جانے كے بعد گھر خالی رہے گا، اب بہر صورت جائے خوف وخطر ہے۔ اس واسطہ نورِ دیدہ كو تمہاری خدمت میں روانہ كیا چاہیے كہ اس كے حال پر شفقت كی نظر ركھیو۔ كسی طرح یہ تصدیع نہ اٹھائے۔ والسلام

اور قاصد کے ہاتھ میں دیا پھر تاج الملوک کی طرف منہ پھیر کر اشارہ کیا کہ اس کے ساتھ جا، میں نے تو کمندِ سعی و تردد اپنے بازو کے زور سے میدان مطلب میں پھینکی، اگر تیرا چوگانِ بخت مدد کرے تو شاید اپنے مطلب کو پہنچے۔

یہ کہہ کر قاصد کے بائیں ہاتھ پر بٹھادیا۔ اس نے داہنے ہاتھ کا سایہ کیا اور رستہ پکڑا۔ بخیریت تمام منزل مقصود پر جا پہنچا اور دور سے حمّالہ کو سلام کرکے شہزادے کو نامہ سمیت حوالہ کیا۔ وہ دیکھ کر نہایت خوشی سے باغ باغ ہو کر مانند غنچے کے کھل گئی۔

سماتی تھی نہ اپنے پیرہن میں
خوشی سے روح پھولے تھی بدن میں

الغرض قاصد کی طرف متوجہ ہو کے کہنے لگی، اگر بھائی مجھ کو سرخ گندھک کی کان بھیجتا یا حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی تو میں اتنا خوش نہ ہوتی جیسا کہ اس کے آنے سے خوشی ہوئی ہے۔ اس کے بعد اس کا لفافہ کھول کر اس کے احوال دریافت کرکے جواب لکھا:

اے بھائی مجھ کو ایک دن بستی کی سیر کا اتفاق ہوا تھا۔ وہاں ایک بادشاہ کی بیٹی خوبصورت لا ثانی میرے ہاتھ لگی، اس کو بیٹی کی طرح میں نے پرورش کیا، محمودہ نام رکھا، اب وہ چودہ برس کی چودھویں رات کے چاند سی ہوئی۔ کارساز نے اس کا جوڑا اس تقریب سے بھیجا، الحمدللہ کہ یہ بات خاطر خواہ بن پڑی، زیادہ شوق و ملاقات۔ والسلام

اور خط دے کر نامہ بر کو رخصت کیا، پھر محمودہ کو تاج الملوک کے ساتھ بیاہ دیا۔

اے عزیز! روشنی چشم ظاہر بین کی سات پردوں میں ہے اور تجلی باری تعالیٰ کی کہ نورِ دیدۂ اولیا ہے، ستر ہزار پردے میں ہے۔ اگر یہ ارادہ ہو کہ وہ پردے درمیان سے اٹھیں تو پہلے اس بڑے نگہبان دیونفس کا حجاب بیچ سے اٹھا کر اس کو بس میں کر کہ وہ لعین اپنی کجروی چھوڑ کر محمودہ کے مقام (اہل باطن کے اشغال سے ایک شغل محمودہ بھی ہے اور نورِ الٰہی اور اسرارِ معرفت نظر پڑتے ہیں) میں پہنچائے لیکن یہ بات یاد رکھ، اگر دیو سے الٹا کیجے تو سیدھا پڑے۔

پانچویں داستان

تاج الملوک کے پہنچے کی بکاؤلی کے باغ میں اور لینا گل مقصودکااور عاشق ہونا بکاؤلی پر

القصہ تاج الملوک چند مدت محمودہ کی صحبت میں رہا لیکن اس غنچہ دہن کا دل اوس کی باتوں سے نہ کھلا اور کبھی اس گل کے پاس شگفتہ ہوکر نہ بیٹھا۔ ایک رات محمودہ نے شہزدے سے کہا کہ اے مایہ نشاط! شاید آدمیوں کی یہی وضع ہے جو رات کو اپنی ہمخوابہ کے گلے لگ کر نہ سوئیں، الگ پڑے رہیں، بوس وکنار نہ کریں اور صبح کو جیسے کے تیسے اٹھ کھڑے ہوں۔ تاج الملوک بولا کہ عیش وعشرت انسان میں اس سے بھی کچھ زیادہ ہے، مگر کسی کھٹے میٹھے کو جی نہیں چاہتا بلکہ جان شیریں بھی تلخ ہے، کیونکہ ایک بڑی مہم درپیش ہےاور میں نے عہد کیا ہے کہ جب تک وہ سر نہ ہو دنیا کی تمام لذتوں کو حرام سمجھوں، کسی سے اختلاط نہ کروں۔

محمودہ بولی وہ کیا ہے بیان کر۔ کہا میں ملک بکاؤلی کے دیکھنے کی خواہش رکھتا ہوں۔ محمودہ نے جواب دیا خاطر جمع رکھو، ان شاء اللہ تعالٰی کل رشتۂ امید کی گرہ ناخنِ تدبیر سے کھولوں گی اور وہ ملک تجھے دکھاؤں گی۔

خیر وہ رات جوں توں گزری۔ جب مہتاب چھپا اور آفتاب نکلا، حمالہ دونوں کو خواب گاہ سے باہر لائی اور اپنے دائیں بائیں زانوؤں پر بٹھا کر شفقت اور الطاف مادرانہ کرنے لگی۔ محمودہ بھی سروقد اٹھ کر آداب بجا لائی اور عرض کی امی جان! میں کچھ گزارش کیا چاہتی ہوں۔ اگر قبول ہو تو کروں۔ حمالہ نے سر اور آنکھیں چوم کر کہا کہ بے تکلف کہو۔ محمودہ بولی کہ یہ ملک بکاؤلی کے دیکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جس طرح تم سے ہو سکے ان کو وہاں پہنچاؤ۔ حمّالہ نے چند در چند حیلے اور عذر کیے، آخرش دیکھا لڑکی کسی طرح اس کا خیال نہیں چھوڑتی، ناچار قبول کیا اور چوہوں کے بادشاہ کو بلا کر فرمایا کہ اسی وقت یہاں سے بکاؤلی کے باغ تک سرنگ کھود کر اس شہزادے کو کہ میری حیات کا سرمایہ ہے، اپنی گردن پر سوار کرکے اس باغ میں پہنچا۔ مگر خبردار سر مو اسے آسیب نہ پہنچے۔ ہرگز اسے اپنی گردن سے نیچے نہ اترنے دیجیو۔ اس نے بموجب حکم کے ویسا ہی کیا۔

باغ میں پہنچ کر شہزادے نے آہستہ آہستہ چاہا کہ اتر کر اس میں جائے۔ چوہے نے نہ چھوڑا اور ارادہ پھرنے کا کیا۔ تاج الملوک بولا کہ اگر تو مجھے اس باغ کی سیر کو جانے دے تو بہتر، نہیں تو میں اپنے تئیں ابھی ہلاک کرتا ہوں۔ چوہا ڈرا کہ اگر یہ اپنی جان پر کھیل جائے گا تو میں بھی حمالہ کے ہاتھ سے نہ بچوں گا۔ ناچار جانے دیا۔

تاج الملوک جا کر دیکھتا کیا ہے کہ سونے کی زمین پر زر خالص کی چار دیواری میں لعل بدخشانی اور عقیقِ یمنی نیچے سے اوپر تک جڑے ہیں۔ زمرد کے چَمَنوں کے آس پاس فیروزے کی نہریں گلاب سے معمور جن کو دیکھ کر خدائی نظر آئے، جاری ہیں۔ سبحان اللہ کیا سہانا باغ ہے کہ دیکھنے والوں کے منہ پر جس کے چمن کی سیر سے شفق پھولی ہوئی نظر آئے اور پھولوں کے رنگ کی سرخی سے گل سرخ آفتاب کا شرمندگی کے مارے پسینے میں ڈوب جائے۔ وہاں کے انگور کا خوشہ زمرد بن عقدۂ پروین کا رشک بڑھاتا ہے اور سنبل کا عالم ہر ایک زہرہ جبین کے گھونگر والے بالوں کو پیچ و تاب میں لاتا ہے۔ اگر اس کے گلزار کی شبنم کا ایک قطرہ سمندر میں پہنچے تو مچھلیوں میں گلاب کی بو آنے لگے۔ جو وہاں کے پرندوں کی صدا آسمان کے کان میں پڑے تو پھرنے سے باز رہے اور اگر زہرہ سنے تو فی الفور وجد میں آکر ناچتی ہوئی ماہتاب کے دف سمیت زمین پر گر پڑے۔ معشوقوں کے فندقوں سے وہاں کے عناب رنگیں تر اور سر گردانی میں قامتِ خوباں سے کہیں بہتر۔ اس کے ایوان کی شمع کا اگر مرغ زریں فلک پرواز ہو تو بجا ہے اور مہتاب اس کی صفائی پر دیوانہ ہو تو روا ہے۔ طُرفہ تر یہ کہ لعل کے درختوں میں موتیوں کے گچھے ایسے درخشاں ہیں جیسے خورشید کے شجر میں ستاروں کے خوشے آویزاں۔ گلاب کے جڑاؤ حوضوں پر زمرد کی ڈالیاں ہوا سے جھک جھک گِریں اور بطخیں گوہر شب چراغ کی ان میں تیرتے پھریں۔

شہزادہ یہ رنگ ڈھنگ دیکھتا بھالتا قدم بڑھائے چلا جاتا تھا کہ ایک دالان صرف یاقوت کا اور سامنے اس کے ایک دالان زبرجد کا، دونوں کے درمیان ایک حوض مرصع، پاکیزہ، گلاب سے بھرا ہوا، اس کے اطراف کے نار دانوں میں جواہر خوش آب کے گٹے دیے ہوئے اور اس میں ایک پھول نہایت لطیف و نازک خوشبودار کھلا ہوا نظر آیا۔ تاج الملوک نے اپنے ذہن کی رسائی سے دریافت کیا کہ ہو نہ ہو گلِ بکاؤلی یہی ہے۔ فوراً کپڑے اتار کے حوض میں کودا اور گلِ مقصود کو لے کر کنارے پر آیا۔ پوشاک پہنی اور اس کو کمر میں باندھ لیا۔ پھر محل کی سیر کو متوجہ ہوا۔

آگے بڑھتے ہی ایک قصر عتیق یمانی کا نظر آیا، دروازے اُس کے ہم پہلوئے آسمان نئے طور کے تھے، اس کے ہر مکان کی چمک کے آگے دھوپ پھیکی اور چاندنی دھندلی۔ یہ پروانے کی مانند شوق کے بال و پر کھولے ہوئے اس کے اندر بے دھڑک چلا آیا۔ ہر ایک دالان نہایت خوش اسلوب، عقیق اس کا بہت خوب، اس کی ساخت کے نئے آئین اور خوش قطع شہ نشین نظر پڑے۔ پردے اس کے کارچوبی، جا بجا سلمی کی بیل ستاروں کے بوٹے پر سب کے سب چھوٹے ہوئے تھے۔ شہزادہ اُس میں بھی در آیا مگر ہکا بکا سا کھڑا رہ گیا کہ جڑاؤ پلنگ پر ایک نازنین پڑی دبلی پتلی مست خواب بے حجاب نظر آئی۔ بال بکھرے ہوئے، کاجل پھیلا ہوا، انگیا مسکی ہوئی، کرتی اوپر کو سرکی ہوئی، پائیچا چڑھا ہوا، کنگھی بکھری ہوئی، لٹیں چھوٹی ہوئی، نیفہ ڈھلکا ہوا، گچھا ازار بند کا لٹکا ہوا، ناز سے ہاتھ ماتھے پر رکھے ہوئے جوانی کی نیند میں بے خبر سوتی ہے۔ اس کے رنگ روپ کی جوت سے زمین و آسمان نورانی اور اس کی چشم مست سے نرگس کو ہمیشہ حیرانی۔ لبِ نازک کے رشک سے لالہ خوں میں غلطاں ہے، ابرو کی چاہ سے ہلال زار و ناتواں ہے۔ معلم بہار اُس کے غنچۂ دہن سے کوئی حرف نہ سنے تو اطفال شگوفہ کو پھولنے کا سبق نہ دے سکے۔ اگر زنگی شب اُس کی زلفِ مُشکیں کے سائے میں نہ آئے تو آفتاب کی تیغِ شعاع سے مارا جائے:

سرو قد، گل عذار، عنبر بو
شکریں لب، عزیز دل، مہ رو
کہیں پردے سے گروہ باہر آئے
چاند و سورج کی جوت یکسر جائے
سلک دندان سے گر خبر پاتا
تو ثریا کو پردہ ہی بھاتا
وصف کرتا ہے کیا تو اُس گل کا
اس کی بلبل کو اس چمن میں لا

تاج الملوک دیکھتے ہی بے خود ہو کر گر پڑا۔ ایک ساعت کے بعد جو آپ میں آیا تو اپنے تئیں سنبھال کر جوں توں اس کے سرہانے تک پہنچایا اور ایک دمِ سرد دلِ پُردرد سے بھر کر یہ اشعار پڑھے:

جب اٹھا کر نقاب ہو تو عیاں
کھینچے شرمندگی مہِ تاباں
تیرے گیسوئے مشک فام میں بار
لیلۃ القدر رہتی ہے پنہاں
مست ہے حسن کی شراب میں تو
تجھ کو پروا کس کی ہے جاناں
ہم پہ کیا کیا گزر گیا لیکن
نہ ہوئی کچھ خبر تجھے اے جاں

القصہ شہزادے نے اپنے دل میں تجویز کیا کہ یہاں اپنے آنے کی نشانی کچھ چھوڑ جانا چاہیے۔ اس پری کی انگوٹھی بآہستگی و نرمی اتارلی اور اپنی پہنادی، پھر آنکھیں پھیر کر یہ شعر پڑھتا ہوا وہاں سے چلا۔

لالہ ساں اس باغ سے ہم داغِ ہجراں لے چلے
خاک سر پر، داغ دل پر، سینہ بِریاں لے چلے
باغِ دنیا میں نہ ہوگا کوئی ہم سا کم نصیب
آئے ایسے باغ میں اور خالی داماں لے چلے

آخر حالتِ خواب میں اس سے وداع ہوا اور سرنگ کی راہ سے چوہے پر سوار ہو کر اپنے مکان میں آ پہنچا۔

اے عزیز اب وہ کام کر جس کام سے تجھے دوسرا کام سوجھے جیسا کہ بھوکا روٹی کی خاطر نان بائی کی دکان پر جاوے اور اچانک اس کے جمال پر فریفتہ ہووئے۔ آخر روٹی کی بات سے گزر کر جان تک نوبت پہنچی اور نان بائی کی بھی گردن میں اس کے عشق کی کمند پڑی۔ آخرکار بھوکا دونوں کا مالک ہوا مثل اس شہزادے کی اس کے مانند ہے کہ بلبل وار پھول کی تلاش کو نکلا اور صاحبِ گل کے گلشنِ جمال باکمال کو دیکھتے ہی باغ باغ ہوا، خواہش کا ہاتھ بھی اس کے دامن تک پہنچایا پھر بہت سی محنت اور مشقّت اٹھانے کے بعد رفتہ رفتہ خرمنِ گل سے اپنی گود بھری اور اپنے گھر آیا۔ حمالہ کہ انتظار میں رونی صورت بنائے خونِ جگر آنکھوں میں لیے بیٹھی تھی، اس کے پہنچنے سے اس کا غنچۂ خاطر کھل گیا۔ وہ دن تو بہت ہنسی خوشی سے کٹا۔ اتنے میں عروسِ روز نے شفق کے لال گھونگھٹ میں اپنا منہ چھپایا اور محبوبۂ شام نے طُرّۂ مُشک فام دکھایا۔ تاج الملک اپنی امنگ سے رنگ محل میں گیا اور اس رات محمودہ سے ہم کلام اور ہم کنار ہوا، بلکہ اسی طرح چند روز عیش و عشرت میں کاٹے۔

چھٹی داستان

تاج الملوک اور محمودہ کے رخصت ہونے میں حمالہ سے اور دلبر کے پاس پہنچنا

کہتے ہیں ایک رات تاج الملوک محمودہ سے خلوت میں ادھر اُدھر کی باتیں کرتے کرتے کہنے لگا: اے مایۂ عیش و شادمانی! اگر چہ اس جگہ سب طرح کی خوشی ہے اور کسی صورت کا رنج نہیں۔ ہر وقت جو اسبابِِ نشاط چاہیے، وہ موجود ہے۔ لیکن کب تک ہم وطن اور ہم جنسوں سے دور رہیں اور کہاں تک دوستوں کی جدائی کا غم سہیں۔ کچھ ایسی تدبیر کیا چاہیے کہ اس مجلسِ ناجنس سے رہائی پائیے اور دشمنوں کے پنجے سے چھوٹ جائیے:

ہے عزیزوں ہی کی صحبت سے تو جینے کی بہار
ورنہ کیا فائدہ ہے خضر سا تنہا رہنا

محمودہ نے کہا کہ خاطر جمع رکھ، کل رخصت لوں گی۔

جب عطّارِ گردوں نے مشکِ تاتارِ شب سے شیشۂ ماہ بھر کر طاقِ مغرب میں دھرا اور خوان زریں آفتاب کا دکّانِ مشرق پر رکھ کر کافورِ صبح سے بھرا، حمالہ نے دو بھاری بھاری خلعت اور کئی خوان میوے کے تیار کرکے دونوں کو خواب گاہ سے باہر نکالا۔ پھر خلعت پہنا کر اور میوہ کھلا کر داہنے بائیں زانو پر بٹھا لیا اور سر منہ چومنے لگی۔ اس اشفاق پر بھی دونوں کا غنچۂ خاطر نہ کِھلا، تب بولی اے دخترِ با تمیز و اے داماد عزیز! جو تمنا تمہارے دل میں ہو سو کہو، اگر آسمان کے تارے بھی مانگوگے تو اتار لاؤں گی۔

محمودہ نے اٹھ کر عرض کی کہ تمھاری توجہات اور عنایات سے کوئی آرزو ہمارے دل میں باقی نہیں، اگر چہ تمھاری آتشِ جدائی بھی چمنِ عشرت کو جلائے گی اور تمھاری مجلس سے رخصت گویا جان کی رخصت ہے لیکن ہر ساعت ہم جنسوں کا شعلۂ فراق میرے سینے میں بھڑکتا ہے۔ اس نے دل و جگر کو جلا کر خاک سیاہ کر دیا ہے۔ اگر حکم ہو تو چند روز کے واسطے ہم جنسوں کی صحبت میں جاؤں اور ان کے آب وصال سے اس آگ کو بجھاؤں۔ ؏

کہیں رہوں میں پرستار ہوں مگر تیری

حمالہ نے اس بات کے سنتے ہی ٹھنڈی سانس بھری اور کہا کہ میں نے اس واسطے تجھے پرورش کیا تھا کہ اپنی آنکھوں کو صبح و شام بلکہ مدام تیرے سرمۂ دیدار سے روشن رکھوں پر تو کیا کرے حق بجانب تیرے ہے میں خوب جانتی ہوں کہ یہ فتنہ سویا ہوا شہزادے نے جگایا۔ اگر آگے سے میں ایسا جانتی تو ہرگز تیرا بیاہ اس کے ساتھ نہ کرتی۔ ؏

یہ ہے گناہ مرا کچھ نہیں خطا تیری

قصہ مختصر حمالہ نے دیکھا کہ ہرگز ان کا دل یہاں نہیں لگتا۔ ایک دیو کو بلا کر کہا کہ جہاں کہیں شہزادے کی مرضی ہو باحتیاط تمام وہاں پہنچادے اور ان کی رسید مجھے لا دے تو تیری جان کی خلاصی ہوگی۔ اس کے بعد حمالہ نے دو بال اپنے سر کے اکھیڑے، ایک تاج الملوک اور دوسرا محمودہ کو دیا اور کہا کہ جس وقت تجھ کو کوئی مہم درپیش ہو تو یہ بال آگ پر رکھنا اور مجھ کو اٹھارہ ہزار دیو سمیت بات کی بات میں وہیں پہنچا جاننا۔ پھر تاج الملوک کے ہاتھ میں محمودہ کا ہاتھ دے کر یہ شعر پڑھا:

سپردم بتو مایۂ خویش را
تو دانی حسابِ کم و بیش را

کہنے والے نے یوں کہا ہے کہ اسی وقت وہ دیو پہاڑ کی مانند بجلی سا تیز رو دوڑ آیا۔ پوچھنے لگا جہاں فرماؤ پہنچا دوں گا۔ شہزادہ بولا شہر فردوس میں دلبر لکھا بیسوا کے باغ میں۔ یہ سنتے ہی ان دونوں کو اپنے کاندھے پر بٹھا کر ایک پَل میں وہاں جا کر اتارا اور رسید مانگی۔ تاج الملوک نے کہا ذرا تامل کر میں لکھے دیتا ہوں۔ جوں آواز شہزادے کی بیسوا کے کان میں پڑی، سنتے ہی دوڑی آئی اور اس کے قدموں پر گرپڑی پھر سجدۂ شکر الٰہی بجا لاکر بولی :

ہر مو کی جگہ تن پہ اگر میرے زبان ہو
تو بھی نہ تیری بندہ نوازی کا بیان ہو

شہزادے نے اپنے پہنچنے کا حال لکھ کر دیو کو دیا اور رخصت کیا۔ اس کے بعد بیابان کی صعوبت، دیو ستم پیشہ کی شفقت، حمالہ کی مروت، محمودہ کے نکاح کی کیفیت، گل بکاؤلی کے ہاتھ آنے کی حقیقت مفصل اس سے بیان کی۔ پھر وہ اٹھ کر محمودہ سے ملی اور بہت سی اس کی دلداری اور مہمانداری کی۔ شہزادے نے وہاں چند روز توقف کیا پھر اپنے ملک کے جانے پر مستعد ہوا، اس واسطے کہ گل کے پہنچنے سے اس بلبل منتظر کی آنکھیں روشن ہوں۔ فرمایا کہ اسباب سفر کا تیار کریں اور کشتیوں پر بار کریں۔

اہلکار وہی عمل میں لا ئے۔ اتنے میں بندی خانے کے داروغہ نے آکر عرض کی کہ پورب کے شہزادوں کے حق میں کیا حکم ہوتا ہے۔ تاج الملوک صاحب خانہ کی طرف متوجہ ہوکر بولا کہ ہر چند میں بھائیوں کی سفارش کروں لیکن قبول نہ کیجیو جب تک وہ تیرے مہر کا داغ اپنے اپنے چوتڑوں پر نہ کھائیں۔ جو ں ہی زنداں بان ان کو لایا، تاج الملوک نے بہت سی شفاعت کی کہ اگر شہزادے پورب پچھم کے تو نے چھوڑدیے تو ان بیچاروں کو بھی اس گرفتاری سے نجات دے کہ خلق میں تیری نیک نامی اور خالق کے آگے سرخروئی ہو۔ وہ بولی آپ اس میں دخل نہ کیجیے، میں ہرگز نہ چھوڑوں گی۔ مگر ایک صورت سے کہ اپنے چوتڑوں پر میرے مہر کا داغ کھائیں۔

شہزادوں نے اس کے سوا اور کچھ اپنی رہائی کی صورت نہ دیکھی، ناچار قبول کیا۔ چوتڑ دغوا کے وہاں سے چھوٹے اور جان سلامت لے گئے۔ تاج الملوک نے چلتے وقت ایک ایک خلعت اور لاکھ روپے خرچ کے واسطے دلوادیے۔ انھوں نے اور کسی شہر میں جاکر کچھ جمعیت بہم پہنچائی، پھر وطن کی راہ لی۔

تاج الملوک نے بھی دلبر اور محمودہ کو مع اسباب اپنے ملک کی طرف نزدیک کی راہ سے رخصت فرمایا اور ارشاد کیا کہ فلانے شہر میں پہنچ کر مقام کرنا، میں بھی عنقریب خشکی کی راہ سے پہنچتا ہوں۔

ساتویں داستان

راہ میں تاج الملوک کے ملنے کی بھائیوں سے اور چھین لینا گل بکاؤلی کا

کہتے ہیں کہ تاج الملوک فقیروں کے بھیس میں پیچھے پیچھے بھائیوں کے چلا آتا تھا کہ ان کا ارادہ کما حَقّہ دریافت کرے۔ الغرض وہ جہاں اترے ہوئے تھے، آن پہنچا اور ایک کونے میں بیٹھ کر اُن کی لن ترانیاں اور جولانیاں جھوٹی جھوٹی سننے لگا۔ آخر نہ رہ سکا، سامنے آکر دو بدو کہنے لگا یہ بیہودہ باتیں آپس میں کیا کر رہے ہو۔ اپنا منہ دیکھو، گل بکاؤلی میرے پاس ہے اور اسی وقت اُس کو کمر سے کھول کر ان دغابازوں کے سامنے رکھ دیا۔ شہزادے طیش کھا کر بولے بھلا اس کو آزمائیں، اگر تیری بات سچی نہ ہو تو جو چاہیں تجھ کو سزا دیں۔ تاج الملوک نے کہا کہ سانچ کو آنچ کیا، بہت بہتر۔ پھر اندھے کو بلا کر پھول اس کی آنکھوں میں مَلا۔ فوراً وہ نابینا بینا ہوگیا۔ وہ اس تماشے کو دیکھ کر حیران رہ گئے۔ آخر نادم ہوکر پھول زبردستی چھین لیا اور مارے طمانچوں کے اس کا منہ لال کیا۔ پھر گردن میں ہاتھ دے کر وہاں سے نکال دیا اور خُرّم وشاداں وطن کی راہ لی۔

چند روز کے بعد اپنے ملک کی سرحد میں پہنچے اور ایک پیک کو آگے بھیجا کہ ہمارے آنے کی خبر حضور میں جلد پہنچا۔ وہ ان کا حکم فی الفور بجا لایا۔ جب زین الملوک نے یہ خبر فرحت اثر سنی باغ باغ ہوکر یہ قطعہ پڑھا ؂

بتا دلا مجھے آیا یہ قاصد جاناں
کہ درد کھونے کو پہنچا ہے صاحب درماں
ہر ایک غنچۂ خاطر کھلا ہے کنعاں میں
صبا لے آئی مگر بوئے یوسفِ کنعاں

حاصل کلام بادشاہ خود کئی منزل استقبال کے واسطے تشریف لے گئے۔ جب دوچار ہوئے شہزادوں نے قدم بوسی کی اور بادشاہ نے ان کا ماتھا چوما، ایک ایک کو چھاتی سے لگایا، الطاف فرمایا، پھر شہزادوں نے گل بکاؤلی نذر کیا۔ حضرت نے جوں ہی آنکھوں پر مَلا ووہیں تارا سی روشن ہوگئیں۔ تب کہا الحمد للہ دیدۂ ظاہری کو اس پھول نے نورانی کیا اور دیدۂ باطن بیٹوں کے دیدار سے مُنور ہوا۔ اس کے بعد بادشاہ نے جشنِ شاہانہ شروع کیا اور شہر میں منادی پھرادی کہ ہر ایک فقیر امیر عیش وعشرت کا دروازہ برس دن تک کھلا رکھے اور غم والم کا بند۔

آٹھویں داستان

بکاؤلی کے جاگنے کی اور گلاب کے حوض میں گل کو نہ دیکھنے کی اور اس کے چور کی تلاش میں نکلنے کی

خم خانۂ سخن کا ساقی اس پرانی شراب کو نئے پیالے میں یوں بھرتا ہے کہ جب بکاؤلی نے جادو بھری آنکھ کھولی اور خواب راحت سے چونکی، انگیا چڑھا، کرتی درست کر، پیشواز نازسے پہنی، کنگھی سے بالوں کو سنوارا، ڈوپٹا اوڑھا پھر آہستہ آہستہ جھومتی، اٹکھیلیاں کرتی حوض کی طرف چلی۔

ہر ہر قدم پر وہ گل اندام اپنے نقش قدم سے زمین کو پائیں باغ بناتی تھی اور گردِ راہ سے چشمِ بلبل میں سرمہ لگاتی تھی۔ جب حوض کے کنارے پر پہنچی، دست نگاریں سے گلاب اپنے رخسار پر ڈالنے لگی اور چہرے کا غبار کہ عنبر کے مانند تھا دھو دھو کر گلاب میں ملانے اور حوض کو جادو نظر چشم مست ناز سے دیکھنے بھالنے لگی۔ ناگاہ گل بکاؤلی کی جگہ پر نظر پڑی، ہر چند بغور و تامل نگاہ کی، کچھ اس کا نشان نظر نہ آیا۔ تب سونے کی طرح اس سیم تن کے منہ پر زردی چھائی اور غنچے کی مانند سموم غم سے کمھلائی۔ اتنے میں انگوٹھی پر آنکھ جا پڑی۔ حیرانی زیادہ بڑھی۔ گھبرا کر دونوں ہاتھوں سے آنکھیں ملنے لگی اور یوں زبانِ گوہر فشاں سے کہنے لگی یا الٰہی یہ خواب دیکھتی ہوں یا عالم طلسم۔ پھر بولی اگر خواب ہوتا تو علامتیں ظاہر نہ ہوتیں۔ پس اس صورت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ کام انسان کا ہے۔ نہیں تو دوسرے کی کیا طاقت کہ اٹھارہ ہزار دیو کے ہاتھ سے بچ کر یہاں سلامت پہنچے اور گل مقصود کو بے کھٹکے لے جائے۔ پھر جس وقت اپنی برہنگی کی حالت اس کو یاد آتی دریائے شرم میں ڈوب جاتی اور یہ اشعار اپنے حسب حال پڑھتی:

اے چور تو اپنا نام بتلا
چوری کا سبب تمام بتلا
دنیا میں نہیں ہے کوئی تجھ سا
انسان سے ہو نہ کام تیرا
ہے چور کو مال سے سروکار
تکتا ہے وہ سیم و زر کو ہر بار
میں دیکھوں جو تیرے دست گلگوں
آنکھوں سے لگاؤں بلکہ چوموں
ہر جنس یہاں ادھر ادھر تھی
پر اور کہیں نظر تری تھی
سینے میں سرنگ تو لگا کر
دل مفت میں لے گیا چرا کر
دیکھا نہیں گو نگاہ بھر کر
پر آنکھ پڑی ضرور لب پر
گو سیر ہوا نہ تو یہ مانا
اس شہد کا پر مزا تو جانا
جو نقد تھا اس کو لے گیا
صندوق فقط یہاں پڑا ہے

الغرض افسوس کرتی ہوئی حوض کے کنارے سے اٹھ کر یاقوت کے مکان میں جا بیٹھی اور پریوں کو بلا کر اس بے خبری کی سزا ہر ایک کو دینے لگی۔ مگر نہ سمجھی کہ جس وقت تیرِ تقدیر چھوٹے، سپرِ تدبیر سے کوئی روک نہ سکے۔ ؏

تقدیر کے آگے کچھ تدبیر نہیں چلتی”

پھر پریوں سے جھنجھلا کر کہنے لگی اگر تم اپنی زندگی چاہتی ہو تو میرے چور کو بجنسہ لا کر حاضر کرو۔ یہ سن کر سات سو پریاں چار طرف تلاش کے واسطے ہانپتی کودتی پھاندتی دوڑیں لیکن کہیں اس بے نشان کا نشان کسی نے نہ پایا۔ سچ ہے کہ بے نشان کا وہ نشان پائے جو آپ اپنے کو بے نشان پائے۔

جو پیچھے گم شدہ کے کوئی جائے
کر گم آپ کو جو اس کو پائے

بکاؤلی کہ دل اس کا تیر عشق سے چِھد گيا تھا، درد کی شدت سے بُلبلاتی تھی۔ کمان کی طرح چلّاتی تھی۔ آخر بے تابی کے مارے گوشہ چھوڑ کر، رشتۂ شرم و حیا کو توڑ کر،‌چور کی تلاش میں کمر ِہمت باندھ کرسر بہ صحرا نکلی۔جہاں جاتی اسے کوئی نہ دیکھتا اور وہ ہرایک کو دیکھ کر پر کھتی اور جا نچتی۔ غرض اس طرح پھرتے پھرتے پورب دیس جا نکلی۔ کہتے ہیں جب زین الملوک کے شہر میں وارد ہوئی، جس کوچہ و بازار میں دیکھتی وہاں اسباب عیش کا مہیا پاتی، ہر ایک دروازے پر خوشی کی نوبت بجتے دیکھتی۔ یہ رنگ ڈھنگ دیکھ حیران ہو کر آخر آپ کو پندرہ سولہ برس کا ایک جوانِ شکیل دیدار بناکر کسی سے پوچھا کہ اس شہر میں چھوٹے بڑے کی خوشی کا سبب اور خاص وعام کی شادی کا باعث کہ برخلاف آئین حکمت ہے،کیاہے؟

اس نے کہا کہ یہاں کا بادشاہ قضائے الٰہی سے اندھا ہوگیا تھا۔اس کے بیٹے مدت مَدید کے بعد بہت سی مصیبت اور رنج اٹھاکر گل بکاؤلی لائے کہ بادشاہ کی آنکھیں روشن ہوئیں۔ جب ارشاد کیا کہ برس دن تک اسی طرح سب اعلیٰ و ادنیٰ اپنے دروازوں پر نوبت دھریں اور عیش کریں۔

بکاؤلی نے یہ مژدۂ جاں بخش سن کر کہا الحمدللہ پائے طلب نے منزل مقصود پائی،محنت ٹھکانے لگی،یہ ملک اسی فتنہ انگیز کا ہے۔ اغلب کہ وہ بھی ہاتھ آئے اور خَلِش مِٹ جائے۔ پھر دریا کے کنارے جاکر کپڑے اتارے، پانی میں اتری، نہا دھوکر راہ کی ماندگی کھو کر،کلفت ڈبو کر اور ایک جوانِ حسین بن کر،پوشاک مردانی پہن کر بادشاہی محلوں کی طرف متوجہ ہوئی۔بازار میں ناز سے آہستہ آہستہ چلتی تھی،جس طرف چشمِ سرمہ سا اٹھاتی، اُسے نقشِ پا کی طرح مٹاتی اور جس دَم تیغِ ابرو یا خنجرِ مِژگاں دکھاتی،اہل نظر کو بسمل کی طرح لُٹاتی اور جس وقت زلفِ پُرپیچ کو تاب دیتی تماشائیوں کے دل کو پیچ وتاب میں لاتی۔غرض کہ جو اس کے سامنے آتا، اس کو سکتہ ہو جاتا۔آخر تمام شہر میں اس کے حسن وجمال کا غُل پڑگیا۔رفتہ رفتہ بادشاہ کے بھی گوش گزار ہوا۔چنانچہ حضور سے ارشاد ہوا کہ اس جوان رعنا کو ہمارے پاس لاؤ۔قصہ کوتاہ حضور اعلیٰ میں اسے لے گئے۔ حضرت نے اس سے پوچھا:کہو کہاں سے آنا ہوا اور تمھارا نام کیا ہے، کس واسطے آئےہو؟

جوان نے عرض کی کہ وطن تو غلام کا پچھم ہے اور نام فرخ،نوکری کی تلاش میں آیا ہوں اور اب جہاں پناہ کے تفَضُّلات سے امید یہ ہے کہ حضور کے ملازموں میں سرفراز ہوںتا دعائے دولت میں خاطر جمع سے مشغول رہوں۔ زین الملوک نے کہا: بہت بہتر حاضر رہو اور خواصوں میں بعزت تمام سرفراز کیا۔ بلا قید کی پروانگی دی۔ تھوڑے دن اسے گزرے تھے کہ چاروں شاہ زادے ایک روز بارگاہ سلطانی میں آئے۔ بادشاہ نے شفقت سے ہر ایک کو چھاتی سے لگا کر سر اور آنکھیں چومیں، پھر کرسی پر بیٹھنے کو ارشاد کیا۔ وہ تسلیم کرکے بیٹھ گئے۔

بکاؤلی نے کسی سے پوچھا یہ کون ہیں؟

اس نے کہا تم نہیں پہچانتے بادشاہ کے بیٹے ہیں۔

تب اس نے ہر ایک کے قیافہ کے سونے کو امتحان کی کسوٹی پر کسا لیکن کھرا نہ پایا،سراپا کھوٹا ہی نظر آیا۔ پوچھا کہ بادشاہ کا کوئی اور بھی بیٹا ہے جو اِن کے ساتھ گل بکاؤلی لینے گیا تھا۔ اس نے کہا اور کوئی نہیں۔

جب اس پر ثابت ہوا کہ بادشاہ اور کوئی بیٹا نہیں رکھتا، نہایت گھبرائی۔ اپنے طالع سے لڑنے لگی اور یہ اشعار پڑھے:

ارے بخت زبوں تو نے کیا کیا
یہ عقدہ کام میں کیوں میرے ڈالا
نہ کھولے ناخنِ تدبیر اس کو
یہ وہ ہے کہتے ہیں تقدیر جس کو
اگر دیکھے کوئی خوابِ پریشاں
تو ہو تعبیر دینی اس کی آساں
مگر میرا مُعَمّا ہے یہ لاحل
کسی مخلوق سے ہووے یہ کیا حل
کہوں کیا خواب کی اپنے میں تعبیر
نہیں تعبیر اس کی، ہے یہ تعبیر

وہ کون سا عیار تھا جو اس باغ سے گُل لے گیا، گل نہیں بلکہ جان و دل لے گیا۔ اس کی نیرنگ سازی کے افسوں نے میرے شیشۂ دل کو پھوڑا اور غائبانہ تیرِ عشق سے میرے سینہ کو توڑا۔ میں نے اس کی کس قدر جستجو کی،کیا کیا محنت اور مشقت کھینچی۔ بارے یہاں اس گل کا نشاں ملا،ذرا میرا غنچۂ دل کھلا:

نہیں کچھ شبہ بیشک میں نے جانا
یہی ہے چور کا میرے ٹھکانہ

لیکن فلک دغا باز نے میرا کھیل بگاڑا، آبادی کی صورت دکھلا کر اجاڑا اور قرعہ نا امیدی کا میرے نام پر پھینکا:

کہاں جاؤں کروں اب کس سے فریاد
نہیں بس کرتی ہوں میں داد بیداد

القصہ بکاؤلی نے اپنے دل میں ٹھہرایا کہ البتہ بادشاہ کا کوئی اور بھی بیٹا ہوگا، کیونکہ ان نادانوں کے قیافے سے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس امر دشوار کی تحصیل ان سے کج فہموں، نا عاقبت اندیشوں سے ہو سکے۔ بہر حال چندے اور بھی صبر کیا چاہیے، دیکھوں تو پردۂ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے۔ سبحان اللہ کیا الٹی بات ہے کہ معشوق طالب عاشق کا ہوا اور عاشق اس کا مطلوب، لیکن نظرِ تحقیق سے جو غور کرے تو سیدھی لگے،کیونکہ جب تک معشوق کو خواہش عاشق کی نہ ہو اس کی چاہت اکارت ہے اور کوشش بے فائدہ۔ آتش طلب کی جو عاشق کے گریبان سے مشتعل ہے، فی الحقیقت لگائی ہوئی معشوق کی ہے:

عشق اول در دل معشوق پیدا می شود
گرنہ سوزد شمع کے پروانہ شیدا می شود

بات بڑھ گئی، قلم کہتا ہے، اے شخص بس کر، میں نے لکھنے میں بہت سی کوشش کی۔ اور ہاتھ اپنی سعی کا دعویٰ کرتے ہیں کہ قلم نے کیا کیا، ہم نے لکھا۔ بازو اپنے تردد کا دم مارتا ہے کہ دست اور قلم سے کیا ہوا، جو کچھ کیا سو میں نے کیا۔غرض اسی طرح اسباب تحریر کے بڑھے اور ایک کو ایک پر فوقیت ہوتی گئی۔ دفعتاً ایک ایسا سبب پایا کہ وہ محتاج کسی کا نہ تھا(١

پس اے عزیز! اگر تو بتادے کہ فی الحقیقت لکھنے میں کس کی سعی ہے اور ظاہر میں کس کی تو میں بھی عاشق و معشوق کی سعی کا جواب دوں۔

نویں داستان

حمالہ کے پہنچنے کی تاج الملوک کے پاس دیووں سمیت اور بکاؤلی کی سی حویلی اور باغ تیار کرنے میں

جب تاج الملوک سے ان ناعاقبت اندیشوں نے گل بکاؤلی چھین لیا، وہ بیچارہ دل میں پیچ وتاب کھا کر رہ گیا۔ مثل ہے کہ قہرِ درویش بر جانِ درویش۔ پھر اُن کج فہموں کے پیچھے پیچھے، بعد چند روز کے اپنے باپ کی سرحد میں ایک جنگل جو درندوں کا مسکن تھا اس میں آپہنچا اور چقماق سے آگ جھاڑ کر حمالہ کے دیے ہوئے بال کو اس پر رکھ دیا۔ چوتھائی بھی نہ جلا ہوگا کہ وہ اٹھارہ ہزار دیووں سمیت آپہنچی اور تاج الملوک کو فقیروں کے بھیس میں دیکھ کر آگ بگولہ ہوگئی کہ اے شہزادے میری بیٹی کو کیا کیا اور تو نے اپنا حال کیا بنایا۔

تاج الملوک بولا کہ آپ کی توجہ سے سب طرح خیریت ہے، لیکن ایک کام مجھے نہایت منظور ہے اور اس کی تدبیر مجھ سے نہیں ہوسکتی، اس واسطے آپ کو تصدیع دی ہے۔ حمالہ نے کہا اے عیار باتیں نہ بنا۔ وہ کونسا کام ہے کہیں جلدی کہہ۔

تاج الملوک نے عرض کی، میں چاہتا ہوں کہ اس جنگل میں ایک محل اور باغ ہو بہو بکاؤلی کے قصر اور باغ سا ہو، بناؤں۔ تم جس طرح سے جانو جلد بنوادو۔ وہ بولی اے بیٹا یہ کتنی بڑی بات ہے مگر میں نے تو اس کے باغ اور عمارت کو دیکھا نہیں۔ بھلا بن دیکھے مکان کا نقشہ کس طرح بتاؤں اور بنوادوں۔ تاج الملوک بولا جس طرح میں کہوں اسی طرح بنواؤ۔

حمالہ نے اسی وقت کئی سو دیو لعل بدخشانی کے واسطے اور سیکڑوں عقیق یمانی کے لیے اور ہزاروں سونے روپے اور جواہر بیش قیمت کے واسطے ہر چہار طرف بھیجے۔ دیووں نے تین روز کے عرصے میں جواہرات وغیرہ کے جا بجا تودے لگادیے۔ پھر شہزادہ جس طرح بتانے لگا، اسی طرح وہ بنانے لگے۔ پہلے تو دو نیزے مٹی کھود کر پھینک دی اور وہاں زر خالص بھر دیا اور اسی قطعۂ طلائی پر جڑاؤ عمارتوں کی بنا ڈالی۔

غرض تھوڑے دنوں میں ویسا ہی قصر اور اسی طرح کا باغ جواہر نگار، جڑاؤ نہریں، درختوں سمیت اور زبرجد اور یاقوت کے دو دالان عالیشان آمنے سامنے، بیچ میں ان کے ایک حوض مُرصّع اسی قطع کا گلاب سے معمور بنایا۔ پھر ہر ایک مکان میں فرش اسی رنگ کا بچھایا۔ حاصل یہ ہے کہ جتنا جواہر، سونا روپا دیو لائے تھے اس میں سے آدھا مکانات کے بنانے میں خرچ ہوا۔ چوتھائی کارخانہ جات کی تیاری کو دیا، باقی خزانے میں داخل کیا۔

جب عمارت سب بن چکی اور تاج الملوک کے پسند پڑی، تب حمالہ نے اس سے کہا کہ تو بھی جانتا ہے کہ میں نے تیرے واسطے کس قدر رنج اٹھایا، دکھ سہا۔ اس کے سوا دیووں کو آدمیوں سے کمال مخالفت ہے، برعکس اس کے میں نے تجھ سے محبت کی اور کس شفقت سے پالا اور پرورش کیا۔ علاوہ اس کے بکاؤلی کے ملک میں کہ آج تک کوئی نہیں گیا، تجھے پہنچایا۔ پھر بہ سبب اس حرکت کے جو تجھ سے وہاں ہوئی، اس کے ہاتھ سے میں نے کیا کیا صعوبت اور زحمت اٹھائی۔ سو یہ سب محمودہ جان کی خاطر ہے۔ ایسا نہ ہو کہ اس کا دامن ہوائے روزگار سے غبار آلودہ ہو۔

یہ کہہ کر رخصت ہوئی۔ اس کے بعدجس مقام میں محمودہ اور دلبر کو استقامت کے لیے فرمایا تھا، اسی طرف کو شہزادہ بڑے ٹھاٹ باٹ سے گیا اور ان کو جڑاؤ عماریوں میں سوار کیا۔ پیچھے پیچھے خواصوں کے محافے رتھیں، جن پر کار چوبی سلطانی بانات کے پردے پڑے ہوئے تھے، آگے آگے غلام خوش پوشاک سونے روپے کے عصے ہاتھوں میں لیے گھوڑوں پر سوار اہتمام کرتے ہوئے۔ غرض اسی تجمل سے اس قصر عالی میں دونوں کو داخل کیا اور عیش وعشرت سے اوقات بسر کرنے لگا۔

دسویں داستان

خبر پہنچنے میں عمارت بنانے تاج الملوک کی زین الملوک کو

معمار سرائے سخن کا بنیاد اس داستان کے گھر بنانے کی اس طرح رکھتا ہے کہ ایک دن تاج الملوک کے غلاموں میں سے ساعد نام اس بیابان میں سیر کرتا پھرتا تھا۔ ناگاہ اس کی نگاہ کئی لکر ہاڑوں پر کہ لکڑیوں کے بوجھ لیے جاتے تھے، جا پڑی۔ اس نے پوچھا تم کون ہو اور لکڑیاں کہاں لے جاتے ہو۔ انہوں نے جواب دیا ہم شہر شرقستان کے لکڑہارے ہیں، ہمارا یہی کسب ہے۔ اسی سے ہمارے لڑکے پالے جاتے ہیں، دانہ پانی کھاتے پیتے ہیں۔ اس نے کہا آج تم یہ گٹھے میرے آقا کے باورچی خانے میں لے چلو، دولت خانہ اس کا نزدیک ہے، اس نے اس ویرانے میں ایک شہر آباد کیا ہے، واجبی قیمت ملے گی، بلکہ ایسا انعام پاؤگے کہ پھر کہیں اپنی لکڑیاں بیچنے نہ جاؤگے۔ انہوں نے کہا ہماری تمام عمر اسی کام میں اسی بیابان سے لکڑیاں لے جانے میں گزری ہے، لیکن آبادی کا یہاں نشان نہ دیکھا نہ سنا۔ ساعد نے کہا ذرا تم آگے بڑھ کر دیکھو، میرے کہنے کا کچھ اثر ظاہر ہو تو بہتر، نہیں تو تمہارے پھر آنے سے کوئی مانع نہ ہوگا۔

لکڑہارے انعام کے لالچ سے ساعد کے آگے ہولیے، پھر تھوڑی سی دور جا کر سب یکبارگی پکار اٹھے کہ نعوذباللہ من الشیطان الرجیم۔ اے انجان تم ہم کو آگ میں جھونکنے کو کیوں لیے جارہے ہو، چولہے میں انعام اور بھاڑ میں پڑے اکرام۔ بس ہمیں معاف کرو، ہم نے پھر پایا۔ ساعد نے کہا یہ شعلہ آتش نہیں حویلی کے جواہرات کی چمک ہے، تم ہر گز اندیشہ نہ کرو اور میرے ساتھ چلے آؤ۔ وہ اس کے کہنے سے کچھ اور بھی بڑھے، آگے ساری زمین سونے کی نظر آئی۔ سب نے اس کی بات سچی پائی۔ قدم اٹھائے بے دھڑک چلے۔ آخر وہ حضور میں ان کو لے گیا۔ تاج الملوک نے ایک ایک تھان بیش قیمت دے کر رخصت کیااور فرمایا اگر تم یہاں آیا کرو تو اس سے دونا ہر روز پایا کرو۔ لکڑ ہاروں نے جب پہلے دن ایسا انعام پایا اور آئندہ امید بندھی، اپنا وطن چھوڑکر ہر ایک وہاں آرہا۔ خبر ان کے ہمسائے میں پھیلی اور جابجا منتشر ہوئی۔ غرض جو کوئی اس شہر کے دیکھنے کو جاتاہرگز وہاں سے پھر کر گھر نہ آتا اور وہیں رہتا۔ کوتوال شرقستان کا روز رعیت کے بھاگنے کی خبر وزیر کے حضور میں کہتا۔ چنانچہ ایک دن اس نے خبر دی کہ آج کی رات ہزار گھر اہل حرفہ کے خالی ہوئے اور وہ بھاگ گئے۔ وزیر نے کہا کچھ یہ بھی تو جانتا ہے کہ کہاں جاتے ہیں تب وہ بولا کہ غلام نے سنا ہے، کسی نے درندوں کے جنگل میں دس کوس تک سونے کی زمین بناکر اس پر اس طرح کا شہر آباد کیا ہے اور ایک قصبہ اور باغ بھی جواہر کا ایسا بنایا ہے کہ روئے زمین پر ویسا دوسرا نہیں، جو دیکھتا ہے یہ مطلع پڑھتا ہے:

اگر  فردوس  بر روئے زمین  است
ہمیں است و ہمیں است و ہمیں است

اور اس کے دریائے سخاوت کی لہر دور نہیں کہ نام حاتم طائی کا آب جوئے زمانے سے لے جائے اور پانی اس کے بحر عدالت کا بعید نہیں کہ نقش عدل نوشیروان کا لوح جہاں سے مٹائے۔ وزیر نے اس بات کو باور نہ کیا، کہا جو کام کہ طاقت بشری سے باہر ہو، انسان کی کیا مجال کہ کر سکے۔ کوتوال نے مکرر عرض کی کہ متواتر خبر پہنچی ہے، جھوٹ کیونکر ہوگی۔ جو قادر کریم عورت کو مرد بنا سکتا ہے اور مرد کو عورت وہ اگر دولت دنیوی کو کہ بمنزلہ ایک عورتِ شکیلہ کے ہے، کسی مرد کے مطیع کردے تو عجب کیا ہے :

نہ پوچھ چرخ ہوا ہے کمینہ پرور کیوں
بہانہ بے سببی بس ہے اس کے دینے کا

کیا آپ نے اس شہزادے کا قصہ جس نے ایک دیو سے علامت مرد کی لے کر اپنی شادی کی تھی نہیں سنا۔ وزیر نے کہا وہ کیونکر ہے۔

حکایت

کوتوال نے عرض کی کہ اگلے وقت میں ایک بادشاہ تھا۔ اس کے محل سرا میں سو رنڈیاں صاحب جمال بے مثال تھیں، پر کسی کے اولاد نہ ہوتی تھی۔ خدا کی قدرت کاملہ سے ایک حسین اور جوان کو اس میں سے حمل رہا۔ نو مہینے کے بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی۔ اسی طرح تین بار جنی مگر لڑکا پیدا نہ ہوا۔ جب چوتھی بار حمل رہا، بادشاہ نے قسم کھائی کہ اگر اس مرتبہ بیٹی جنی تو اس کو اس کی ماں سمیت جان سے مار ڈالوں گا۔ تقدیر کی نیرنگی سے اس بار بھی لڑکی پیدا ہوئی لیکن نہایت خوبصورت پری طلعت۔ اس کی ماں نے جان کے خوف سے لڑکا مشہور کیا اور نجومیوں کو تاکید کی کہ بادشاہ کو سمجھا دوکہ دس برس تک اس لڑکی کا منہ نہ دیکھنا آپ کو اچھا نہیں۔ چنانچہ نجومیوں نے بادشاہ کی خدمت میں اس طرح عرض کیا۔ حضرت نے بھی مانا اور ویسا ہی کیا۔

القصہ جب لڑکی ہوشیار ہوئی اور اس کے دیدار کی منادی کے تھوڑے دن رہے، جب ماں نے بیٹا کہلوانے کی وجہ اس کو سمجھا دی اور کہا کہ اے بیٹی تو بادشاہ کے حضور مردانی وضع میں آیا جایا کیجو کہ میری اور تیری زندگی رہے اور جان بچے۔

چنانچہ لڑکی ایام معہودہ کے بعد اسی وضع سے بادشاہ کی خدمت میں کبھی کبھی جانے آنے لگی، لیکن مُجرا کر کے جلدی سے چلی آتی اور دیر تک نہ رہتی۔ آخر اس دختر پسرنُما کی نسبت دوسرے بادشاہ کی بیٹی سے کی۔ جب شادی کے دن نزدیک آ پہنچے، بادشاہ نے اس کو لباس شاہانہ پہنایا اور سونے کے ہودے پر بٹھا کر تجمل بادشاہی سے دلہن کے ملک کو روانہ ہوا۔

لڑکی کبھی اس حالت پر ہنستی اور کبھی روتی۔ ایک رات کسی ویرانے میں اتفاق رہنے کا ہوا۔ لڑکی مارے شرم کے کہ آخرکار زندگانی وبال جان ہوگی، چپکے سے اٹھ کر اس بیابان میں چلی گئی، اس ارادے سے کہ کوئی درندہ کھا جائے۔ جاتے جاتے ایک درخت کے تلے کہ وہ دیو کے رہنے کا مکان تھا پہنچی۔ وہ اس کے حسن پر دیوانہ ہو گیا اور آدمی کی صورت بن کر لڑکی کے آگے آکراس کا حال پوچھنے لگا۔ اس نے ساری حقیقت بیان کی، یہ سن کر دیو کا دل بھر آیا اور بولا اگر تو امانت میں خیانت نہ کرے اور اس پر قول دےتو اپنی علامت کسی حکمت سے تیرے لگاؤں اور تیری علامت آپ اختیار کروں۔ لڑکی دیو کے کہنے کے موافق عمل میں لائی۔ اس نے بھی وعدہ پورا کیا۔ پھر وہاں سے خرم و خنداں وہ اپنے ڈیرے میں آئی۔

کئی روز کے بعد برات اپنی منزل مقصود کو پہنچی اور شادی سے فراغت کر کے بادشاہ اپنے ملک کو پھر آیا۔ شہزادہ نقلی چند مدت وہیں رہا، جب اس کا ایک لڑکا پیدا ہوا تب قصد وطن کا کیا اور منزلیں طے کرنے لگا۔ جب اس جنگل میں پہنچا، اسی درخت کے نیچے گیا۔ کیا دیکھتا ہے کہ دیو بڑھیا کے بھیس میں رونی شکل بنائے بیٹھا ہے۔ شہزادی نے کہا، اے دیو میں نے تیری مہربانی سے اپنے دل کی مراد بھر پائی، اب اپنی چیز لے اور میری مجھے دے۔ دیو نے کہا اب میں اس کام سے گزر گیا۔ تقدیر میں یہی لکھا تھا۔ تب اس نے پوچھا وجہ اس کی کیا ہے مفصل بیان کرو۔ وہ بولا کہ میں اسی صورت سے تیرا منتظر یہاں بیٹھا تھا، ناگاہ ایک دیو پہاڑ سا آیا۔ اس کے دیکھنے سے مجھ پر شہوت غالب ہوئی اور مارے مستی کے رہ نہ سکا۔ اس نے بھی دوڑ کر مجھے چھاتی سے لگا لیا۔ آخر شربت وصل پلایا، میں اب اگر علامت مردی کی لگا لوں تو جانے کس وقت جی سے ہاتھ اٹھاؤں۔ اس کے سوا یہ عقدہ مجھ پر کھلا کے مردوں سے رنڈیاں شہوت میں زیادہ ہیں۔ اب جا اپنی راہ لے میں نے اپنی چیز تجھ ہی کو بخشی۔

وزیر نے کہا، خدا کی قدرت معمور اور برحق ہے۔ مجھے کچھ اس میں شک نہیں لیکن محال چیزوں کا آدمی سے موجود ہونا عقل میں نہیں آتا، کوئی دانا اس کو نہیں مانتا۔ شاید تو نے چڑے اور فقیر کی کہانی نہیں سنی۔ کوتوال نے عرض کیا فرمائیے۔

حکایت

وزیر نے کہا، حضرت سلیمانؑ کے عہد میں چڑیا کا جوڑا ایک روز راہ میں بیٹھا دانہ کھاتا تھا۔ ایک فقیر جبہ پوش کو دور سے آتے دیکھا۔ مادہ نے نر سے کہا خبردار! دشمن آتا ہے۔ ایسا نہ ہو کہ پنجۂ بلا میں گرفتار کرے۔ نر بولا کہ اس خدا دوست سے کچھ اندیشہ نہیں۔ جو خدا کی راہ پر چلتے ہیں وہ کسی کی ایذا کے روادار نہیں ہوتے۔ انہی باتوں میں تھے کہ فقیر آ پہنچا اور بغل سے ایک سونٹا نکال ایسا پھینک مارا کہ نر کا ایک بازو ٹوٹ گیا۔ بہرحال اس ظالم کے ہاتھ سے بھاگ کر گرتا پڑتا حضرت سلیمانؑ بادشاہ کے پاس گیا۔ پہلے تو جا کے دعا دی پھر یہ عرض کی کہ فلانے درویش نے بےتقصیر میرا بازو توڑ ڈالا ہے۔

بادشاہ نے فرمایا اس کو حاضر کرو۔ چنانچہ حضور میں اسے لے آئے، تب حضرت نے غضب سے فرمایا کہ تونے اس کو کیوں مارا ہے؟ اس نے عرض کیا کہ اگر میں نے اس کو مارا تو کیا ظلم کیا، کیونکہ انسان کی خوراک ہے۔

یہ سن کر چڑا بولا کہ اگرچہ میں بیچارہ چھوٹا سا جانور ہوں، پر مجھ کو اس قدر شعور ہے کہ اپنے دوست سے شیر و شکر کی طرح مل جاتا ہوں اور دشمن سے کڑی کمان کے تیر کی طرح بھاگتا ہوں۔ تیری پیوندی گدڑی دیکھ کر میں نے جانا تھا کہ تو خدا کی راہ پر ہے۔ کسی کے حق میں بدی نا کرے گا، لیکن اب مجھ پر کھلا کہ تیرا رہنما فقط شیطان ہے اور گدڑی میں فقط مکرو دغا بھرا ہے۔ اب اس کو اتار رکھ کہ اور کوئی میری طرح سے فریب نہ کھائے اور ترے دامِ مکر میں نہ آ جائے۔

چڑے کی یہ باتیں حضرت کو نہایت پسند آئیں۔ فقیر کو لعنت ملامت کر کے نکال دیا۔ چند روز کے بعد وہی چڑا کہیں چگ رہا تھا۔ کسی درویش نے اس کو کسی طرح پکڑ کر پنجڑے میں بند کیا۔ چڑا سمجھا کہ اب کی تو جان پر آ بنی، یہ سوچ کر کہنے لگا اے مرد خدا! بیچنے سے تجھ کو چنداں نفع نہ ہوگا اور کھانے سے بھی میرے معلوم۔ رکھنا بھی علی ہذا القیاس بے فائدہ ہے۔ پس چند سخن کے ہر ایک دُرّ ِبے بہا ہے، اگر مجھے چھوڑ دے تو کہوں۔ یہ سن کر فقیر بہت خوش ہوا۔ پنجرے سے نکال کر پاؤں پکڑ کر ہاتھ پر بٹھایا اور کہا لو کہو۔ چڑا بولا کہ ایک عالم کہتا ہے کہ خدا چاہے تو بہتر اونٹ کی قطار سوئی کے ناکے سے نکل جائے۔ یہ بات سچ ہے، خدا کی قدرت سے کچھ دور نہيں۔ پر یہ آدمی کی سعی سے ہرگز اعتبار نہ کیا چاہیے۔ دوسرے یہ کہ جو کام اپنے اختیار میں نہ رہے اس کے واسطے غمگین نہ ہونا چاہیے۔ اے درویش تو مجھ کو چھوڑ دے تو کہوں۔ یہ سن کر آزاد مرد نے اسے آزاد کیا۔

چڑا اڑ کر ایک درخت کی ڈالی پر جا بیٹھا اور بولا فقیر تو بڑا احمق ہے۔ کیا تیری عقل ماری گئی جو ایسا شکار اپنے ہاتھ سے کھویا۔ میرے پیٹ میں ایک لعل بے بہا ہے۔ اگر تو مجھے مار کر کھاتا تو وہ بھی تیرے ہاتھ آتا۔ درویش یہ سن کر ہاتھ ملنے لگا اور یوں کہنے لگا، اے پرند! بھلا میں اس نفع سے گزرا لیکن تو اور باتیں تو کہہ۔ چڑا بولا کہ تیرا دل مانند چکنے گھڑے کے ہے۔ میری باتیں اس پر اثر نہ کریں گی، ناحق کہہ کر کیوں ضائع کروں۔ مثل مشہور ہے کہ اندھے کے آگے روؤ، اپنی آنکھیں کھوؤ۔ اے نادان! ابھی تو میں نے تجھ سے کہا تھا کہ جو چیز اپنے قبضے سے نکل جائے اس کے واسطے نہ پچھتائے۔ اسی دم تو بھول گیا اور یہ نہ سمجھا کہ میں نے لعل کیونکر نگلا ہوگا۔

یہ کہہ کر چڑا تو اڑ گیا اور فقیر نے مایوس ہو گھر کا رستہ لیا۔ اس بات سے اپنی غرض یہ ہے کہ خدا کو سب طرح کی قدرت اور طاقت ہے۔ انسان کو چاہیے کہ بے تحقیقات بادشاہوں کی جناب میں کچھ عرض معروض نہ کرے۔ اس واسطے تجھ کو لازم ہے کہ پہلے تو جا کر اپنی آنکھوں سے دیکھ آ، پھر عرض کر۔

گیارھویں داستان

جانے میں زین الملوک کی، لشکر اور ارکانِ دولت کے ساتھ ضیافت کھانے کو تاج الملوک کے مکان میں

آخر کوتوال نے وزیر سے رخصت لے کر ملکِ نگاریں کی راہ لی۔ جب تھوڑی سی راہ طے ہوئی، ہراول پکار اٹھا اس جنگل میں ایسی آگ لگ رہی ہے کہ اس کے شعلے آسمان تک پہنچتے ہیں۔ اتنے میں سواری کچھ اور آگے بڑھی۔ سونے کی زمین نظر آئی اور جڑاؤ عمارت، جب ظاہر ہوا کہ جس پر آتش کا گمان کیا تھا وہ یہی ہے، شعلے نہ تھے وہ اس کی چمک تھی۔ اتنے میں تاج الملوک نے جو کوتوال کے آنے کی خبر سنی، فرمایا کہ حوضوں کو بھرواؤ، فوارے چھڑواؤ اور اُسے یاقوت کے دالان میں بِٹھاؤ۔

اہلکار حسب الحکم کوتوال کو حویلی میں لے گئے۔ وہ جس طرف آنکھ اٹھا کر دیکھتا تھا جگمگاہٹ سے جواہرات کی چکا چوند لگ جاتی تھی۔ بعد ایک ساعت کے تاج الملوک نے بھی تخت شوکت کو زیب و زینت بخشی۔ کوتوال اٹھ کر آداب بجا لایا اور دعا و ثنا کے بعد عرض کرنے لگا۔ جب حضرت کے مکان بنانے اور ملک بسانے کی اس جنگل میں خبر شرقستان کے بادشاہ کی جناب میں پہنچی، تب اس خانہ زاد کو تحقیقات حال کے لیے بھیجا ہے۔ گستاخی معاف! اگر آپ کے دل میں خواہش سلطنت کی اور ارادہ فساد کا ہو تو ادھر سے بھی کچھ درنگ نہیں۔ واِلّا طوق بندگی گلے میں ڈال کر بارگاہ سلطانی میں حاضر ہو جائیے، کیونکہ دو تلواریں ایک میان میں نہیں رہتیں اور نہ دو بادشاہ ایک ولایت میں۔

تاج الملوک یہ سن کر بولا، میں نے تواس حیوانات کے وطن میں ایک عبادت گاہ بنائی ہے، خدا تعالی کی بندگی میں مشغول رہتا ہوں، خواہش بادشاہی کی مطلق نہیں بلکہ دعوائے دولت خواہی ہے۔

کوتوال نے جو یہ کلمات شائستہ سنے، خوشی خوشی رخصت ہوا اور جو کہ دیکھا سنا تھا وزیر سے مفصل کہا۔ وہ سن کر ایک لمحہ تو بحر فکر میں ڈوبا رہا، پھر بادشاہ کے حضور میں جا کر جو کیفیت سنی تھی عرض کی۔ بعضوں نے تو سچ جانا اور کتنوں نے جھوٹ جان کر نہ مانا۔ بکاؤلی کہ زین الملوک کی خدمت میں حاضر تھی یہ سن کر اپنے دل میں کہنے لگی الحمد للہ اتنے دنوں بعد عقدۂ بستہ کی صورتِ کشائش اور شبِ ناامیدی کے بعد صبحِ آسائش کے ہونے کی شکل نظرآئی:

طپش دل نے خبر یار کے آنے کی دی
خوش ہو اے چشم کہ یہ زمزمہ افواہ نہیں

بادشاہ بھی اس ماجرے کو وزیر سے سن کر ایک ساعت گریبان تفکر میں سر ڈالے رہا، اس کے بعد فرمایا اگر یہی صورت ہے تو ایک نہ ایک دن زوال سلطنت کا موجب ہوگا۔ وزیر نے آداب بجا لا کر عرض کیا کہ عقلمندوں نے کہا ہے، جس دشمن سے لڑائی میں بر نہ آسکے اس سے دارومدار کرکے مل جائے۔

خوشی سے برآمد جو ہو کام کی
تو کیجے نہ تندی و گردن کشی

اب تدبیر یہ ہے کہ قبلۂ عالم اُس سے اخلاص بڑھاویں اور رشتہ محبت کا اس کی گردن میں ڈالیں۔ بادشاہ نے فرمایا تیرے سِوا اور کسی کو اس بات کے لائق نہیں دیکھتا ہوں، تو ہی وہاں جا اور رابطہ اس سے بہم پہنچا۔ لیکن وہ کام کیجو کہ سانپ بھی مرے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے، یعنی میری شان نہ گھٹے اور اخلاص بڑھے۔

وزیر خجستہ تدبیر بموجب حکم کے بڑے کرّ و فَر سے روانہ ہوا۔ جب تاج الملوک کو اس کے آنے کی خبر پہنچی، فرمایا کہ فرش و فروش کی تیاری نئے سرے سے کریں، حوضوں کا گلاب بدلوائیں، فوارے چھڑوائیں اور اس کو لعل بدخشانی کے دالان میں بٹھائیں۔ جب وہ آیا، اہل کار اسی طرح عمل میں لائے۔ شہزادہ آپ بھی وہاں رونق افزا ہوا اور ایک جڑاؤ کرسی پر بیٹھا۔

وزیر نے اٹھ کر مجرا کیا، دعائیں دیں پھر التماس کیا کہ آگے اس سے ایک بادشاہی بندہ حضور میں حاضر ہوا تھا اور اس نے آپ کا پیغام محبت انجام حضور معلیٰ میں پہنچایا۔ اوصاف پسندیدہ بھی بہت سے بیان کیے۔ بادشاہ کی آتش غضب کو سرد کر دیا۔ بلکہ قبلہ عالم کو حضرت کی ملاقات کا مشتاق کیا۔ اس سے کیا بہتر ہے کہ دو چشمے فیض و عطا کے اور دو دریا جود و سخا کے باہم ملیں۔

تاج الملوک نے کہا جو پیام کہ میری طرف سے لازم تھا، حضرت جہاں پناہ کی طرف سے آیا۔ بسر و چشم مجھے قبول ہے۔ میری بھی آرزو یہی تھی۔ پھر وزیر نے عرض کی، ان شاء اللہ تعالیٰ بعد ایک ہفتہ کے حضرت عالم پناہ یہاں رونق بخش ہوں گے۔

پھر خاصہ یاد فرمایا۔ بکاول رنگ برنگ کا طعام لذیذ اور خوشگوار جواہر نگار باسنوں میں نکلواکر چاندی سونے کے خوانوں میں لگاکر نعمت خانے میں لایا اور دسترخوان زربفت کا بچھواکر کھانا چُن دیا۔ شہزادے نے وزیر کے ساتھ نوش جان فرمایا اور اس کے بعد ارشاد کیا کہ وزیر کے ہمراہیوں کو بھی تقسیم کرو لیکن ظروف نقرئی اور طلائی پھیر نہ لیجو۔ جب لوگوں کو کھانے سے فراغت ہوئی، وزیر رخصت ہوکر شرقستان کو روانہ ہوا۔ شتاب حضور والا میں پہنچا۔ تمام ماجرا مفصل ظاہر کیا۔

کہتے ہیں انہیں دنوں میں تاج الملوک نے ایک رات حمالہ کے سر کا بال آگ پر رکھا،وہ ا سی دم ہزاروں دیووں سمیت وہاں آپہنچی۔ تاج الملوک اور محمودہ نے اٹھ کر سلام کیا، اس نے دو نوں کی بلائیں لیں، چھاتی سے لگایا، ماتھا چوما، خیر وعافیت پوچھی۔ تاج الملوک نے کہا، آپ کی سلامتی میں سب طرح کا چین وآرام میسر ہے۔ کچھ غم نہیں اور کسی چیز کی کمی نہیں۔ لیکن کل ضیافت بادشادہ شرقستان کی مقرر ہوئی ہے، وہ یہاں تشریف لائیں گے۔ میری خواہش یہ ہے کہ اس سرزمین سے اُن کے شہر تک فرش باناتی اور مخمل سرخ اور سبزکا بچھوادو اور کوس کوس بھر پر خیمے قاقم اور سنجاب کے، طنابیں ان کی کلابتونی، پردے دیبا اور اطلس کے، چوبیں گنگا جمنی، میخیں طلائی اور نُقرئی ہوں، استادہ کروادو۔ مگر اس افراط سے ہوں کہ بادشاہ کے ہر ایک چھوٹے بڑے امیر کو جداجدا آرامگاہ میسر ہوکہ مخلیٰ بالطبع رہے۔

حمالہ نے دیووں کو حکم کیا۔ انہوں نے تمام رات میں ایسی ہی تیاری کردی اور آپ اپنے ملک کی راہ لی۔ صبح کے وقت شرقستان کے بادشاہ نے بموجبِ اقرار اپنے وزیروں امیروں کو حکم کیا کہ بھاری بھاری زرق برق کی پوشاکیں اور کئی ہزار سواروں کا پرا لباسِ گوناگوں اور ہتھیار بوقلموں سے آراستہ ہوکر داہنی طرف رہے اور ایسا ہی سجا سجایا بائیں طرف اور ایک غول سواروں کا مسلح اوپچی بنا ہوا آگے۔ اور ہاتھیوں کا حلقہ سنہرے روپہلے ہودے اور عماریوں سے پیچھے۔ ہر نوجوان بان نشان بادلے کا چمکتا ہوا ہاتھ میں لے کر چست ہوا،ٹھاٹ سواری کادرست ہوا۔ القصہ اس ہیئت سے سواری کے سامان تیار ہوئے۔

جہاں پناہ ایک جڑا ؤ عماری میں سوار ہوئے اور بکاؤلی مرادانہ لباس اور نہایت پرتکلف اور جواہر پہن کر کمرِ آرزو محکم باندھ کر خواصی میں آ بیٹھی۔ چاروں شہزادے بھی خلعت شاہانہ زیبِ بدن کرکے زرق برق سے اپنے اپنے ہاتھیوں پر سوار ہوئے۔ پھر سواری تاج الملوک کے ملک کو روانہ ہوئی۔ زین الملوک شہر سے کوس بھر آگے گیا ہوگا کہ ناگاہ زری کے خیموں کی چمک مانند شعاع آفتاب کے نظر آئی، بولا اغلب ہے کہ یہ وہی مکان ہے جس پر نگاہ نہیں ٹھہرتی اور آنکھ جھپکی جاتی ہے۔ وزیر نے عرض کی کہ ایں گل دیگر شگفت۔ حضرت رات کی رات میں کچھ کا کچھ رنگ بدل گیا۔ یہاں فقط جنگل تھا، جھاڑجھنکار کے سوا غلام نے کچھ نہیں دیکھا۔ دم مارنے کی جگہ نہیں۔ قادر کریم نے ایک مخلوق کو ایسی قدرت دی ہے کہ اس کی صنعت کی کُنہ صاحبانِ خرد کو دریافت نہیں ہوسکتی۔ اُن کی عقل وادی حیرت میں بھٹکتی ہے، ملک نگاریں بہت دور ہے۔ اُس عجائب روزگار نے یہ تماشا دکھایا ہے۔ اسے بھی ملاحظہ فرمائیے۔

بادشاہ وزیر انہیں باتوں میں تھے کہ اس کے ملازوں سے ایک شخص نے آکر عرض کی کہ ہمارے آقا کا حکم یوں ہے کہ عالم پناہ کی سواری جس جگہ سے آگے بڑھے وہاں کا اسباب وغیرہ غریب وغربا لوٹ لیں اور خود بدولت ہر ایک منزل میں جس خیمے کو پسند کریں، اس میں استراحت فرمائیں۔

چنانچہ بادشاہ جس جگہ تشریف لاتے، اساب ضیافت کا جو بھی زمین کے بادشاہوں کو میسر تھا وہ مہیا پاتے۔ غرض جس قدر سواری آگے بڑھتی جاتی تھی اس قدر اسباب کی زیادتی نظر آتی تھی اور عجائب سے طبیعت بیشتر حظ اٹھاتی تھی۔

تاج الملوک آپ بھی ایک منزل استقبال کے لیے آیا اور سارے لوازمِ آداب بجالایا۔ آخر بادشاہ کے ساتھ کمال خوشی اور خرمی سے اپنے قصر مبارک میں داخل ہوا۔ حضرت کو زمرد کے مکان میں اعزاز واکرام سے بٹھایا اور مکان کو آراستہ کیا۔ جا بجا نئے نئے فرش بچھ گئے، گلاب کے حوض میں فوارے چھوٹنے لگے، بادشاہ راہ کے عجائب سے تو متعجب ہورہے تھے، عمارت اور باغ کی ساخت اور تیاری ملاحظہ فرماکے بیخود ہوگئے۔ بکاؤلی بھی شہزادے کا جمال وکمال دیکھ کر دیوانی ہوگئی، ہوش سے جاتی رہی، سچ ہے۔:

جسدم کمان ابرو کوئی تیر کرشمہ چھوڑدے
سارے دلوں کو چھوڑ دے عاشق کے دل کو توڑدے

ایک لمحہ کے بعد وہ ہر طرف آنکھوں کو مل کر دیکھنے لگی، جس مکان پر نظر پڑی اس کا نقش اور جواہر اپنے مکانوں سا دیکھا، متحیر ہوکر جی میں کہنے لگی یہ کوئی بڑا جادوگر ہے کہ میری عمارت کو معاً یہاں اٹھا لایا ہے اور اس جنگل کو عالم طلسم بنایا ہے۔ ایک پری جو اس کے ساتھ خدمت گاری میں آدمیوں کے بھیس میں تھی، اسے اشارہ کیا کہ نظر غور سے دیکھ اور بخوبی دریافت کر کہ یہ کیا ماجرا ہے۔ اس نے متامل ہوکر عرض کی، آپ کے مکان جہاں تھے وہیں ہیں، کچھ اندیشہ نہ کیجیے۔ یہ نئی عمارت ہے، اس شخص نے یہ کام کیا ہے کہ ایسی نقل بنوائی ہے کہ اصل اور نقل میں فرق کرنا ہر ایک کا کام نہیں، آفریں اس کی چترائی اور دانائی کو۔

یہ سن کر بکاؤلی بہت خوش ہوئی کہ چور میں نے پکڑا اور مال اپنا پایا۔ چاہتی تھی کہ اسی وقت افشائے راز کرے اور پردہ درمیان سے اٹھا دے لیکن حیا مانع ہوئی۔ جبراً وقہراً قدم صبروتوکل کا گاڑے رہی۔ القصہ دسترخوان بچھا اور طرح طرح کا کھانے سونے روپے کے باسنوں میں چن دیا اور اس کی حلاوت کی تعریف کیونکر لکھیے کہ زبان قلم کی بند ہوئی جاتی ہے اور اس خوانِ کا فوری کاغذ میں نہیں سماتی ہے۔ حضرت اہل خدمت کی سلیقے اور اہل کاروں کے طریقے دیکھ کر بہت محظوظ ہوئے۔ خاصہ فرزندوں اور مصاحبوں سمیت خوشی خوشی نوش جان فرمایا۔ اتنے میں ارباب نشاط حاضر ہوئے، صحبت راگ ورنگ کی دیر تک رہی۔

مطربوں کی ہوئی بلند صدا
ماہ پیکر لگے دکھانے ادا
گل نغمہ گئے سراسر پھول
دف و نے کام میں ہوئے مشغول

القصہ اس کے بعد بادشاہ اور تاج الملوک اختلاط کرنے لگے اور باتوں میں مشغول ہوئے۔ شہزادی نے پوچھا کہ آپ کے فرزند کَے ہیں؟ حضرت نے چاروں بیٹوں کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا کہ ان کے سوا اب کوئی نہیں۔ ایک اور بھی تھا، اُس کے دیدار نحس کی بدولت یہ بلائے ناگہانی مجھ پر نازل ہوئی تھی۔ افضال الٰہی سے میں نے نجات پائی اور وہ اسی حالت میں خدا جانے کہاں نکل گیا۔

تاج الملوک نے یہ سن کر کہا کہ کس سبب سے اس نے اس درگاہ عالی کو چھوڑا اور اس درِ دولت سے منہ موڑا۔ کوئی اس مجلس میں اسے پہچانتا ہے یا نہیں؟

یہ سن کر زین الملوک نے اس کی پیدائش اور اپنی نابینائی کا ماجرا اول سے آخر تک ظاہر کیا، پھر ایک امیر کی طرف جو اس کا اتالیق تھا اشارہ کیا کہ اس کے سوا کوئی اس کی صورت سے واقف نہیں۔ شہزادہ اس کی طرف مخاطب ہوا کہ دیکھو تو مجلس میں کوئی اس کی شکل کے مشابہ ہے یا نہیں۔ اس جہاندیدہ نے شہزادے کا نقشہ اور گفتگو کا رویہ بغور ملاحظہ کرکے عرض کی کہ اتنوں میں کسی کو اس شہزادے کی صورت اور شکل کے موافق نہیں دیکھتا، مگر آپ کے چہرۂ مبارک میں اکثر اس کی علامتیں پائی جاتی ہیں اور بول چال کی وضع بھی بہت ملتی ہے۔

سنتے ہی اس کلام کو تاج الملوک اٹھ کر باپ کے قدموں پر گر پڑا اور عرض کی کہ میں وہی ناخلف ہوں جو اتنی مدت تک نحوستِ ایام اور طالع ناکام کے باعث سرگرداں پھرا اور اس درگاہ سے محروم رہا۔ شکر ہے کہ دیدار مبارک جس طرح سے جسے جی چاہتا تھا اسی طرح دیکھا اور قدم بوسی کی جس وضع سے آرزو تھی بر آئی۔

زین الملوک نے یہ گفتگو سن کر مارے خوشی کے شہزادے کو چھاتی سے لگایا، سر اور آنکھیں چومیں، سجدۂ شکر بجالایا پھر بیٹے سے کہنے لگا، یہ حشمت و اقبال کہ ایزد متعال نے تم کو بخشا ہے ہم کو پہلے ہی اس کا حال تمہارے روز تولد کے زائچہ سے معلوم ہوا تھا۔ الحمد اللہ کہ چہرۂ مقصود کو آئینہ ظہور میں حسب دل خواہ دیکھا۔ ہماری آنکھوں میں روشنی دوچند ہوئی۔ یہ کہو کہ آج تک کہاں تھے اور سروِ آزاد ہو یا کسی شمشاد قد سے پیوند کیا ہے؟

شہزادہ بولا کہ غلام کی دو منکوحہ ہیں۔ اگر حکم ہو تو باریاب ہوویں اور قدم بوسی حاصل کریں۔ حضرت نے فرمایا اس سے کیا بہتر۔ شہزادہ محل میں جاکر دلبر اور محمود ہ کو بادشاہ کی خدمت میں لایا۔ وہ دونوں پری پیکر اس مکان کے قریب آکر ٹھٹھک رہیں، تب زین الملوک نے کہا کہ یہاں کیوں نہیں آتیں جو ان کے دیدارِ فرحت آثار سے میں نرگس چشم کو منور کروں اور سینے کو سرور سے بھرو ں۔

تاج الملوک نے التماس کیا کہ آپ کی یہ لونڈیاں حیا سے نہیں آتی ہیں کہ چاروں شہزادے ان کے بندۂ آزاد ہیں۔ چنانچہ ان کی مہر سے ان کے چوتڑوں پر داغ موجود ہیں، مزاج چاہے تو حضرت بھی ملاحظہ فرمائیں۔ اس راز کے کھلنے سے چاروں کے منہ کا رنگ اڑ گیا۔ شرمندہ ہوکر وہاں سے اٹھ گئے۔ تب وہ دونوں آکر قدم بوس ہوئیں، پھر زین الملوک نے تمام سرگزشت ایام جدائی کی اور دلبر اور محمودہ جان کا احوال استفسار کیا۔ شہزادے نے بھی شدائد سفر اور محنت بیابان کی، اور احوال بھائیوں کے داغ کھانے کا دلبر کے ہاتھ سے، اور مروّت حمالہ کی، بیاہنا محمودہ کا، لینا گل بکاؤلی کا گلاب کے حوض سے اور بکاؤلی کے دیکھنے کی کیفیت خواب کی حالت میں اور گل مذکور چھین لینا بھائیوں کا، اور بنانا باغ اور حویلی کا بیابان میں مفصل ظاہر کیا۔

اتنے میں بادشاہ کو تاج الملوک کی بات یاد آگئی۔ بولے کہ تم نے تو میری آنکھیں گل بکاؤلی سے روشن کیں اور اپنے دیدار سے دروازہ سرور کا دل غم ناک کے آگے کھول دیا، اب مجھ کو بھی لازم ہے کہ اس دردِ انتظار کی ماری تماری ماں کو یہ مژدہ جاں بخش سناؤں اور اس مبتلائے رنج فراق اور تشنۂ دیدار کو تمہارے آنے کی خوش خبری کا شربت پلاؤں۔ یہ کہہ کر بادشاہ اٹھ کھڑے ہوئے اور قلعہ مبارک میں تشریف لاکر تاج الملوک کی ماں کے پاس گئے اور ایام گذشتہ کی بدسلوکیوں کا بہت سا عذر کیا۔ آگے سے زیادہ سرفراز کیا اور بیٹے کے آنے کا مژدہ دیا۔

اے عزیز! تیری عزت بادشاہ کے دربار میں تیری خدمت کے موافق ہوگی۔ چاہیے کہ شہزادے کے مانند کار شائستہ کرے تو تیری محنت شاہ کے دل میں موثر ہو اور پیغام اپنی ملاقات کا تجھے بھیجے بلکہ بے باکانہ آپ ہی تیرے پاس چلا آئے اور بے اختیار تیرا سر اپنی چھاتی سے لگائے۔ اگرچہ پہلے دیدار کے لائق نہ ہو لیکن آخر کار اسی مقام میں آپ کو پہنچائے کہ وہاں تیرا کوئی شریک نہ ہوسکے۔ پھر ایسا کام نہ کیجیو کہ شہزادوں کی مانند داغ لعنت اٹھائے، ہر کس وناکس کے روبرو رسوا ہو۔

بارھویں داستان

بکاؤلی کے رخصت ہونے کی زین الملوک سے اور نامہ لکھنے میں تاج الملوک کو

زین الملوک جب اپنے دار السلطنت میں داخل ہوا، بکاؤلی اس سے رخصت ہوکر اپنے باغ میں آئی اور ایک اشتیاق نامہ تاج الملوک کے لیے لکھا۔ پھر اس کو تاج الملوک کی انگوٹھی سمیت سمن رو پری کو کہ خفیہ اس کے ساتھ گئی تھی، حوالے کیا اور کہا جلد جا۔ جس وقت شہزادے کو کاروبار دنیا سے فارغ اور تنہا پائیو، ان دونوں کو اس کے ہاتھ میں دیجیو۔ وہ اڑن نا گن نامہ لے کر اسی وقت اڑی، ایک دم میں تاج الملوک کے محل میں آپہنچی اور کسی طرف گھات میں لگ رہی۔ جب تاج الملوک بکاؤلی کے دھیان میں اکیلے مکان میں آبیٹھا، یہ اس کے روبرو جاکر آداب بجا لائی اور وہ امانت حوالے کی۔ شہزادے نے اپنی انگوٹھی پہچانی اور خط کھول کر پڑھا۔ مضمون یہ تھا:

نامۂ بکاؤلی

سخن ابتدا کر بنام خدا
کہ ہے وہ مبرا از چون وچرا
ستاروں سے روشن کیا آسماں
کیے جن وانساں زمیں پر عیاں
جمال اور کرشمے پری کو دیے
جلایا دل آدمی عشق سے
پری پر دیا پھر اس کو شرف
کیا تیر الفت کا اس کو ہدف
ذرا اپنے پر کو تو لیلیٰ پر ڈال
ہوا قیس خود بن کے محو جمال
عیاں حسن کو بن کے شیریں کیا
وہی بن کے فرہاد شیدا ہوا
ہے مہر اس کے جلوے کی ادنیٰ ضیا
اسی پر ہے بیتاب ذرّہ سدا
چراغ محبت کو روشن کیا
شعور اس پر پروانہ ہو کہ جلا
ہے بعد اس کے میرا سلام و پیام
تجھے اے شہ خوب رو نیک نام
تری چشم و ابرو نے اے شوخ و شنگ
لگائے میرے دل پہ لاکھوں خدنگ
اور اس زلف پُرخم نے اے گلعذار
کیا مثل قمری مجھے طوق دار
کیا ہے دل و جاں کو خوں عشق نے
جلایا درون و بروں عشق نے
مگر یہ سخن ہے غلط مشتہر
کہ ایک دل کو ہے دوسرے کی خبر
میں جلتی ہوں تجھ کو خبر کچھ نہیں
مرے سوز دل میں اثر کچھ نہیں
ترے ہجر میں غم کدہ ہے یہ گھر
اگر تو نہ ہو خلد ہے سقر
ذرا شربت وصل میں منہ میں چوا
لبوں پر مرا دل ہے اے دلبرا
کیا دل تیرے غم نے ایسا فگار
ہوئے ایک ٹکڑے کے ٹکڑے ہزار
میں ناسُفتہ گوہر ہوں اے خوش لقب
ہے الماس کی مجھ کو تجھ سے طلب
تو دریا ہے اور میں ہو تشنہ جگر
بجھا پیاس کو میری جلد آکر
ترے غم میں جی سے گزر جاؤں گی
اگر تو نہ پہنچا تو مرجاؤں گی
ولے میں جو اٹھوں گی روز جزا
تو ہوں گی ترے لعل لبِ خوں بہا
جواب اس کا پھر دے گا کیا تو مجھے
جو پوچھوں گی کاہے کو مارا مجھے
نہ بول آگے بس اے زبانِ قلم
دکھانے کو دل کی نہیں یہ بھی کم

غرض تاج الملوک نے مضمون نامے کا کہ ہر لفظ بھرا ہوا شوق سے اور ہر ایک سطر اس کی پُر عشق کے ذوق سے تھی، دریافت کیا، عشق کی آگ کہ سینے میں دبی ہوئی تھی بھڑکی۔ سیماب کے مانند بیتاب ہوکر تڑپنے لگا۔ آخرش شمع شب افروز عشق نے جلا دیا اور دل مہجور کو داغوں سے معمور کیا، شور و فغاں سے حشر برپا ہوا، آہ کا دھواں چاروں طرف سے گھٹ گیا۔ دل کی بیقراری کو تھاما، چاروناچار صبر کیا۔ پھر قلم فراق رقم کو ہاتھ میں لے کر ایک بند کاغذ اٹھاکے نامے کا جواب یوں لکھا:

نامۂ تاج الملوک

اے عاشقوں کی جلانے والی
ہے طرز وفا تیری نرالی
تو سیم تنوں کی صف شکن ہے
تو عشق کی راہ میں راہزن ہے
ابرو تری آنکھ پر وہ خم دار
ہے مست کے پاس جیسے تلوار
جادو ہے تری نگاہِ پنہاں
یا برق برائے خرمن جاں
غنچہ ہے ترے دہن سے دل تنگ
آگے ترے لب کے لعل بے رنگ
روشن ہے تجھی سے چشم امید
میں ذرہ صفت ہوں تو ہے خورشید

اے نازنینِ زہرہ جبیں و اے رشک افزائے بتان چین! تیرے اشتیاق نامے کے مضامینِ آتش بار نے میرے استخواں کو برنگِ شمع جلا دیا اور دل مہجور کو داغوں سے معمور کیا۔ شور و فغاں سے حشر برپا ہوا، آہ کا دھواں چار طرف گھٹ گیا۔ اے شمع شب افروز! جو داغ تیرے عشق کی سوزش سے میرے سینے میں پڑے ہیں، ہر گز نہ مٹیں گے، بلکہ جب تک ماہ کے جگر میں کلف ہے یہ بھی چمکا کریں گے۔ یہ نہ جانیو کہ تیرا تصور میری آنکھوں سے کسی وقت جاتا ہے یا تیری یاد کسی دم میرا دل بہلاتی ہے۔ کوئی گھڑی نہیں کہ جس میں مجھ کو تیری جستجو نہیں اور تیرے ملنے کی آرزو نہیں۔ میں تو تیرا نام سن کر ایسا دیوانہ ہوا کہ آنکھوں سے راہ چلا، جان کا خطرہ نہ کیا، دیووں سے کس کس طرح سازش کی اور ان کی گردن میں کمند محبت ڈالی، تب کہیں تیرے جمال جہاں آرا کو ذرا دیکھا اور نمک دل کے زخم پر چھڑکا۔ فی الجملہ میرے سینۂ سوزاں کی وہ آگ ہے جس کی ایک چنگاری تیرے دل میں جا پڑی یا برق اشتیاق کی ایک تڑپ ہے جو تیرے خرمن کی طرف دوڑ گئی:

ہے فیض عشق کی سوزش جو تیرے سینے میں
شراب ایک ہے لیکن دو آبگینے میں

میں کیا کہوں۔ مجھ سے کیا ہو سکتا ہے، جذبہ تیرا ہی کام کا ہے:

تا نہ ہو دلبر کی جانب سے کشش
عاشق بیچارہ کہ کیا کر سکے

بس زیادہ اس راز سے قلم کو آشنا نہ کیا چاہیے کہ گئے ہیں ؏

قلم کب آشنا ہے راز مشتاقوں سے اے محرم

والسلام

 

پھر خط کو لفافہ کر کے اپنی چشم سرمہ سائے نم ناک کو بجائے مہر اس پر رکھا۔ اس کے بعد سمن رو پری کے ہاتھ میں دیا اور زبانی پیام باشتیاق تمام بہت سے دیے۔ آخر وہ رخصت ہوئی اور بکاؤلی کے پاس آ پہنچی۔ جواب نامے کا حوالے کیا اور زبانی بھی جو کچھ حال تھا کہہ سنایا۔

تیرھویں داستان

تاج الملوک کے جانے کی بکاؤلی کے پاس اور قید ہونے میں بکاؤلی کے

القصہ بکاؤلی نے تاج الملوک کا اشتیاق اپنے سے دونا پایا اور صبروقرار طرفین کا بغیر وصال کے محال نظر آیا۔ سمن رو سے کہا کہ حمالہ کو جلدی حاضر کرو۔ وہ سنتے ہی دوڑی، ایک پلک میں جا پہنچی۔ حمالہ اسکو مضطرب دیکھ کر پوچھنے لگی، اے بہنا! خیر ہے، ایسی گھبرائی ہوئی کیوں آئی ہو؟

وہ بولی خیریت ہے، شہزادی نے تم کو یاد کیا ہے۔ دیر نہ کرو جلدی چلو۔ گھبرا کر اٹھ کھڑی ہوئی اور غیر وقت کے بلانے سے بید کی طرح سے کانپتی ہوئی آئی۔ کیا دیکھتی ہے کہ بکاؤلی کی نرگسِ چشم فراقِ یارسے بیمار ہے اور پژمردہ فوارے کے مانند اشک بار ہے۔ ماتم زدوں کی صورت اس عشرت کدہ میں بنائے بیٹھی ہے۔ آداب بجالاکر سرسے پاؤں تک بلائیں لے کر کہنے لگی، اے سمن چمنِ نشاط و اے نسترن گلبنِ انبساط! تیرا غنچۂ دل ایسا کیوں تنگ آیا جو تونے اپنا یہ رنگ بنایا۔ کا ہے کو شبنم کی طرح روتی ہے، کس لیے پھول سے مکھڑے کو گرم گرم آنسوؤں سے دھو تی ہے، تیری بلا میرے جی کو لگے، تو ہمیشہ خوش رہے۔ خدا کے واسطے کچھ بات بول کر اپنے دل کے بھید کومجھ پر کھول۔

یہ سن کر بکاؤلی نے کہا، ڈھیٹھ دلالہ! اتنی باتیں کیوں بناتی ہے، جان بوجھ کر بھولی ہوئی جاتی ہے۔ یہ تیری ہی آگ لگائی اور بلا لائی ہوئی ہے۔ ان بتے بازیوں سے ہاتھ اٹھا اور اپنی لگائی کو بجھا۔ یہ کرتوت تیرے داماد کا ہے یا کسی اور کا؟ اور اس کو تونے یہاں تک پہنچایا یا کوئی اور لایا؟ غرض میرے پردہ ناموس میں رخنہ اس کے ہاتھ سے پڑا اور ننگے کھلے اس نے مجھے دیکھا۔ اگر اپنا بھلا چاہتی ہے تو جلد جا اور اسے مجھ تک لا۔

حمالہ یہ بات سن کر ہنس پڑی اور کہنے لگی کہ تم نے اتنی ہی بات کے واسطے رو رو کر منہ سجایا ہے اور اپنا یہ حال بنایا ہے۔ تم اٹھو اور ہاتھ منہ دھوؤ، ہنسو بولو۔ اس کا لانا کتنا کام ہے، میں ابھی کان پکڑ لے آتی ہوں اور ایک آن میں تم سے ملاتی ہوں۔ آخر وہ لنکا شرقستان کی طرف دوڑی گئی۔ بات کی بات میں تاج الملوک کے پاس آ پہنچی اور مسکرا کر کہنے لگی، اٹھ رے پروانے ! اڑ چل، تجھے تیری شمع نے یاد کیا ہے۔ یہ سنتے ہی شہزادہ بے اختیار اس کے پاؤں پر گر پڑا، حمالہ نے اس کا سر اٹھا کر چھاتی سے لگایا، پھر کاندھے پر بٹھا کر بکاؤلی کے ملک کا راستہ لیا۔

اس اثنا میں جمیلہ خاتون کے کان میں یہ بھنک پڑی کہ تمہاری بیٹی بروگن سی بن گئی ہے، شاید کسی آدم پر وہ پری زاد دیوانی ہوئی ہے۔ اس بات کی تحقیق کرنے کو وہ بکاؤلی کے پاس آئی اور اثار عشق کے اس میں دیکھ کر بہت خفا ہوئی اور اپنا منہ پیٹ کر بولی، اری کواری تھتکاری تو ناپید ہو، یہ کس کے پیچھے بروگ لیا ہے اور کس کے لیے یہ جوگ سادھا ہے، پریوں کا ننگ و ناموس تونے کھویا اور کل کا نام ڈبویا۔

اس نے یہ باتیں سن کر کانوں پر ہاتھ رکھا اور صاف مکر گئی۔ قسمیں سخت سخت کھانے لگی، ماں کے پاؤں پر گر پڑی اور کہنے لگی، میں نے تو آج تک عشق کا نام نہیں سنا اور آدمی کو خواب میں بھی نہیں دیکھا، کس نے طوطیہ جوڑا اور تہمت کی۔ اس کا نام سچ بتاؤ نہیں تو میں اپنا خون کروں گی اور جان دوں گی، یہ حالت اس کی دیکھ کر ماں ہی تو تھی پگھل گئی، مگر ظاہر میں رکھائی سے بولی، چل چپ رہ اے چھنال، ٹھٹھولے نہ کر۔

اتنے میں حمالہ اس مشتاق کو لے کر پہنچی، سمن رو پری تو محرم راز تھی۔ اس نے اشارے سے آگاہ کر دیا کہ وہ مسافر بھی آ پہنچا، شہزادی نے بھی اشارے سے کہا کہ ایک مکان محفوظ میں چھپا کر رکھو۔ غرض پھر رات گئے تک تو بکاؤلی چار ناچار ماں کے پاس بیٹھی رہی اور جب وہ پلنگ پر جا کر سو رہی، بکاؤلی نے دیکھا کہ خوب غافل ہوئی۔ وہاں سے اٹھی اور دبے پاؤں چلی۔ دل خوف سے دھڑکتا تھا اور جی شوق سے پھڑکتا تھا۔

قصہ مختصر اسی صورت سے شہزادے کے پاس پہنچی، اس کی نگاہ جوں ہی اس سراپا ناز پر پڑی ہوش جاتا رہا، غش ہو کر گر پڑا۔ جب تو یہ گھبرا کر دوڑی اس کا سر اٹھا کے اپنے زانو پہ رکھ لیا، منہ سے منہ اور گال سے گال رگڑنےلگی۔ اس غنچہ دہن کی بو گلاب سے بہتر تھی، سونگھتے ہی شہزادے کے دماغ میں قوت آگئی، ہوش میں آیا، آنکھیں کھول دیں۔ اپنے سر کو اس زہرا جبیں کے زانو پر دیکھا، کوکب بخت کو اوج پر پایا، خوش و خرم اٹھ بیٹھا تو پیار کی آنکھیں طرفین سے پڑنے لگیں۔ یہاں تک کہ ٹکٹکی بندھ گئی، آخر شرابِ شوق کا پیالہ چلنے لگا۔ نشۂ اشتیاق دونوں کو چڑھا، پر دۂ حجاب بیچ سے اٹھ گیا، چالاکی اور بے باکی کا بازار گرم ہوا، شرم وحیا نے کنارہ کیا، جام وصل دونوں نے پیا اور آتشِ فراق کو ٹھنڈا کیا۔

ہزار افسوس پھریہ چرخ پر زور
کرے گا مشتری سے ماہ کو دور
جہاں وہ شخص بیٹھے مل کے یکجا
وہیں سنگ جدائی اس نے پھینکا
جو دی ایک دل میں نور آشنائی
تو بخشے اس کو سو داغ جدائی
غلط ہے یہ، کہاں اس میں وفا ہے
کمان میں اس کے بس تیر جفا ہے

اتفاقاً جمیلہ خاتون آدھی رات کے وقت چونک پڑی۔ چاندنی کی بہار سے باغ بھی اس وقت نورباغ بن رہا تھا۔ بے دھڑک اٹھ کھڑی ہوئی اور سیر کرنے لگی۔ ناگاہ اس جگہ جہاں وہ دونوں خوابیدہ بخت سوتے تھے جا نکلی۔ اس حالت کو دیکھتے ہی اس کی آتش غضب کا شعلہ بھڑکا، غصہ روکا نہ گیا۔تاج الملوک کو مانند سنگ فلاخن صحرائے طلسم میں پھینکا اور بکاؤلی کے گل رخسار کو طمانچوں سے گل ارغوان بنا دیا۔ اس کے بعد گلستان ارم میں کہ اس کے باپ کا تخت گاہ تھا، اپنے ساتھ لے گئی اور جو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا فیروز شاہ سے کہا۔ اس نے کتنی پر یاں خوش بیان، چرب زبان اس شمع روکی مصاحبت میں مقررکیں کہ اس کو نصیحت کیا کریں اور انسان کا نقش الفت اس کے لوح دل سے دھویا کریں۔

چنانچہ وہ اس کام میں دن رات مشغول تھیں لیکن بکاؤلی کی دبی ہوئی آگ عشق کی ان کی باتوں سے سلگ اٹھتی تھی، شعلۂ اشتیاق دو گنا بھڑک جاتا تھا۔ دن ہر کسی کے ساتھ بیٹھ کر کاٹتی تھی اور رات بھر یار کے خیال میں جاگتی تھی اور یہ غزل اپنے حسب حال پڑتی تھی:

کوئی نہ میری طرح بھی ہو مبتلائے فراق
خطاب دیتا ہے کیا مجھ کو بادشاہ فراق
فراق کو تیری فرقت کا مبتلا یہ کروں
فلک کے ہاتھ سے اب ٹوٹ جائے پائے فراق
تمام عمر نہ سر سے گئی بلائے فراق
ہمیشہ سینۂ سوزاں سے شعلے اٹھتے ہیں
کہ خوب خون جگر روئیں دیدہ ہائے فراق
میں داد پاؤں کہاں، کیا کروں، کہوں کس سے
غریب و عاشق و بے دل فقیر سر گرداں
دل و جگر کو جلاتے ہیں داغ ہائے فراق
کہاں فراق، کہاں میں، کہاں وہ رنج و تعب
فراق کو بھی، کوئی ہے، جو دے سزا ئے فراق
اگر فراق ملے مجھ کو جان سے ماروں
سر شک دیدہ سے بھردوں میں خوں بہائے فراق
یہ بیدلی ہے کہ حافظ کے اور مرے منہ سے
برنگ مرغِ سحر آتی ہے صدائے فراق

جب پریوں نے اس کے مزاج میں دن بدن سودے کو پڑھتے پایا، جانا کہ عشق نے اس کے دل میں گھر بنایا۔ نا چار ہو کر فیروز شاہ سے عرض کیا کہ ہم نے اپنا بہتیرا مغز پھرایا مگر فائدہ کچھ نہ پایا۔ وہ کسی طرح نہیں سمجھتی، پتھر کو جونک نہیں لگتی۔ خبر شرط تھی سو کی، آگے جو ارشاد ہو۔

فیروز شاہ نے اس ماجرے کو سن کر جانا کہ بیٹی ہاتھ سے جا چکی، نصیحت مطلق نہیں سنتی۔ بکاؤلی کو طلسمات میں قید کیا اور سیم تن کے پاؤں میں سونے کی زنجیر کو بھردیا۔

چودھویں داستان

تاج الملوک کے دریائے محیط میں پڑنے کی اور سلامت پہنچنے کی وہاں سے بیابان میں اور تبدیل ہوجانے میں صورتِ اصلی کے

کہتے ہیں کہ جب جمیلہ خاتون نے شہزادے کو ہوا پر پھینکا وہ ایک دریائے عظیم میں جا پڑا اور اس کے تلاطم سے تہ وبالا ہونے لگا۔ کبھی موتی کے مانند نیچے جاتا تھا اور کبھی کفِ دریا کی طرح پانی پر تیرتا پھرتا۔ چند روز کے بعد کنارے پر پہنچا۔ سچ ہے کہ عاشقوں کی جان عزیز تک اجل کا ہاتھ یک بیک نہیں پہنچتا اور موت کا پنجہ ان کی مرغ روح کی گردن نہیں مروڑ سکتا۔ کوئی رمق جان باقی رہی تھی، تری سے خشکی میں آیا۔ آفتاب کی گرمی سے ہاتھ پاؤں کھلے، حرکت کے قابل ہوئے اور بدن میں زور پیدا ہوا اور اٹھ کر ذرا آگے بڑھا۔ سامنے ایک جزیرہ نظر آیا، اس میں جا کر وارد ہوا۔ اقسام اقسام کے پھل میوے دار درخت اس میں تھے۔ ادھر ادھر پھرنے لگا۔ اتنے میں ایک ایسا باغ نظر آیا کہ اس کے درختوں کے پھل آدمیوں کے کلّے کے مانند تھے، ان سے دو چار ہوا۔ وہ کھل کھلا کر ہنس پڑے پھر سب کے سب زمین پر گر پڑے۔ ایک ساعت کے بعد اور کلّے ان شاخوں میں پیدا ہوئے۔

شہزادہ یہ تماشا خدا کی قدرت کا دیکھ کر نہایت حیران ہوا بلکہ ڈرا اور وہاں سے آگے بڑھا۔ ایک باغ انار کا ملا، اس میں ہر ایک انار گھڑے کے برابر تھا۔ تاج الملوک نے ایک انار جو توڑا، اس میں سے چھوٹے چھوٹے چرند خوش رنگ نکل آئے، پھر سب کے سب چڑیوں کی طرح اڑگئے۔ شہزادہ صنعت خالق کی دیکھ کر اور بھی دنگ ہوا۔ علی ہذا القیاس ایسے ہی ایسے عجائب اور غرائب چند روز تک دیکھا کیا۔ غرض اس سرزمین پر جا بجا ایک نیا ہی تماشا نظر آتا، کسی طرح وہاں سے رہائی نہ پاتا تھا۔

ایک دن نہایت تنگ ہوکر ہر طرف سے لکڑیاں جمع کیں، پشتارا باندھا پھر خدا کا نام لے کر دریا میں ڈال دیا اور اس پر جا بیٹھا۔ کئی روز کے بعد وہ ایک کنارے پر جا لگا، یہ اتر کر آگے چلا۔ ایک بیابان ہولناک میں جا کر وارد ہوا، شام کے وقت درندوں کے ڈر سے درخت پر جا بیٹھا۔ پہر رات ہوگئی ایک سناٹے کی آواز دکھن کی طرف سے کان میں پہنچی۔ ہر چند شہزادے نے داہنے بائیں دیکھا لیکن کچھ نظر نہ آیا۔ آخرش ایک اژدہا پہاڑ سا نظر آیا اور اسی درخت کے نیچے کہ جس پر شہزادہ تھا آیا۔ اس کی صورت دیکھنے سے اس کے حواس اڑگئے۔ درخت کی ڈالی سے لپٹ کر دم بخود ہوگیا۔ ایک ساعت کے بعد اژدہے نے ایک کالا سانپ اپنے منہ سے نکالا اور اس نے ایک من آفتاب سا چمکتا ہوا اُگل کر درخت کے نیچے رکھ دیا۔ اس کی روشنی سے چار سو کوس کے عرصہ تک جتنے جنگل پہاڑ تھے روشن ہوگئے اور وحوش وطیور اس کے آگے آکر ناچنے لگے، آخر مدہوش ہو کر گر پڑے۔ وہ ان کو دم کی کشش سے کھینچ کھینچ کر نگلنے لگا یہاں تک کہ اس کا پیٹ بھر گیا۔ اس کے بعد سانپ من کو نگل گیا اور وہ سانپ کو لے کر جس طرف سے آیا تھا، اسی طرف کو چلاگیا۔

شہزادے کے جی میں یہ لہر آئی کہ ایسی تدبیر کیجیے کہ جو یہ من ہاتھ لگے۔ عقل دوڑانے لگا، آخر سوچتے سوچتے صبح ہوگئی۔ پھر دریا کی طرف گیا اور وہاں سے ایک بڑا لوندا کیچڑ کا اٹھا لایا اور شام کے وقت درخت پر چڑھ کر اسی طرح بیٹھ رہا۔

اژدہا بھی اپنے وقت معین پر آپہنچا اور بدستور سانپ کو منہ سے نکالا اور اس نے من کو۔ شہزادہ گھات میں بیٹھا تھا، اس حکمت سے اس گل حکمت کا لوندا من پر ڈالا کہ گل حکمت کر دیا۔ تمام اندھیرا ہوگیا، ہاتھ سے ہاتھ سوجھنے سے رہ گیا۔ اژدہا اور سانپ سر پٹک پٹک کر مرگئے۔ شہزادہ نور کے تڑکے درخت سے اترا اور وہ مہرۂ نورانی کیچڑ سے نکال کر اپنی کمر میں باندھا اور آبادی کی توقع پر آگے چلا۔

تمام دن دشت پیمائی اور صحرا نوردی میں کاٹتا تھا، جب رات ہوتی تھی کسی درخت پر چڑھ کر بیٹھ رہتا تھا۔ غرض دن رات اسی طرح بسر کرتا تھا۔ اتفاقاً ایک رات کو جس درخت پر بیٹھا تھا اس پر ایک بولتی ہوئی مینا کا آشیانہ تھا، وہ اپنے بچوں کو اکثر کہانیاں نقلیں سنایا کرتی تھی اور ہر ایک فن کی گھاتیں بتایا کرتی تھی، اس لیے کہ کان پڑی بات ایک نہ ایک دن کام آرہتی ہے۔ اس رات بچوں نے مینا سے کہا اے اماں جان کوئی بات اس بیابان کی تو کہو، مینا بولی کہ اس جنگل میں کنج بے شمار جا بجا گڑا ہے اور اس کے سوا یہاں سے دکھن کی طرف ایک حوض کے کنارے ایک بڑا درخت ہے کہ اس کو سراج القرطب کہتے ہیں۔ اگر کوئی اس کے پوست کی ٹوپی بنا کر پہنے تو وہ کسی کو نظر نہ آئے اور وہ سب کو دیکھے، لیکن اس تک کوئی پہنچ نہیں سکتا کیونکہ اس کا ایک بڑا سانپ نگہبان ہے۔ اس پر تلوار وتیر کچھ کارگر نہیں ہوتا۔ بچوں نے مینا سے پوچھا کہ پھر کس طرح کوئی وہاں پہنچے، مینا نے کہا ایسا کوئی جوانمرد ہو کہ گھبرا نہ جاوے اور ہمت باندھے ہوئے اس حوض کے کنارے آپ کو پہنچائے، وہ سانپ لپک کر جب اس پر آوے وہ حوض میں کود پڑے فوراً اس کی صورت کوّے کی ہو جائے گی، کچھ اس کا اندیشہ نہ کرے اور اڑ کر اس درخت کے پچھم طرف ڈالی پر جا بیٹھے۔ اس میں کتنے سبز اور کتنے لال پھل لگے ہیں۔ اگر ایک لال پھل توڑ کر کھا جائے تو پھر اپنی اصلی صورت پر آ جائے اور سبز پھل کی یہ تاثیر ہے کہ جو اس کو سر پر رکھے تو کوئی حربہ بدن پر اثر نہ کرے، اگر کمر پر باندھے تو ہوا میں اڑتا پھرے اور اس کے پتوں کا خواص یہ ہےکہ زخم پر انھیں رکھے تو فوراً بھر آئے۔ اگر اس کی لکڑی ہزار من لوہے کے قفل کو چھوائے تو اسی وقت کھل جائے۔تاج الملوک عجیب و غریب باتیں سن کر حد سے زیادہ اس درخت کا مشتاق ہوا۔

صبح ہوتے ہی اس پتے پر چلا، بہر صورت آپ کو اس حوض تک پہنچایا۔ سانپ بھی اس کو دیکھتے ہی لپکا مگر شہزادہ مطلق نہ جھجکا،حوض میں کود پڑا پھر کوا بن کر اس درخت کی اسی میوہ دار ڈالی پر جا بیٹھا اور ایک لال پھل کھا کر اپنی اصلی صورت پر آ گیا پھر اس کے بعد کچھ سبز پھل توڑ کر کمر میں باندھے اور ایک لکڑی بھی لاٹھی کے موافق لے لی۔ پھر تھوڑی سی چھال کہ جس میں ٹوپی بنے اور کچھ پتے لے کر وہاں سے اڑا۔ چند روز کے بعد جنگل سے باہر نکلا۔ آثار آبادی کے دکھائی دیے۔ وہاں ایک نوک دار لکڑی لے کر اپنی ران کو چیرا اور کالے کا مَن رکھ کر وہی پتے زخم پر رکھ دیے، فوراً اچھا ہو گیا پھر وہاں سے آبادی کی راہ لی۔

پندرھویں داستان

پہنچنے میں تاج الملوک کے ایک حوض پر اور اس میں غوطہ مار کے تبدیل ہونا اس کی شکل کا

نقل ہے کہ تاج الملوک ایک سنگ مرمر کے حوض پر جس کے چاروں طرف رنگ برنگ کے پھول پھولے ہوئے تھے، جا پہنچا۔ وہ سہانی جگھ اور ٹھنڈی چھاؤں دیکھ کر شہزادہ ایک آن سوگیا۔ جب آنکھ کھلی اور پانی کی صفائی ملاحظہ فرمائی، ٹوپی اور عصا ایک درخت کے نیچے رکھ کر اس میں اترا اور غوطہ مارا۔ جوں ہی پانی سے باہر نکلا، اس حوض اور مکان کو نہ پایا بلکہ ایک شہر کے متصل جا پہنچا۔ اس کے سوا کیا دیکھتا ہے کہ علامت مردی کی جاتی رہی اور صورت عورتوں کی سی ہوگئی۔ گل سے رخسار کہ خط سبز سے سبزہ زار تھے، یاسمین کے مانند مصفا ہوگئے اور صندل سی چھاتی پر آثار کچوں کے نمودار ہوئے۔

تاج الملوک اس آفتِ ناگہانی سے نہایت گھبرایا۔ صبر کے سوا اور کچھ تدبیر نہ سوجھی۔ ناچار شکیبائی اختیار کی اور ایک جگہ شرمندہ ہو کر بیٹھ گیا۔

اس میں ایک جوان وہاں آیا، اس نے دیکھا کہ ایک عورت نوجوان پاکیزہ رو نہایت حسین بیٹھی ہے، اگر حور کہیے تو روا ہے اور پری کہیے تو بجا ہے۔ غرض جوان کا دل اس پر آگیا۔ پوچھا اے نازنین تجھ پر کیا آفت پڑی ہے جو اس ویرانے میں آکر بیٹھی ہے۔ اس نے کہا میرا باپ تاجر تھا جہاں تجارت کے واسطے جاتا تھا، مجھ کو اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ کل اس جنگل میں مع قافلہ آکر اترا، آدھی رات کو ڈاکہ پڑا، بہت مال لٹ گیا۔ وہ رفیقوں سمیت مارا گیا، ساتھ چھٹ گیا، قافلے کے لوگ اپنی اپنی جان لے کر بھاگ گئے، فقط میں اس ویرانی میں بیکس رہ گئی۔ اب یہاں نہ کہیں رہنے کا ٹھکانا ہے نہ بیٹھنے کا۔ نہ طاقت چلنے کی ہے۔ جوان نے کہا اے نازنین اگر تو مجھے قبول کرے تو میں تجھے اپنے گھر لے چلوں اور صاحب خانہ بنا کر رکھوں۔ اس کی بھی آتش شہوت جوان کے دیکھنے سے شعلہ زن ہوئی تھی، اس بات پر راضی ہو کر اس کے ساتھ گیا۔ جو رو بننے کے سوا اور کچھ بن نہ آیا۔ اس واردات عجیب سے کبھی ہنستا اور کبھی روتا، ہر طرح سے اپنے دن کاٹتا۔ اس اثنا میں اسے حمل نمودار ہوا، نو مہینے کے بعد ایک لڑکا جنا۔ چالیسویں روز ایک حوض میں کہ اس کے گھر کے نزدیک تھا جاکے ایک غوطہ مارا۔ جوں ہی سر اٹھایا تو دیکھا نہ وہ سر زمین ہے اور نہ وہ صورت۔ خدا کی قدرت سے آپ کو ایک حبشی جوان کی شکل دیکھا۔ کہا الحمد للہ اگرچہ جمال اصلی تو نہیں ملا لیکن عورت سے پھر مرد تو ہوا۔

غرض اسی خیال میں تھا کہ ناگاہ ایک عورت حبشن کی سی وضع، اوپر کا ہونٹھ اس کی ناک کی پھننگ سے لگا ہوا اور نیچے کا ٹھوڑی کے نیچے پڑا ہوا، کان شانوں تک، چوچیاں رانوں تک، سر کھولے ہوئے، زبان سے ہونٹھ چاٹتی ہوئی سامنے سے نمودار ہوئی اور اس کی کمر پکڑ کر پکاری کہ اے بے حمیت تین دن سےلڑکے بھوکے پیاسے مرتے ہیں اور میں تیری تلاش میں سرگرداں پھرتی ہوں، کہاں چھپ رہا تھا۔ بھلا جو ہوا سو ہوا، اب دو تین دن کی لکڑیاں تو لا کہ ان کو بیچ کر لڑکے بالے کھانے کو لائیں۔

تاج الملوک نے آسمان کی طرف دیکھ کر کہا خدایا کب تک مجھ کو اس عذاب میں گرفتار رکھے گا۔ ابھی دیو کے ہاتھہ سے چھوٹ کر دم نہیں لیا کہ بلا کے پنجے میں پھنسا۔

قصہ کوتاہ وہ ناپاک کشاں کشاں اپنے گھر لے گئی۔ چار طرف سے لڑکوں نے آکر گھیرلیا کہ بابا ہمارے واسطے کیا لائے۔ شہزادہ چپکا ایک کا ایک منہ دیکھنے لگا، اتنے میں اس چڑیل نے ایک کلہاڑی تاج الملوک کے ہاتھ میں دی کہ جا کر لکڑیاں کاٹ لا۔ شہزادہ اس فرصت کو غنیمت سمجھا جنگل میں گیا لیکن اس طلسمات عجیب کی حالت سے حیران تھا۔ دل میں سوچا کہ دوبارہ حوض میں غوطہ مارنے سے صورت تبدیل ہوچکی ہے۔ تیسری دفعہ بھی امتحان کیجیے اور دیکھیے کہ اب کیسی شکل بنتی ہے۔ پھر ایک حوض میں جا کر غوطہ مارا، جب سر نکالا آپ کو بصورت اصلی پہلے حوض کے کنارے پر پایا۔ لاٹھی اور ٹوپی کو بے تفاوت رکھے ہوئے دیکھا۔ سجدہ شکر کا درگاہ الٰہی میں بجا لایا اور دل میں ٹھہرایا کہ اب کسی حوض میں غسل نہ کیجیے، بلکہ ہاتھ بھی نہ ڈالیے۔ پھر لاٹھی ہاتھ میں لے اور ٹوپی سر پر رکھ کر روانہ ہوا۔

اے یاران دہر! حق تعالی نے بنی آدم کے سر پر کرامت کی ٹوپی پہنا کر اور عظمت کا عصا ہاتھ میں دے کر طلسم گاہ دنیا میں کہ مزرع آخرت ہے، عافیت کی تکمیل کے لیے بھیجا ہے۔ پس انسان کو چاہیے کہ گل و خار اور آب و سراب خوب پہچانے۔ ہر ایک باغ کے پھول کو نہ سونگھے، ہر ایک نہر سے گھڑا نہ بھرے کہ یہاں کانٹے گل سے رنگین اکثر ہیں اور سراب بصورت آب ادھر ادھر ہے۔ اے عزیز!اگر گوہر دنیا کے لینے کو چشمہ و جہاں میں غوطہ مارے گا، مقرر اس کا کلاہ اور عصا کھودے گا۔ یہ حکم اس بات پر ہے کہ طالب دنیا مؤنث ہیں اور طالب مولیٰ مرد ہیں۔

تیرا پیکر معانی جو مانند مرد کامل ہے بصورتِ زنان ناقص العقل ہوجائے گا۔ پس اس وقت شکیبائی کے سوا کچھ چارہ نہیں۔ چاہیے کہ دم بخود ہو کر پھر دریائے ذکر الٰہی میں غوطہ مارے۔ اس کے بعد جو سر اٹھاوے گا وہی عصا ہاتھ میں اور وہی ٹوپی سر پر دیکھے گا۔

سولھویں داستان

پہنچنے میں تاج الملوک کے دیو سیاہ پیکر کے مکان میں اور ملنے میں بکاؤلی کی چچا زاد بہن روح افزا سے

نقّاشِ سخن اس حکایت کی تصویر صفحۂ بیان پر یوں کھینچتا ہے کہ جب تاج الملوک نے یہ صدمے اٹھائے، پھر زمین پر پاؤں رکھنا چھوڑ دیا۔ سبز میوے کی قوت سے ہوا پر جاتا تھا۔ ایک روز ایسے پہاڑ پر گزرا کہ کوہ قاف بھی اس کے آگے ایک پشّہ سا نظر آئے۔ اس پر ایک پتھرکی حویلی دیکھی۔ شہزادہ تفتیش حال کے لیے اس میں گیا، ہر چند پھرا لیکن ذی حیات کا اثر وہاں نہ دیکھا۔ ہر ایک مکان کو ڈھونڈھنے لگا، ناگاہ ایک آواز دردناک اس کے کان میں آئی۔ وہاں جاکر دیکھا کہ ایک عورت خوب حسین کہ جس کی صفائی پر نظر پھسلی جاتی تھی بلکہ اس کے دیکھنے سے ہاتھ پاؤں میں سنسناہٹ چلی آتی تھی، پلنگ پر لیٹی ہچکیاں لے لے کر روتی تھی۔

شہزادے نے سر سے ٹوپی اتار کر اس سے پوچھا کہ اے آرام جاں! اس جوانی کے عالم میں تیری جدائی تیرے عاشق بے دل کے دل پر ایک ستم ہے اور تیرے تریاقِ وصل سے دوری اس کے حق میں سُم ہے۔ تو نے اس سے کنارہ کیوں کیا اور داغ فراق کا اس بیچارے مشتاق کے دل پر کس واسطے رکھا۔ اس نازنین کو یہ کلام رندانہ سن کر بہت حیا آئی اور اس چھیڑ چھاڑ کی باتوں سے نہایت شرمائی۔ پھر دوپٹے کا آنچل منہ پر لے کر بولی، ارے تو کون ہے؟ مگر متلاشی عزرائیل کا ہے۔ جلد یہاں سے بھاگ، نہیں تو ابھی مارا جائے گا۔

تاج الملوک بولا اگر میرے سر کی، جو فی الحقیقت میرے نزدیک ایک بار ہے، تجھے رغبت ہو تو حاضر ہے اور جو کسی دشمن سے ڈراتی ہے تو ہرگز میں نہیں ڈرتا۔

نہیں ڈرتا میں مرنے سے ڈراتی ہے تو کیا مجھ کو
کہ جی پر کھیلنا ہے سہل رندِ لا ابالی کا

بہرحال تو مجھے اپنے حال سے مطلع کر۔

اس زہرہ جبین نے سر اٹھا کر کہا کہ میں پری ہوں اور میرا نام روح افزا ہے۔ مظفر شاہ تخت نشین جزیرۂ فردوس کا میرا باپ ہے۔ ایک روز میں اپنے چچا کی بیٹی کی عیادت کے لیے کہ اس کا نام بکاؤلی ہے، گلستان ارم میں گئی تھی۔ پھرتے ہوئے ایک دیو سیاہ رو نے راہ میں مجھے پکڑا اور یہاں لے آیا۔ اب مجھ سے نزدیکی کیا چاہتا ہے اور میں دور بھاگتی ہوں۔ اس واسطے مجھ کو نئی نئی طرح سے ستاتا ہے اور ہر روز ایک آفت تازہ میرے سر پر لاتا ہے۔ یہ سن کر تاج الملوک نے پوچھا کہ تیرے چچا کی بیٹی کو کیا مرض ہے۔ اس نے کہا کہ وہ کسی آدم زاد سے عشق رکھتی ہے مگر ایک مدت کے بعد اسے بہزار خرابی وہ ملا تھا، ایسا بجوگ پڑا کہ پھر جدا ہوگیا۔ اب اس کے فراق میں وہ رشک حور مجنون کے مانند دیوانی ہورہی ہے اور اپنی جان شیریں کو اس فرہادِ وقت کے غم میں کھورہی ہے۔ کچھ اس کا تدارک نہیں ہوسکتا۔ اس لیے میرے چچا نے اس کو قید کیا ہے اور ناچاری سے اس کی اذیت کا صدمہ اپنے دل پر لیا ہے۔

اس ماجرے کو سن کر شہزادے کی حالت تغیر ہوگئی، آنکھیں بھر آئیں، آہیں لب پر آئیں، دل ودماغ میں خلل ہوگیا، چہرے کا رنگ اڑ گیا۔ روح افزا نے یہ حالت دیکھ کر کہا، باوجود ان گرمیوں کے موجب آہ سرد کا کیا ہے۔

شہزادہ بولا کہ میں وہی گرفتار بلائے دوری ہوں جس کی مجبوری سے تیرے چچا کی بیٹی کی وہ حالت ہوئی ہے۔ ادھر اس کا دل قید میں گھبراتا ہے اور میرا آوارگی میں جی چاہتا ہے۔

غرض شہزادے نے اپنا تمام قصہ روح افزا کے رو برو کہا۔ وہ سن کر نہایت متعجب ہوئی اور دونوں کی محبت پر ہزار ہزار آفریں کی۔ اس کے بعد کہنے لگی کہ اگر میں اس دیو کی قید سے نجات پاتی تو تیرے زخم پر مرہم لگاتی۔ شہزادے نے کہا کہ اب تجھ کو کون روک سکتا ہے، اس قید خانہ سے ابھی نکل، جس طرف جی چاہے تیرا شوق سے چل، اگر اس دیو کا تیرے جی میں ڈر ہے تو دیکھ لیجو کہ ایک ہی حملہ میں اس کا کیا حال کرتا ہوں۔ لیکن اندیشہ یہ ہے کہ میرے پاس کوئی حربہ نہیں۔

روح افزا نے دیو کا سِلح خانہ اس کو بتادیا۔ اس نے وہاں جا کر ایک تیغ آبدار اٹھا لیا اور اس کے پاس جا کر سراج القرطب کا عصا پاؤں میں چُھوایا، بیڑیاں اس نازنین کے پائے نازک سے کٹ کر گر پڑیں۔ اس کے بعد دونوں نے جزیرہ فردوس کی راہ لی۔ چنداں دور نہ گئے تھے کہ ناگاہ ایک آواز مہیب پیچھے سے آئی، روح افزا نے کہا اے شہزادے! ہوشیار رہو، دشمن خونخوار آن پہنچا۔ فوراً تاج الملوک نے کلاہ بغل سے نکال کر روح افزا کے سر پر رکھ دی اور آپ دیو کی طرف متوجہ ہوا اور دیو بھی سامنے آیا۔ شہزادے نے للکارتے ہوئے کہا اے دیو لعین! خبردار، قدم آگے نہ بڑھانا، نہیں تو ایک ہی ہاتھ میں دو ٹکڑے کروں گا۔

دیو سن کر بجلی کی طرح تڑپا اور دانت نکال کر بولا، عجیب تماشہ ہے کہ چیونٹی ہاتھی سے مقابلہ کیے چاہتی ہے اور چڑیا مرغ سے لڑنا چاہتی ہے۔ مجھے ننگ آتا ہے کہ مکھی کے خون سے کیا ہاتھ بھروں اور جس ہاتھ کے طمانچہ کا زور کوہ قاف کے منہ کو پھیردے ایک مشت خاک پر کیا ماروں۔ خیر میری معشوقہ کو مجھے دے اور تو اپنی راہ لے کہ میرا دل اس شمع جمال پر پروانے کی طرح جلتا ہے اور اس کے سوز عشق سے دم بہ دم پگھلتا ہے۔ شہزادے نے کہا، اے مردود گندہ دہن! لائق نہیں کہ تو روح افزا کو اپنی معشوقہ کہے۔ خدا کا خوف کرتا ہوں، نہیں تو ابھی تیری زبان کاٹتا۔

دیو یہ زبان درازی اور لاف زنی شہزادے کی دیکھ کر دیگ کی مانند آتش غضب سے جوش میں آکر سومن کا پتھر اٹھا کر شہزادے کی طرف پھینکا۔ وہ اس سبز میوے کے زور سے اچک کر ہوا پر جاتا رہا اور سراج القرطب کا عصا دیو کی گردن پر مارا کہ تمام بدن اس کا کانپ گیا۔ اس کے بعد غصے سے کہا کہ دور ہو اے لعین! اب کی بار تو میں نے رحم کیا، اگر ایک ہاتھ اور مارتا تو دو ہی کر دیتا۔ جب دیو نے حریف کو نہایت شہ زور پایا، ایسا شور مچایا کہ چاروں طرف سے ہزاروں دیو گاؤ سر اور فیل تن آ پہنچے۔ شہزادے کو گھیر لیا۔

تاج الملوک نے بھی اسی میدان میں جیسی چاہیے ویسی ہی جواں مردی کی داد دی اور دیووں کی لڑائی بات کی بات میں مار لی:

چلائی یہ تلوار اس نے وہاں
زمین ہل گئی کانپ اٹھا آسماں
لڑائی نے ہر سمت گاڑے تھے پا
کہیں صلح کی ہاتھ آئی نہ جا
کیے قتل اس نے تو لاکھوں پلید
یہ تیغ اس کی کہتی تھی ھل مِن مَزید
وہ انسان دیووں سے ایسا لڑا
کہ مریخ کہنے لگا مرحبا
تڑپتے تھے وہ خاک پر بیشمار
زمین ہو گئی تھی کف رعشہ دار
بہا جاتا تھا یہ ان کے تنوں سے لہو
کہ تھی کوہ پُر خون کی آبجو
غرض جو بچے بھاگے پُھرتی کے ساتھ
رہا کھیت بس شہزادے کے ہاتھ

لیکن تاج الملوک لڑتے لڑتے اور چالاکیاں کرتے کرتے بہت تھک گیا تھا، غش کھا کر گر پڑا۔ روح افزا دوڑی آئی اور سر اٹھا کر اپنے زانو پر رکھا، گلبرگ سا ہاتھ اس کے سینے پر پھیرا اور اپنے بوئے دہن سے کہ رشکِ غنچۂ گل تھی، ہوش میں لائی اور ٹوپی سر سے اتار کر شہزادے کے آگے رکھ دی اور اس کی جواں مردی پر ہزار ہزار آفریں کی۔ پھر اٹھ کر جزیرہ فردوس کی راہ لی۔

جب دونوں نزدیک شہر کے پہنچے، روح افزا نے تاج الملوک کو ایک باغ میں کہ اس کا نام بھی روح افزا تھا، بٹھا کر آپ ماں باپ کی ملاقات کے لیے گئی۔ انہوں نے اس کے آنے سے زندگی دوبارہ پائی۔ اس کا ماتھا اور آنکھیں چومیں پھر سرگزشت پوچھی۔ روح افزا نے اذیت دیو ستمگر کی اور مروت اور جوانمردی شہزادے شجاعت شعار کی بیان کی لیکن یہ نہ کہا کہ بکاؤلی کا عاشق وہی ہے۔

مظفر شاہ سنتے ہی اٹھ کر باغ میں گیا اور شہزادے کا شکر و احسان بہ مرتبہ بجا لایا۔ مدارات بہت سی کی، ایک مسند پاکیزہ اور نئی بچھوائی۔ پھر کئی پریاں اس کی خدمت میں مقرر کرکے اپنے دولت خانہ پر آیا۔

سترھویں داستان

خط لکھنا مظفر شاہ کا فیروز شاہ کو روح افزا کے پہنچنے کا اور آنا بکاؤلی کا ماں کے ساتھ اس کی ملاقات کے لیے

راوی شیریں زباں یوں بیان کرتا ہے کہ مظفر شاہ نے ایک خط روح افزا کے پہنچنے کا فیروز شاہ کو لکھ کر بھیجا۔ وہ اس کو پڑھ کر نہایت شاد ہوا اور فرمایا کہ جمیلہ خاتون روح افزا کے دیکھنے کو جلد جائے اور اس کو اپنی آنکھوں سے دیکھ آئے۔

بکاؤلی نے جو ماں کے جانے کی خبر سنی، کہلا بھیجا کہ میں بھی بہن کی ملاقات کو تمھارے ساتھ چلوں گی۔ جمیلہ خاتون نے اس بات کو غنیمت جانا، اس واسطے کہ شاید وہاں کے جانے سے اس کا غنچۂ دل کھلے اور مکانات مختلفہ کی سیر سے زنگِ کدورت آئینۂ دل سے جائے۔ پاؤں کی زنجیر کاٹ دی اور اپنے ساتھ لے کر جزیرۂ فردوس کی راہ لی۔

مظفر شاہ نے جب سنا کہ جمیلہ خاتون مع بکاؤلی آتی ہے۔ روح افزا کو استقبال کے لیے بھیجا، جب اس سے دوچار ہوئی روح افزا نے چچی کو جھک کر سلام کیا اور قدموں پر گرپڑی۔ اس نے سر اٹھا کر چھاتی سے لگایا، آنکھیں چومیں، بلائیں لیں پھر دونوں بہنیں آپس میں دیر تک گلے ملیں، مبارک سلامت کی صدا طرفین سے بلند ہوئی۔ پھر روح افزا نے مسکرا کر بکاؤلی کے کان میں کہا تمھیں بھی اپنے چاہتے حکیم کا آنا مبارک ہو، اب اس کو شوق سے نبض دکھاؤ اور شربت وصل پیو۔ یہ سن کے ماں کے خوف سے اس وقت تو خاموش ہورہی، پوچھ نہ سکی پر دل ہی دل میں کچھ شاد کچھ مغموم ہوئی۔ القصہ روح افزا دونوں کو اپنے گھر بہ آئین شائستہ لائی۔ مظفر شاہ اور حسن آرا بھی جمیلہ خاتون سے ملے، نہایت شفقت اور مہربانی سے پیش آئے۔ پھر ادھر ادھر کا مذکور نکلا، دروازہ گفتگو کا کھلا۔ آخرش روح افزا کی رہائی کا ذکر بھی درمیان میں آیا اور اس نے اس کو اور ہی ڈھب سے ادا کیا۔

غرض جمیلہ خاتون ایک رات رہ کر دوسرے دن رخصت ہوئی۔ روح افزا نے اس وقت عرض کی کہ میں چاہتی ہوں چند روز بکاؤلی میرے پاس رہے۔ شاید یہاں کے رہنے سے اس کے آئینۂ طبع کا زنگ کدورت چھٹے، نور عقل اس میں نمایاں ہو اور تاریکیٔ سودا پنہاں۔ جمیلہ خاتون نے کہا اچھا کیا مضائقہ ہے۔ چنانچہ ایک ہفتے کی اجازت دی اور گلستانِ ارم کی راہ لی۔

روح افزا بکاؤلی کو اکیلا لے کر بیٹھی، باتیں عشق آمیز کرنے لگی، طول بہت سا دیا۔ آخر تاج الملوک کے سوز و گداز سے بھی کچھ کنایہ کیا۔ بکاؤلی ہم چشمی کے سبب سے شرمندہ ہوگئی اور مارے حیا کے پانی ہوگئی۔ پھر غصے سے منہ پھیر کر بولی واہ واہ بوا مجھے یہ ہنسی خوش نہیں آتی اور ایسی چھیڑ چھاڑ نہیں بھاتی، یہ تم اپنی بیتی ہوئی میرے پردے میں سناتی ہو۔ میں نے جانا کہ تم اس دیو کا دل ہی دل میں غم کھاتی ہو۔ یہ کہاوت تم پر پھب گئی۔ مثل: “ہاتھوں مہندی پاؤں مہندی اپنے لچھن اوروں دیندی”۔ بس زیادہ بے ہودہ مت بکو، قسم ہے حضرت سلیمانؑ کی میں ابھی اپنے گھر چلی جاؤں گی۔ پھر کبھی تمھارے گھر نہ آؤں گی۔ بھلا شمع فانوس کو پروانے سے کیا نسبت اور غنچۂ سر بستہ کو بلبل سے کیا مناسبت، کہاں پری کہاں انسان، یہ تمھارا صرف گمان ہے۔

روح افزا نے جب دیکھا کہ یہ کسی طرح ہاتھ نہیں آتی اور کسی صورت دھوکا نہیں کھاتی، کہنے لگی اے بہن یہ تو میں نہیں کہتی کہ تو کسی کو چاہتی ہے یا خدانخواستہ کسی کے درد سے کراہتی ہے، بلکہ میں تو یہ کہتی ہوں کہ تو شمع فانوس ہے، کوئی پروانہ جو آپ سے آکر جلے تو تجھ کو اس کے جلنے سے کیا۔ اگر ہزاروں گل نیلوفر دریائے عشق میں ڈوبیں، سورج کو کیا پروا۔ غرض اسی وضع کے اور ذکر نکال کر اس کے غصے کو ٹال کر، بھلاوے میں ڈال کر، ہاتھ میں ہاتھ لے کر اس مکان کی روش پر کہ جس میں تاج الملوک رہتا تھا، آکر پھرنے لگی۔

اتنے میں آواز دردناک اس مریض عشق کی بکاؤلی کے کان میں پہنچی، سن کر بے چین ہوئی، آخر رہ نہ سکی۔ روح افزا سے پوچھا یہ کس کی صدا ہے؟ اس نے کہا ایک شکار نو گرفتار نالاں ہے۔ آ تجھے اس کا تماشا دکھاؤں اور اچھی طرح سے اس کی آواز سناؤں۔ غرض بکاؤلی کو دھوکا دے کر شہزادے کے آگے لا کھڑا کردیا۔ تاج الملوک سے دوچار ہوتے ہی اختیار کی باگ اس کے ہاتھ سے چھٹ گئی اور جنس صبر و قرار کی لٹ گئی۔ وہ بھی آتش شوق کا جلا ہوا صبر نہ کر سکا، دوڑ کر اس چشمۂ خوبی سے بے اختیار لپٹ گیا۔ بکاؤلی نے بھی دامن حیا کو چھوڑ کر اپنے ہاتھ اس کے گردن میں حمائل کردیے۔ پھر تو دونوں جلے ہوئے آتش فراق کے دل کھول کر روئے اور غم جدائی کے دفتر اپنے اپنے خوب دھوئے۔

روح افزا یہ حالت دیکھ کر ٹھٹھا مار کر ہنسنے اور کہنے لگی، بہنا تو تو اب تک دنیا کی لذت سے واقف نہیں، بیگانے مرد کا بھی منہ آج تک نہیں دیکھا، پھر اس نامحرم مردوے کے گلے لگ کر زار زار کیوں روتی ہے اور اس کے غم سے اپنا ننھا سا جیوڑا کس لیے کھوتی ہے۔ تو نے میرے چچا کا نام ڈبویا اور سارے کنبے کو کلنگ لگایا۔ یہ سن کر بکاؤلی نے کہا، اے روح افزا اگر تو نے مجھ سینہ فگار کے زخم پر مرہم لگایا ہے تو ناخن طعن سے نہ چھیل اور جو شربت دیدار پلایا ہے تو زہر ملامت نہ کھلا۔ اب تو تجھ پر میرا راز بالکل ظاہر ہوگیا اور پردہ کھل گیا، میرے حق میں جو تو چاہے سو کر مختار ہے۔

القصہ دو عندلیب شیدا اور دو گل رعنا چمن نشاط میں بخوبی ہنسے بولے اور اپنے اپنے اشتیاق کے ہر ایک نے دفتر کھولے۔ کئی دن بوس و کنار کی لذت خوب طرح اٹھائی اور جام وصل سے اپنی اپنی پیاس جی بھر کے بجھائی۔ آخر ایام وصال کے آخر ہوئے۔ بکاؤلی کی روانگی کا دن آپہنچا۔ تاج الملوک پھر بستر بے قراری پر گرا اور ماہیٔ بے آب کی مانند تڑپنے لگا۔ یہ حالت دیکھ کر اس نے بھی چاہا کہ حیا کے پردے کو اٹھا کے ویسا ہی اپنا حال بنائے کہ روح افزا بولی، زنہاراے بہن یہ حرکت نہ کرنا، ناحق رسوائی ہوگی اور جگ ہنسائی۔ چند روز اور صبر کر، ان شاء اللہ تعالیٰ تھوڑے دنوں میں تجھ کو تیرے چاہنے والے سے بخوبی ملاتی ہوں اور شربت وصال پلاتی ہوں۔ زمانہ فراق کا اب تھوڑا رہا ہے اور روز وصال کا نزدیک آپہنچا ہے۔ خاطر جمع رکھ، ماں باپ کی فرمانبرداری کر اور جناب الٰہی میں گریہ وزاری۔ پھر دیکھ پردۂ غیب سے کیا ظہور میں آتا ہے اور میری سعی اور کوشش کیا دکھاتی ہے۔

بکاؤلی یہ سن کر چا رونا چار گلستانِ ارم کو گئی اور ماں باپ کی خدمت میں مشغول ہوئی۔

اٹھارھویں داستان

روح افزا کے ظاہر کرنے میں ماں سے تاج الملوک اور بکاؤلی کے عشق کی کیفیت اور جانا اس کا جمیلہ خاتون کے پاس ان دونوں کے بیاہ کی درخواست کے لیے

کہتے ہیں کہ جب بکاؤلی روح افزا سے رخصت ہو کر اپنے گھر گئی، روح افزا نے شہزادے اور بکاؤلی کے عشق کی تمام اور کمال کیفیت اپنی ماں سے ظاہر کی۔ حسن آرا یہ سن کر دیر تک گریبان تفکر میں سر ڈالے رہی، پھر سوچ کر بولی اگرچہ یہ ناتا رشتہ آدمی کا پری سے ہونا نہایت محال ہے لیکن اس نے میری بیٹی کو قید شدید سے چھڑایا ہے، مجھ کو لازم ہے کہ میں بھی اس کو زندانِ غم و الم سے چھڑاؤں اور مطلب کو پہنچاؤں۔ یہ کہہ کر اسی وقت ایک مصورِ شبیہ کش، چالاک دست کو بلاکر شہزادے کی تصویر کھچواکر گلستانِ ارم میں لے گئی اور فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے ملی، بلکہ چند روز وہیں رہی۔

ایک دن کا مذکور ہے کہ جمیلہ خاتون سے باتیں کرتے کرتے مطلب کی بات پر آئی اور اس وضع سے کہنے لگی، اے بہن اگر کوئی غنچۂ رنگین آب و ہوا کے فیض سے کسی شاخ میں لگے اور اس کے پاس بلبل نہ بیٹھے تو اس کا ہونا نہ ہونا برابر ہے اور اگر آبدار موتی کسی کے ہاتھ لگے اور وہ اس کو رشتے سے الگ رکھے تو عقل سے باہر ہے۔ کب تک تو بکاؤلی کو کنوارا رکھے گی۔ بہتر یہی ہے کہ اس زہرہ جبین کو کسی ماہ رو کے پہلو میں بٹھا اور اس غنچۂ خوبی کو مونس بہار کا بنا۔

جمیلہ خاتون نے یہ سن کر کہا، اے حسن آرا! تو نے سنا ہوگا کہ اس نے آدم زاد سے دل لگایا ہے اور اسی کا سودا اس کے سر میں سمایا ہے۔ اپنے ہم جنس کو نہیں چاہتی اور غیر جنس کے واسطے دن رات کراہتی ہے۔ میں اس امر میں ناچار ہوں، بزرگوں کا چلن کیوں کر چھوڑوں اور اس علامہ کی خواہش سے قدیم سلسلے کو کس طرح توڑ دوں، اپنے کفو کے ہوتے غیر قوم میں کس نے کیا ہے جو میں کروں۔ پری کا آدمی سے کبھی بیاہ ہوا ہے کہ میں بیاہوں؟

حسن آرا نے کہا سچ کہتی ہے، لطیف کو ہم صحبتِ کثیف کرنا البتہ دانائی سے بعید ہے لیکن تو حضرت انسان کے کمالوں سے اگر واقف ہوتی تو ایسے ایسے خیال فاسد دل میں ہرگز نہ لاتی۔ سن اے نادان! بشر خلقتِ یزداں میں اور اس کی صنعتِ بے پایاں میں اشرف اور افضل ہے، اس کے رتبوں اور درجوں کی انتہا نہیں، وہ ایک نہنگ ہے دریا کا بہنے والا اور ایک قطرہ ہے حقیقت میں دریا، ہے جامع کمالات عالم کونی و الٰہی کا یعنی مادیات اور مجردات کا اور مجمع ہے مراتب بندگی اور بادشاہی کا:

انسان کی ذات برزخِ جامع ہے بے گماں
ظل خدا و صورتِ خلق اس میں ہے عیاں

جان کہ صوفیہ ہر ایک کو عالم ارواح کے نوعوں میں سے باری تعالی کے ایک ایک اسم اور صفت کا مظہر خاص جانتے ہیں اور اس عالم صورت کو کہ حواس ظاہری اور باطنی سے نسبت رکھتا ہے، اس عالم کا سایہ۔ پس ہر ایک ذرہ فرد کائنات سے روشن ایک تجلی ابدی اور سراب ایک قطرۂ سرمدی سے ہے:

برگِ درختانِ سبز در نظر ہوشیار
ہر ورقے دفتریست معرفتِ کردگار

اس عالم میں انسان کہ سارے افراد کون و فساد اس کے لازمے ہیں، خدا کے سارے اسموں اور صفتوں کا مظہر ہے اور اس کی تجلیاتِ خاص کا مقام کلام فضیلت انسان میں دریائے بے پایاں ہے، اسی قدر پر اکتفا کیا۔ اے جمیلہ خاتون! وہ اصل ہے اور ہمارا وجود طفیلی، وہ مخدوم اور ہم خادم۔ زہے شرف کہ شریف ہم سے ارادہ وصلت کا کرے اور مخدوم خادم سے قصد قربت کا رکھے۔

القصہ اس آب و تاب سے انسان کی تعریف کرکے فضیلتوں کا بیان کیا کہ اس کا شعلۂ غضب بجھ گیا۔ کہنے لگی، اچھا اس بد اطوار بدکردار کا ذکر نہ کیجیو کہ اپنی بیٹی ہرگز اسے نہ دوں گی اور ایسے خائن کو اپنی دامادی میں کبھی نہ لوں گی۔ آخر حسن آرا نے تاج الملوک کی تصویر جمیلہ خاتون کے ہاتھ میں دی اور کہا یہ تصویر شرقستان کے شہزادے کی ہے۔ دیکھ ایسا نقشہ قلم تقدیر نے صفحۂ عالم پر آج تک نہیں کھینچا اور اس پرداز کا چہرہ ورقِ جہاں پر دوسرا نہیں بنایا۔ اس یاسمین گلشن محبوبی کو اس گل خوبی کے ساتھ ملا اور اس زہرۂ فلک حسن کو اس ماہ برجِ سعادت کے پہلو میں بٹھا۔

الغرض وہ چارونا چار راضی ہوئی۔ کہنے لگی، بہنا اس کو کہاں ڈھونڈوں اور کس تدبیر سے لاؤں؟ حسن آرا نے کہا تم خاطر جمع سے شادی کی تیاری کرو۔ اس کو فلانی تاریخ دولہا بنا کر برات سمیت لے آتی ہوں۔ یہ کہہ کر رخصت ہوئی، پل مارتے ہی جزیرۂ فردوس میں آپہنچی اور یہ ذکر من و عن شہزادے کے آگے کیا، پھر وصل کا بھروسا دیا۔

انیسویں داستان

تاج الملوک اور بکاؤلی کے بیاہ کا

باغبان اس گلستان کا گل اور بلبل کی مواصلت یوں بیان کرتا ہے کہ جمیلہ خاتون نے جو گفتگو کہ حسن آرا میں اور اس میں ہوئی تھی، فیروز شاہ سے جا کر اظہار کی اور تصویر شہزادے کی دکھائی۔ اس نے سمن رو کے ہاتھ بکاؤلی کے پاس بھیج دی کہ یہ تصویر شرقستان کے شہزادے کی ہے۔ بالفعل اس زمانے میں ایسا جوان کہیں نہیں، تو کہ آدم زاد کے سودے میں دیوانی ہورہی ہے اور جانِ لطیف ایک خاکی کثیف کے پیچھے کھو رہی ہے، تیری مرضی ہو تو اس کے ساتھ بیاہ کردوں؟ میری دانست میں تو نوع انسان میں ایسا شخص کمتر ہوگا، بلکہ پریوں پر بھی حرف ہے۔

وہ خوشی خوشی تصویر لیے ہوئے شہزادی کے پاس آئی اور بادشاہ کی زبانی جو حقیقت سنی تھی کہہ کر سنائی۔ اس محو جلوۂ ناز نے اس کو نگاہ غور سے دیکھا تو اپنے ورقِ دل کی صورت کے مطابق پایا بلکہ خط و خال میں بھی سر مو فرق نہ دیکھا۔ جی میں سمجھی کہ یہ کار پردازی اور نیرنگ سازی بہن روح افزا کی ہے۔ واقعی وہ چھتیسی اپنے قول کی بڑی سچی ہے۔ مسکرا کر سمن رو پری سے کہا کہ دیکھ تجھے میرے سر کی قسم! یہ اسی شخص کی تصویر ہے جس کے خزانِ غم سے میرا گل نارسیدہ کمھلایا ہے اور غنچۂ نو دمیدہ مرجھایا ہے۔

وہ ملاحظہ کرکے بے اختیار مارے خوشی کے اچھل پڑی اور بولی، ہاں شہزادی بے شک یہ تصویر شہزادے کی ہے۔ لو اب ہنسو بولو، خوشیاں کرو جو تمھارا مطلب تھا سو خدا نے پورا کیا۔ یہ کہہ کر بادشاہ کے حضور میں آئی اور یوں عرض کی کہ حضرت فرزند ماں باپ کے تابع ہیں۔ ان کی سعادتمندی اسی میں ہے کہ والدین کی مرضی کے خلاف نہ کریں اور ہر حال میں ان کی خوشی کو اپنی خوشی پر مقدم رکھیں۔ اگر دیو ان کے پسند پڑے تو بیٹی اس کو غلمان سمجھے اور جو وہ ایک سیاہ اس کے واسطے تجویز کریں تو اس کو ماہ کنعان جانے۔

فیروز شاہ اس کی گفتگو سے نہایت شاد ہوا اور شادی کی تیاری کا حکم دے دیا۔ تمام جزیرۂ ارم کی دکانوں کو نقش و نگار تازہ سے آرائش دی۔ اندر باہر نئے فرش بچھ گئے، ناچ رنگ ہونے لگا، چار طرف شادی کی دھوم مچ گئی۔ جا بجا رقعے بھجوائے، پریوں کے غول کے غول چاروں طرف سے آئے، مجلس نشاط آراستہ ہوئی، شراب چلنے لگی، تورے جانے لگے، لوگ ضیافتیں کھانے لگے۔

فیروز شاہ ہر ایک کے رتبے کے موافق اس کی خاطر داری اور مہمانداری آپ بھی کرتا تھا۔ اہلکار جو اس کام پر معین تھے ان پر غافل نہ رہتا تھا۔ آغاز کار کا بخوبی انجام ہوا اور جزیرۂ فردوس میں مظفر شاہ نے بھی اسی طرح سے تاج الملوک کی شادی کی تیاری اور لوگوں کی مہمانداری شروع کی۔

پھر بروز معیّن وزیروں امیروں کو حکم کیا کہ لباس نئے رنگین پہنے اور سرداران لشکر کو بھی کہہ دیں کہ مع فوج آراستہ ہوئیں اور محل میں حسن آرا نے بھی اپنی مصاحبوں اور خواصوں کو بہ آئین شائستہ آراستہ کیا اور آپ نیا لباس اور زیور جواہر کا پہنا۔ اس کے بعد سُبھ گھڑی نیک ساعت دیکھ کر شہزادے کو ایک جڑاو چوکی پر بٹھلاکر شہانہ جوڑا پہنایا، شملہ سر پر رکھ کر پیچھے گوشوارہ، آگے موتیوں کا سہرا اور اس پر پھولوں کا سہرا باندھا۔ جیغہ کلغی سر پیچ لگایا، طُرّہ رکھا، گلے میں موتیوں کا مالا، پھولوں کی بدھی پہنائی، مرصّع کے نورتن بازوؤں پر باندھے۔ پھر ایک پری پیکر گھوڑ ے کے گنگا جمنی ساز لگا کر موتیوں کا سہرا باندھ کر اس پر سوار کر دیا۔

اس کے بعد مظفر شاہ کئی بادشاہوں سمیت شہزادے کو بیچ میں لیے، امیر اور سردار داہنے بائیں، سواروں اور ہاتھیوں کے پرے آگے، تخت رواں، شتر سوار، تلنگوں کی کمپنیاں، پیادوں کی پلٹنیں باجے بجاتی ہوئی، خاص بردار، برچھی بردار، بان برداروں کے غول، سواروں کے پرے، آتش بازی چھٹتی ہوئی اور آرائش لٹتی ہوئی اور پیچھے پیچھے زنانی سواریاں۔ اس طرح بیاہنے چڑھا اور جزیرۂ ارم کو روانہ ہوا۔

یہاں بکاؤلی کو عورتیں اس صورت سے آراستہ کرنے لگیں:

پرستاروں نے یہ اس کو بنایا
جہاں میں حور جنت کو دکھایا
عجب صورت سے کی بالوں میں کنگھی
کہ بکھرا دیکھ کر ہر ایک کا جی
لپٹ آئی جو ان زلفوں کی یکبار
ہوئی کافور بوئے مشک تاتار
کھجوری گوندھی وہ پاکیزہ چوٹی
کہ سب اہل نظر کی جان لوٹی
جب اس کی موتیوں کی مانگ بھردی
فلک نے کہکشاں قربان کردی
چُنی جب اس کی پیشانی پہ افشاں
قمر پر ہوگئے تارے نمایاں
جو ٹیکا اس کے ماتھے پر لگایا
قمر نے اپنے دل پر داغ کھایا
برنگ مہر تاباں تھا جو چہرا
ہوا نار شعاعی منہ پہ سہرا
حسامِ ابرو پر خم بلا تھی
یہ کہیے اس کے قبضے میں قضا تھی
وہ آنکھیں بند کرنا بھی ادا تھی
چق مژگاں میں پوشیدہ حیا تھی
جب اس کے کان میں پہنایا جھمکا
پریشاں ہو گیا عقد ثریا
پہن کر نتھ خوشی سے رنگ دمکا
وہ مکھڑا چاند سا گھونگھٹ میں چمکا
مسی آلودہ دنداں پیارے پیارے
چمکتے تھے شب یلدا میں تارے
مسی مل کر جب اس نے پان کھایا
یہ مطلع پڑھ کے ناسخ کا سنایا
مسی بالیدہ لب پر رنگ پاں ہے
تماشا ہے تہ آتش دھواں ہے
بنایا خال کاجل سے ذقن پر
عجب جوبن تھا اس رشک چمن پر
چڑھی منہ پر دلہن کے ایسے شیریں
کہ پھیکی پڑگئی نظروں سے شیریں
گلے میں پہنا جب موتی کا مالا
بنات النعش کو حیرت میں ڈالا
اگر ہاتھوں میں ہیرے کے کڑے تھے
زر خالص کے زیب پا چھڑے تھے
بہت اس کے سوا بھی اور گہنا
مناسب جس جگہ تھا اس نے پہنا
کف رنگین میں جو دُزدِ حنا تھی
چرانے کو دل عاشق بلا تھی
اسے پہنائی ایسی لال انگیا
دلوں کو صید کرتی جس کی چڑیا
عجب انداز کا بنگلہ بنا تھا
کہ اس پر ملک دل بنگلا بنا تھا
وہ دوڑے آنکھ کے ڈوروں سے افزوں
کٹوری اس کی جام چشم مے گوں
کچیں ابھری ہوئیں برچھی کی نوکیں
جو رستم سامنے آئے تو ٹوکیں
وہ اس کا پیٹ گورا لال کرتی
دل چالاک کی کھوتا تھا پھرتی
نہ چھپتی تھی لطافت سیم تن کی
نمایاں صاف تھی رنگت بدن کی
نظر جس کی پڑی اس پر وہ بولا
شفق میں دیکھنا کیا چاند نکلا
مغرّق ایسا پہنا پائے جامہ
کہ جس کی مدح میں عاجز ہے خامہ
لباس و زیور و حسن و ادا کا
بیاں سب کا کروں، کب ہے یہ یارا
جو تھا ذی روح وہ تھا محوِ دیدار
جسے دیکھو بنا تھا نقشِ دیوار

القصہ جب برات قریب پہنچی تب فیروز شاہ نے کئی ارکانِ دولت استقبال کے لیے بھیجے۔ وہ نہایت تعظیم اور تکریم سے لے آئے اور جس جگہ محفل نشاط ومحفل انبساط برپا تھی، وہاں ہر ایک کو بڑی تعظیم وتواضع سے بٹھایا۔ آتش بازی چھٹنے لگی، آرائش لٹنے لگی۔

اور حسن آرا کے ساتھ اسی سلوک سے جمیلہ خاتون پیش آئی۔ سارے طریقے سمدھنوں کے بجالائی۔ غرض پچھلی پہر تک ناچ رنگ کی صحبت رہی، اس کے بعد اس گوہر یکتا کا اس لعل بے بہا کے ساتھ عقد باندھا۔ مبارک سلامت کا اندر باہر غل پڑگیا۔ پھر شربت پلانے لگے، شربت پلائی لینے لگے،گوٹوں کے اور پھولوں کے ہار پہنانے لگے، الائچیاں اور چکنی ڈلیاں، عطر کی شیشیاں دینے لگے۔ اس کے بعد دولہا کو گھر میں بلایا اور دلہن کو لا کر دولہا کے پاس شہانی مسند پر بٹھایا۔ نو بات چنوا کر، ٹونی گا کر، آرسی مصحف دکھا کر دولہا کو باہر رخصت کیا۔ دلہن کو ملنے کے لیے گود میں اٹھا کر لے گئے،جہیز نکلنے لگا۔ ادھر فیروز شاہ نے ایک مکان عظیم الشان کہ تخت گاہ سے قریب تھا، بیٹی داماد کے رات بھر رہنے کو نہایت تکلف سے سجوا یا۔ جب سب جہیز نکل چکا اور برات کے چلنے کی تیاری ہوئی، پھر دولہا کو گھر میں بلایا، ڈیوڑھی میں چھپّان لگا یا، دولہا نے دلہن کو گود میں لاکر کر چھپان میں سوار کیا پھر آپ اسی پری پیکر گھوڑے پر سوار ہوا۔ ہر ایک چھوٹا بڑا جلو میں چلنے کو تیار ہوا۔

اسی طرح آگے آگے تخت رواں، شتر سوار، پیادے اور سوار بےشمار، نقارچیوں کی قطار، روشن چوکی والے گاتے بجاتے ہوئے اور مہتمم دلہن کی سواری پر سے چاندی سونے کے پھول لٹاتے ہوئے اسی مکان پر پہنچے۔ ہر ایک باراتی اپنے اپنے گھر سدھارا، کہاروں نے دلہن کا چھپان اتارا،دولہا نے دلہن کو گود میں لے جا کر مسند پر بٹھایا۔ کھیر چٹائی، خدا خدا کرکے دن گزرا،رات آئی۔ سب کنارے ہوئے، خلوت ہوئی،پردے چُھوٹے، دولہا دلہن مسہری میں گئے،مزے لوٹے:

عاشق و معشوق بہم ہوں جہاں
شوق بہت جوش میں آئے وہاں
شمع کو پروانہ جو دیکھے کہیں
رہ نہ سکے،گر پڑے اس پر وہیں
صبر کرے پھول سے بلبل کہاں
لے ہی لے آغوش میں مانندِ جاں
طوطی جو آئینہ کو دیکھے کبھو
چین نہ آوے اسے بے گفتگو
دیکھا جو شہزادے نے اس دم وہاں
اس گل بنجار کو بے باغبان
لے کے بغل میں لیے بوسے کئی
شوق نے کچھ صبر کی رخصت نہ دی
لے چکا جب پستۂ لب کا مزا
سیب زنخداں کی طرف جھک پڑا
عارض گلرنگ کی خواہش جو کی
‌اس کی بھی لی خوب طرح چاشنی
ابھری ہوئی چھاتیاں وہ سخت سخت
گیند کے مانند جو پائیں کرخت
رہ نہ سکا، ڈال دیا ان پہ ہاتھ
چھوڑ دیا صبر و تحمل نے ساتھ
گوہر و الماس ہوئے پھر بہم
لینے لگے دونوں مزے دم بدم

جب خوب چھک گئے، ماندے ہوئے،پھر ہر ایک نے اپنا ساعد سیمیں دوسرے کا تکیہ بنایا،منہ سے منہ ملایا،سینے سے سینہ لگایا۔ غرض اس ہئیت سے آرام فرمایا۔

صبح ہوئی، مرغ نے بانگ دی۔ شہزادے نے اٹھ کر حمام کی راہ لی اور روح افزا اس عشرت گاہ میں آئی۔ بکاؤلی کو دیکھا، رات کی جاگی ملی۔ دلی غافل سوتی تھی،بال چھوٹے ہوئے ہیں،ہار ٹوٹے پڑے ہیں،ہونٹوں پر لاکھا نام کو نہیں رہا۔ آنکھوں کا کاجل سارا پھیل گیا، گالوں پر دانتوں کے اور چھاتیوں پر ہاتھوں کے نشان پڑے ہیں، یہ عالم دیکھ کر رہ نہ سکی، جلد اس کو جگایا اور مسکرا کر کہا، اے بہن اس روز تو مجھے کہتی تھی کہ تونے دیو مکار کے مدرسہ کنار میں شرح لوندی پڑھی ہے۔ آج تو تیرے اطوار سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ اس رات کو تو یار کے مکتب آغوش میں اپنے مطلب کی کتابوں کو بخوبی مطالعہ کرکے بڑی علامہ ہوئی ہے۔ دیر تک تونے مصدر ملابست کو مختلف صیغوں کے ساتھ گردانا اور عشرت کے مزید فعلوں کو الف وصل سے ربط دیا، شان فاعل اور علامت مفعول کما ینبغی دریافت کی اور تجرید سے اپنے پاؤں باہر رکھے، بلکہ خلوت میں قضیہ موجبۂ مباشرت کو عکس مستوی بنایا اور اشکال مختلفہ کے ضروب نتیجہ سے نتیجہ موافق مطلوب کے پایا۔ وصل فصل کا بھی طریقہ لے لیا اور اپنے مثلث کے نقطہ پر خط عمود کو قائم کیا۔

بکاؤلی یہ سن کر مسکرائی اور کہنے لگی، بھلا تمہارے منہ میں پانی کیوں بھر آتا ہے، مجھ کو صاف ان کنایہ آمیز باتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ تمہارا بھی یہی ارادہ ہے۔ بہت بہتر، میں راضی ہوں، شوق سے اپنی وصلی اس مشتاق کے آگے رکھو، پھر اس کے قلم کی روانگی اور قوت دیکھو کہ کس کس طرح سے توڑ جوڑ لگاتا ہے اور کیا کیا گل بوٹا بناتا ہے۔

حاصل یہ ہے کہ باہم اس طرح ہنسیاں بولیاں رہیں، آخر روح افزا اپنے ماں باپ سمیت رخصت ہو کر اپنے گھر گئی اور تاج الملوک نے فیروز شاہ کے محل میں جاکر اپنی بود و باش اختیار کی۔

بیسویں داستان

رخصت ہونے میں تاج الملوک اور بکاؤلی کے فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے

ایک روز تاج الملوک نے بکاؤلی سے مشورت کرکے فیروز شاہ اور جمیلہ خاتون سے رخصت مانگی۔ انھوں نے کہا بہت بہتر، ہزار غلام قمر طلعت اور سینکڑوں لونڈیاں خوبصورت عنایت کیں اور دان جہیز کے سوا کچھ نقد و جنس اور لوازمہ سفر کا دیا۔ اگر اس کی تفصیل لکھوں تو یقین ہے کہ ایک کتاب اور تیار ہو جائے، اس لیے قلم انداز کیا۔

القصہ شہزادہ بڑی شان و شوکت اور جاہ و حشمت سے بکاؤلی کو لے کر اپنے ملک پہنچا۔ دلبر اور محمودہ کی جان میں جان آئی، کشتِ امید سوکھی ہوئی پھر لہلہائی، اس کا آنا ان کے حق میں ایسا ہوا جیسے بیمار کے واسطے مسیحا کا، لیکن بکاؤلی کو جو اس حسن و جمال اور مال ومنال سے دیکھا حیران ہو گئیں، آئے ہوئے جوش جاتے رہے، ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ پری نے جو یہ رنگ ڈھنگ دیکھا، ہر ایک کو گلے سے لگایا، دلاسا اور فرمایا کہ تم خاطر جمع رکھو، کسی طرح کا اندیشہ نہ کرو، میں تمھارے عیش میں مطلق خلل انداز نہ ہوں گی، بلکہ اپنی خوشی پر تمھاری نشاط کو مقدم جانوں گی۔

چنانچہ ہمیشہ شیر و شکر کی طرح آپس میں سب کی سب ملی جلی رہیں اور سوتاپے کی جلن بھی کسی کو نہ ہوئی۔ شہزادہ بھی ان غنچہ دہنوں کے ساتھ شگفتگی سے اوقات بسر کرنے اور عیش و عشرت سے رہنے لگا۔

اکیسویں داستان

بکاؤلی کے جانے کی راجا اندر کے اکھاڑے میں اور ناچنا گانا اس کے حضور میں اور تفرقہ پڑنا تاج الملوک میں اور اس میں

اہل ہند کی کتابوں میں یوں لکھتے ہیں کہ امر نگر نام ایک شہر بستا ہے، وہاں کے باشندے ہمیشہ زندہ رہتے ہیں اور راجا اندر وہاں کا راج کرتا ہے۔ دن رات پریوں کے عیش و عشرت میں رہتا ہے، اس کا کام یہی ہے اور غذا اس کی ناچ اور راگ۔ عالم جنات بھی اس کے تابع ہیں، ساری پریاں اس کی مجلس میں جاتی ہیں اور رات دن ناچتی گاتی ہیں۔

ایک رات کا ذکر ہے کہ راجا نے فرمایا، بکاؤلی فیرو شاہ کی بیٹی مدت سے ہماری مجلس میں نہیں آئی، اس کا سبب کیا ہے؟ اور یہاں کے آنے کا مانع کون ہے؟ پریوں میں سے ایک پری نے عرض کی کہ وہ ایک انسان کے دام عشق میں گرفتار ہوئی ہے، بلبل بے قرار کی مانند نالہ و فریاد کیا کرتی ہے اور مدام اس کے عشق میں سرشار رہا کرتی ہے اور اپنے بیگانے سے اسے نفرت ہے۔ فقط اسی سے صحبت ہے، شراب وصل اس کے ساتھ پیتی ہے اور اس کے دم سے جیتی ہے۔

راجا یہ ماجرا سن کر غصہ میں آیا اور شعلۂ غضب اور بھی بھڑکا۔ کئی پریوں کی طرف اشارہ کیا کہ اس کو اسی وقت حاضر کرو۔ وہ تخت رواں لے کر تاج الملوک کے باغ میں آئیں اور بکاؤلی کو جگا کر راجا کے اعتراض اور غضبناک ہونے کا حال بیان کیا۔ وہ چار و ناچار اس پر سوار ہوکر امرنگر کو گئی اور وہاں کانپتی ہوئی راجا کے سامنے آکر آداب بجا لائی، ہاتھ باندھ کر کھڑی رہی۔

مہاراج نے نگاہ قہر سے اسے دیکھا اور بہت سا جھڑکا۔ آخر فرمایا کہ اس کو آگ میں ڈال دو کہ انسان کے بدن کی بو باس اس میں نہ رہے اور یہاں کی صحبت کے قابل ہو۔ پریوں نے فوراً اس نسترنِ باغِ لطافت کو اور یاسمین چمن نزاکت کو ہاتھوں ہاتھ وہاں سےباہر لاکر آتش کدے میں ڈال دیا، وہ جل کر راکھ ہو گئی:

جل گیا عاشق تو کیا غم ہے کہ اس کی چشم تر
دیکھتی ہے یار کو گلشن میں مانندِ خلیل

اس کے بعدپانی پر کچھ منتر پڑھ کر اس پر چھڑکا،فی الفور جی اٹھی اور ہیئت اصلی پر آکر مجلس میں ناچنے لگی۔ پہلی ہی ٹھوکر سے اہل مجلس کے دلوں کو پامال کیااور ایک ہی آمد و رفت میں تماشائیوں کو بے حال کیا۔ غرض ناچنے کا جو حق تھا ادا کیا۔ ساری مجلس کو محو کردیا، پھر تو واہ واہ کی صدا ہر ایک کے منہ سے نکلنے لگی اور آفرین و تحسین کی آواز ہر طرف سے بلند ہوئی۔ بکاؤلی آداب بجا لاکر راجا سے رخصت ہوئی، تخت پر بیٹھ کر اپنے باغ میں آئی،گلاب کے حوض میں نہا دھو کر شہزادے کی بغل میں سو رہی۔ صبح کو اپنے معمول پر اٹھی، سنگار کیا،لوگ بھی اندر باہر کے اپنے اپنے کام میں مشغول ہوئے۔

القصہ ہر شب وہ غیرتِ ماہ امر نگر میں جاتی، پہلے تو اسے آگ میں جلاتے، پھر راجا کے حضور میں ناچتی گاتی، جب تھوڑی سی رات باقی رہتی، رخصت ہوکر اپنے گھر آتی اور گلاب کے حوض میں نہا کر اس دریائے خوبی سے ہم آغوش ہوتی اوراپنے جی کو ٹھنڈا کرتی:

قبول اس نے کیا جلنا سدا کا
نہ چھوڑا وصل لیکن دلربا کا
جلاتی تھی تن نازک کو ہر شب
نہ کھلتے تھے شکایت کو کبھی لب
وہ عاشق سے نہ کرتی تھی کنارا
فراق اس کا نہ تھا ہر گز گوارا
جو جل مرنے کو اپنے دل پہ ٹھانے
وہ ہر آتش کدے کو آب جانے
گوارا ہوتی ہے سب نارِ سوزاں
سہا جاتا نہیں پر سوزِ ہجراں
جسے ہو شمع رویوں کی محبت
اسی سے پوچھیے جلنے کی لذت

مگر شہزادے کو ہرگز اس بات کی خبر نہ تھی۔ ایک رات کا ذکر ہے کہ بکاؤلی تو اپنے معمول پر وہاں گئی ہوئی تھی، یہاں شہزادے کی آنکھ کھل گئی۔ پلنگ پر اسے نہ دیکھا، ہر طرف قصر اور باغ میں جاکر ڈھونڈا، کہیں اس کا سراغ نہ ملا۔ نہایت تنگ ہوکر اپنے خلوت کدے میں آ کر بیٹھا اور یہاں تک اس رشک بُت چین کی راہ دیکھی کہ آنکھیں پتھرا گئیں۔ آخرش اسی حالت میں سوگیا۔ بکاؤلی بھی اپنے وقت پر آ کر اس کے پاس سو رہی۔

صبح کو تاج الملوک نے بدستور جو اس کو ساتھ سوتے دیکھا، زیادہ تر متعجب ہوا لیکن دم نہ مارا۔ اس راز کو مطلق نہ کھولا، مگر اس کی تحقیقات کے واسطے دوسری رات اپنی ایک انگلی چیر کر نمک چھڑک دیا کہ مبادا آنکھ نہ لگ جائے اور وہ بھید چھپے کا چھپا رہے۔

غرض آدھی رات گئے تخت پھر آ کر موجود ہوا۔ بکاؤلی اٹھ کر بناؤ سنگار کرنے لگی اور شہزادہ بھی چھپے چھپے جا کر اس تخت کا پایہ پکڑ کر بیٹھ رہا۔ اتنے میں وہ بھی آ کر سوار ہوئی اور پریاں اس کو لے کر اڑیں۔ تاج الملوک اسی پایہ میں لٹک گیا پھر اس قدر بلند ہوا کہ زمین اس کو نظر آنے سے رہ گئی۔ جھٹ پٹ راجا اندر کے دروازے پر جاکر اتار دیا۔ بکاؤلی اتر کر ایک طرف کھڑی ہو رہی اور یہ بھی الگ ہوکر خدا کی قدرت کا تماشا دیکھنے لگا۔ غرض جس طرف آنکھ پڑتی تھی، ادھر پریوں کا جھرمٹ نظر آتا تھا اور ہر طرف آواز قسم قسم کے سازوں کی اور راگوں کی جو تمام عمر نہ سنی تھی متصل چلی آتی تھی۔ حاصل یہ کہ تاج الملوک نے وہ کچھ دیکھا جو کہیں نہ دیکھا تھا اور وہ سنا جو کہیں نہ سنا تھا، دنگ ہوکر رہ گیا۔ اتنے میں کئی پریاں دوڑیں اور بکاؤلی کو آتش کدے میں ڈال دیا وہ جل کر راکھ ہوگئی۔ وہ اس حادثہ کو دیکھ کر سب بھول گیا۔ بے اختیار دونوں ہاتھوں سے سر پیٹنے لگا اور جی میں یوں کہنے لگا، حیف ہے اس وقت طاقت نہیں رکھتا مَیں کہ پروانے کی مانند اس شمع رو کے ساتھ جلتا اور اپنے بدن کو راکھ کر کے اس سے ملتا۔ کیا کروں کچھ بس نہیں نہ قدرت فریاد کی ہے نہ جگہ داد کی۔

یہ اسی ادھیڑ بن میں رہا کہ انہیں میں سے ایک پری نے پانی پڑھ کر اس کی راکھ پر چھڑکا، فی الفور زندہ ہوئی اور راجا کی مجلس میں آئی۔ شہزادہ بھی اس کے پیچھے پیچھے چلا آیا۔ از بس کہ ازدحام تھا کوئی کسی کو پہچانتا نہ تھا، کسی نے نہ جانا کہ یہ کون ہے اور کیوں کھڑا ہے۔ اتفاقاً بکاؤلی کا پکھاوجی بڈھا ضعیف تھا، ناتوانی کے سبب اچھی طرح بجا نہ سکتا تھا، وہ رُک رُک کر ناچتی تھی اور باربار تیوری چڑھاتی تھی۔ شہزاہ یہ حال دیکھ کر بے چین ہوا، آخر رہ نہ سکا۔ سازندے کے کان میں جھک کر کہا اگر تیری مرضی ہو تو ایک دو گتیں میں بجاؤں کہ اس کام میں چالاک دست ہوں۔ اس نے اس بات کو غنیمت جانا، پکھا وج کو حوالے کیا۔ یہ تو اس کام میں بانی کارتھا اور اس کے دام محبت میں گرفتار۔ اس کی خواہش کے موافق بجانے لگا۔ پھر تو کیفیت ناچ کی ایسی بڑھی کہ در و دیوار سے واہ واہ کی صدا آنے لگی۔ راجا بھی یہاں تک محظوظ ہوا کہ اپنے گلے کا نو لکھا ہار اتار کر بکاؤلی کو عنایت کیا۔ وہ ناچتے ناچتے جو پیچھے ہٹی، بجنس پکھاوجی کے حوالے کیا۔ اس کے بعد مجلس راگ رنگ کی برخاست ہوئی۔

شہزادہ جس طرح گیا تھا اسی طرح اپنے باغ میں آیا۔ بکاؤلی گلاب کے حوض کی طرف گئی، یہ خواب گاہ میں جا کر سو رہا۔ لیکن صبح کے وقت مسکراتا تھا، پری نے پوچھا کہ غیر عادت مسکرانے کا کیا سبب ہے۔ کہا کہ رات کو عجیب خواب دیکھا ہے، اس واسطے ہر گھڑی مجھے ہنسی آتی ہے۔ وہ کہنے لگی خدا خوب کرے مگر میں بھی سنوں کیا دیکھا ہے۔ تاج الملوک بولا یہ دیکھا ہے کہ آدھی رات کو تو کہیں جاتی ہے اور مجھے خبر نہیں کرتی۔ بکاؤلی یہ سن کر ڈری کہ مبادا یہ بھید اس پر کھلا ہو اور احیاناً یہ بھی میرے ساتھ وہاں گیا ہو۔ بضد ہوئی کہ سارا سنے۔ پھر کہنے لگی اور بھی کچھ دیکھا یا نہیں۔ شہزادہ بولا گویا آج کی رات میں بھی تیرے ہمراہ گیا ہوں اس طرح کہ پریا ں ایک تخت لائیں، تو اس پر سوار ہوئی اور میں پائے سے لٹکا ہوا چلا گیا۔ بس آگے نہیں کہتا کہ خواب کی بات بے سرو پا ہوتی ہے، اعتبار نہیں رکھتی، خواب و خیال ہے، بے فائدہ کون بکے۔

بکاؤلی بولی کہ تجھے میرے سر کی قسم جو دیکھا ہے سب کہہ۔ غرض تاج الملوک تھوڑا کہتا پھر خاموش ہو رہتا اور وہ قسمیں دے دے کر پوچھتی جاتی۔ آخر سارا ماجرا اس نے آخر تک ہو بہو کہہ کر سنایا اور وہ ہار راجا کا بخشا ہوا تکیے کے نیچے سے نکال کر دکھلایا۔ تب پری نے اپنا سر پیٹ لیا اور سُن ہو گئی۔ ایک دم کے بعد بولی، شہزادےیہ تو نے کیا کیا۔ اپنا دشمن تو آپ بنا۔ دیکھ میں نے تیری خاطر ماں باپ کے ہاتھ سے کیا کیا رنج اٹھائے اور ہر کس و نا کس کے طعنے کھائے۔ یہاں تک کہ ہر رات آگ میں جلنا قبول کیا مگر تجھے نہ چھوڑ ا اور تیری راہ سے منہ نہ موڑا۔ چنانچہ تو نے آنکھوں سے بھی یہ تماشا دیکھا، کچھ کہنے کی حاجت نہیں، کا ش کہ تو اس مجلس میں نہ جاتا اور اپنے گھر میں مری جدائی کا صدمہ اٹھاتا تو بہت بہتر تھا، کیونکہ اس کا انجام اچھا نہیں۔ اب حیران ہوں اگر تجھے نہ لے جاؤں تو بنتی نہیں، جو لے جاؤں تو کہاں تک چھپائے رکھوں۔ خیر جو کچھ تقدیر میں ہےسو اَمِٹ ہے مگر آج طالع آزماتی ہوں، تجھے لے جاتی ہوں، اپنی کر گزرتی ہوں، آگے جو مرضی خدا کی۔ چنانچہ معمول کے وقت تاج الملوک سمیت گئی اور راجا سے سلام مجرے کے بعد عرض کی کہ آج ایک بجانے والا بہت چالاک اپنے ساتھ لائی ہوں، اگر حکم ہو تو یہاں آکر بجائے۔ راجا نے فرمایا، بہت اچھا ہماری عین خوشی ہے۔ الغرض وہ بجانے لگا اور وہ نازنیں ناچنے لگی۔ آخر یہ کیفیت ہوئی کہ ساری محفل غش کر گئی۔ راجا بھی مست ہو کر جھومنے لگا اوراسی عالم میں فرمایا مانگ جو مانگنا چاہتی ہے، محروم نہ جائے گی۔ یہ سن کر بکاؤلی نے آداب بجا لا کر عرض کی کہ مہاراج کی بدولت لونڈی کو کسی چیز کی کمی نہیں اور کچھ ہوس دل میں باقی نہیں، مگر اس پکھا وجی کو بخشیے کہ یہی آرزو ہے۔ سنتے ہی اس سخن کے راجا برہم ہوا اور شہزادے کی طرف غضب سے دیکھ کر بولا کہ اے آدم زاد تو ہی اس کو چاہتا ہے اور یہ تجھے چاہتی ہے؟ بہت اچھا! ذرا تو اس کا مزاچکھ اور لذت اٹھا۔ تو چاہتا ہے کہ بکاؤلی سی پری کو بے محنت و مشقت یہاں سے لے جاؤں اور اپنی بغل گرم کروں یہ نہ ہوگا۔ پھر بکاؤلی کی طرف منہ پھیر کر کہا اے مشاطہ! کیا کروں سخن تجھ سے ہار چکا ہوں۔ جا اسے تجھے بخشا لیکن بارہ برس تک تیرا نیچے کا دھڑ پتھر کا رہے گا۔

یہ حرف جو اس سنگدل کے منہ سے نکلا وہ سیم تن اسی ہئیت کی ہو کر غائب ہو گئی۔

ہیہات ازل سے ہے یہ عالم
شادی و غمی ہوئی ہے تواَم
دم بھر کی بہار میہماں ہے
آخر وہی باغ میں خزاں ہے
گہ سر پہ ہو تیرے تاج شاہی
گہ خاک پہ بستر تباہی
گل سا کبھی دل فراغ دیکھے
گہ دل پہ ہزار داغ دیکھے
دم بھر جو نشاط و عیش ہووے
خمیازہ پھر اس کا طیش ہووے

بائیسویں داستان

تاج الملوک کے سنگل دیپ میں پہنچنے کی اور بکاؤلی سے ملنا اور چتراوت راجا کی بیٹی کا اس پر عاشق ہونا

کہتے ہیں کہ بکاؤلی راجا اندر کی بد دعا سے پتھر کی ہو کر وہاں سے غائب ہو گئی اور شہزادہ سیماب کے مانند بیتاب ہو کر لوٹنے لگا، تب اس کو پر یوں نے اٹھا کر نیچے ڈال دیا۔ وہ ایک جنگل میں جا پڑا۔ تین روز تک بے ہوش رہا، چوتھے دن جو آنکھ کھلی تو بجائے دلدار کے، پہلو میں خار دیکھے۔ ہر طرف جاکر شورو فریاد کرنے لگا اور بکاؤلی کی خبر ہر ایک درخت سے پوچھنے لگا۔ ایک دن اسی طرح ایک سنگ مرمر کے تالاپ پر جا پہنچا، چاروں طرف سیڑھیاں پاکیزہ اور خوبصورت بنی ہوئی تھیں اور میوہ دار درخت بھی بہت سے اس کے گرد لگے تھے۔

شہزادے نے ایک ساعت وہاں دم لیا پھر نہاکر ایک سایہ دار درخت کے نیچے پڑ رہا اور اپنی محبوبہ کے تصور میں سوگیا۔ ناگاہ کئی پریاں کہ اس کے حال سے واقف تھیں وہ بھی وہاں پہنچیں اور اسی تالاب میں نہا کر بال سکھانے لگیں۔ ان میں سے ایک کی نظر جو شہزادے پر جا پڑی، ساتھیوں سے کہنے لگی بکاؤلی کا پکھاوجی یہی ہے۔ تاج الملوک کے کان میں جونہی یہ آواز پڑی آنکھیں کھول دی اور پریوں سے باچشم خونبار پوچھا، تمھیں کچھ معلوم ہے کہ بکاؤلی کہاں ہے۔ ان کا دل اس کا حال زار دیکھ کر بھر آیا۔ بولیں کہ آنکھوں سے تو نہیں دیکھا مگر سنا ہے کہ سنگلدیپ میں ایک بتخانے میں ہے، مگر نیچے کا دھڑ ناف تک پتھر کا ہوگیا ہے۔ تمام دن اس مندر کا دروازہ بند رہتا ہے اور پھر رات کے بعد صبح تک کھلا۔ شہزادے نے پوچھا کہ وہ کس طرف ہے اور کتنی دور ہے؟ انھوں نے جواب دیا، راہ کی مصیبت تو ایک طرف آدمی اگر ساری عمر چلے جب بھی وہاں نہ پہنچے۔ تاج الملوک یہ سن کر مایوس ہوا اور اپنی زندگی سے ہاتھ اٹھا کر ٹکر یں مارنے لگا اور پتھروں سے سر پھوڑنے لگا۔ پریوں نے اس کے حال پر رحم کھا کر آپس میں مصلحت کی کہ اس آفت رسیدہ کو وہاں تک پہنچایا چاہیے۔ آگے اس کی قسمت میں جو ہونا ہے سو ہووے گا۔ اسے لے کر اڑیں اور بات کی بات میں وہاں پہنچادیا۔ ایک لمحہ کے بعد اس مایوس کو ذرا حواس آئے تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شہر رشکِ بہشتِ بریں زمین پر آباد ہے اور عجائب اس کا سواد ہے۔ رنڈی مرد وہاں کے کوئی بدصورت نظر نہیں آتا، بلکہ درخت بھی وہاں کے ایسے قد موزوں رکھتے ہیں کہ دیکھنے والے دنگ رہتے ہیں۔

آخر سیر کرتا کرتا بازار کی طرف جا نکلا، راہ میں ایک برہمن پجاری ملا۔ اس سے پوچھا کہ دیوتا تم کون سے ٹھاکر دوارے کے پجاری ہو۔ برہمن نے کہا کہ راجا چترسین جو اس ملک کا والی ہے، اس کے ٹھاکر دوارے کا میں پجاری ہوں۔ پھر تاج الملوک نے پوچھا کہ اس شہر میں کتنے ٹھاکروں کے مندر ہیں جو معروف ومشہور تھے۔ برہمن نے بتادیے پھر یہ کہا کہ تھوڑے دنوں سے دکھن کی طرف دریا کے کنارے ایک نیا مندر پیدا ہوا ہے، دن بھر اس کا دروازہ نہیں کھلتا، کوئی نہیں جانتا کہ اس میں کیا ہے۔ شہزادہ یہ بات سن کر خوش ہوا اور اسی طرف جا کر دریا کے کنارے مندر کے دروازے پر بیٹھا رہا۔

پہر رات جب گزری، اس استھان کے کواڑ یکایک کھل گئے۔ تاج الملوک اندر گیا، دیکھا کہ بکاؤلی آدھی بصورت اصلی اور آدھی پتھر کی دیوار کا تکیہ لگائے پاؤں پھیلائے ہوئے بیٹھی ہے۔ اس کو دیکھ کر حیرت سے پوچھا تو یہاں کیوں کر آیا؟ اس نے تمام ماجرا کہہ کر سنایا، پھر ساری رات دونوں باتوں میں مشغول رہے۔ پھر صبح ہونے لگی، بکاؤلی نے شہزادے سے کہا اب تو یہاں سے جا۔ اگر آفتاب نکل آئے گا تو مجھ ساتو بھی ہو جائے گا۔ اس کے بعد ایک موتی اپنے کان سے نکال کر اس نے دیا کہ بالفعل اسے بیچ کر اسباب درست کر اور چندے اوقات کاٹ۔

تاج الملوک اسے لے کر شہر میں آیا اور اسے کئی ہزار روپے میں بیچ کر ایک حویلی پختہ مول لی۔ اسباب ضروری بھی بنالیا اور کئی خدمت گار نوکر رکھے۔ جب رات ہوتی، بکاؤلی کے پاس جاتا اور صبح اپنے بیگانے میں آتا۔ اسی طرح ایک مدت گزر گئی، بعضے بعضے اشخاص ہمسائے کے شہزادے سے آشنا ہو گئے تھے۔ اس کو شہر کی سیر دکھانے لگے۔ ایک روز تاج الملوک ان کے ساتھ سیر کو نکلا تھا، ایک گروہ سر و پا برہنہ بحالت تباہ نظر آیا۔ شہزادے نے یاروں سے پوچھا کہ یہ اشخاص اگرچہ بہ لباس فقیر ہیں لیکن بصورت امیر معلوم ہوتے ہیں، خدا جانے اس کا سبب کیا ہے۔ ان میں سے ایک بولا، ان میں بعضے شہزادے ہیں اور کئی امیرزادے لیکن سب جلے ہوئے آتش عشق اور اشتیاق کے اور نشانے ناوکِ فراق کے ہیں۔ قصہ ان کا یوں ہے کہ راجا چتر سین کی ایک بیٹی مہ پارہ بلکہ آسمان خوبی کا ستارہ ہے، اس کے مانند کوئی عورت حسین اس سرزمین میں نہیں ہے:

ناز ظاہر ہے قد موزوں سے
مے ٹپکتی ہے چشم مے گوں سے
سیکڑوں کُشتے اس کی ابرو کے
لاکھ بندی ہیں تارِ گیسو کے
زلف اس کی ہے جس قدر شب گوں
ہے سیہ بخت اُس قدر مفتون
امرت اور زہر آنکھیں ہیں اُس کی
دم میں ماریں بھی اور جِلائیں بھی
ننگ و ناموس جو کہ ہاتھ سے دے
اس کے کوچے کی سمت راہ وہ لے

قصۂ مختصر ایک تو وہ آپ ہی پری پیکر، قاتل گبرو مسلمان ہے، دوسرے اس کے ساتھ اور بھی دو کافر تن غارتگر ایمان ہیں، ایک تنبولی کی لڑکی نرملا نام اور دوسری مالی کی چیلا اسم با مسمّیٰ ہے۔ غرض تینوں آپس میں اخلاص دلی رکھتی ہیں۔ اٹھنا بیٹھنا جاگنا سونا کھانا پینا دن رات ایک جگہ ہے اور اپنے اپنے بیاہ کی بھی ہر ایک آپ مختار ہے۔ جسے پسند کرے اسی سے ہو۔ کسی کو اس بات میں دخل نہیں لیکن اب تک کوئی اس کا منظور نظر نہیں ہوا اور آنکھوں میں نہیں ٹھہرا۔ شہزادہ یہ سن کر چپکا ہو رہا۔ اتفاقاً ایک روز آوارۂ بیابانِ عشق اس حور سرشت کے محل کے نیچے جا نکلا۔ تماشائی اس کے گل رخسار کو بلبل وار تکتے تھے اور دیوانوں کی طرح آپس میں کچھ کچھ بکتے تھے اور وہ پری زاد بیٹھی جھروکے سے دیکھ رہی تھی کہ شہزادہ اس سے دو چار ہوا، عشق کا دل تیر کے پار ہوا، عنان صبر و شکیب ہاتھ سے چھٹ گئی، متاع ہوش و حواس لٹ گئی، بے خود ہو کر گر پڑی۔ نرملا اور چیلا نے دوڑ کر اٹھایا، منہ پر گلاب چھڑکا، عطر سونگھایا، کچھ ٹھر ی ہوش آیا لیکن سکتے کی سی حالت۔ ہر چند انھوں نے حال پوچھا، اس نے کچھ نہ بتایا۔ حیرت کو منہ پر اسی طرح رہنے دیا۔ تب نرملا نے کھڑکی سے نیچے جھانک کر شہزادے کو دیکھا اور چتراوت سے بیتابی کا سبب دریافت کیا پھر تسلی دے کر کہنے لگی کہ اے رانی تیری بے قراری نے تو ہم کو دیوانہ بنایا اور اضطرابی نے دامن صبر چھڑایا۔ اتنی کیوں گھبراتی ہے اور کس واسطے آپ کو دیوانہ بناتی ہے۔ تیرے باپ نے تو بیاہ کی تجویز تجھ پر موقوف رکھی ہے، جس کو تو پسند کرے گی اس سے تیری شادی کرے گا۔ خاطر جمع رکھ، اس جوان ابلق سوار کو، جس کو دیکھ کر تیری حالت تغیر ہوئی ہے، اگر فرشتہ ہے تو بھی تیرے دام سے جا نہیں سکتا اور کوئی اس کو چھڑا نہیں سکتا۔ دیکھ تو ایسے جال میں پھنساتی ہوں کہ ہل نہ سکے اور ایک قدم آگے چل نہ سکے۔

یہ کہہ کر ایک کٹنی اس کے حال کی تحقیقات کو بھیجی۔ وہ عجب شوخی و طنّازی سے آئی اور آتے ہی شہزادے کے گھوڑے کا شکار بند پکڑ کر کہنے لگی، تو نہیں جانتا کہ یہ شہر مقتل غربا ہے اور یہاں عاشقوں کو سولی دینا روا ہے۔ یہاں کے پری ر و مرغِ زیرک کو تارِ زلف میں ادا سے پھنسا لیتے ہیں اور ایک نگاہ ناز سے خاک پر گرا دیتے ہیں۔ تو کس جرات اور دلیری سے ادھر ادھر پھرتا ہے اور بادشاہوں کے محلوں کی طرف دیدہ بازی کرتا ہے، مگر آتش کا پر کالہ ہے جو شمع رُخوں کے دلوں کو پگھلاتا ہے اور سنگ دلوں کے کلیجوں کو موم بناتا ہے۔ کدھر سے آیا ہے اور کہاں کا رہنے والا ہے؟ اپنے حسب اور نسب اور وطن سے آگاہ کر۔

تاج الملوک اس کی باتوں سے تاڑ گیا کہ کسی کی بھیجی ہوئی ہے۔ بولا، اے چمکو! بہت باتیں نہ بنا، میرے داغ دل سے روئی کو نہ اٹھا۔ جا اپنے کسی مجروح کے زخم پر مرہم لگا۔ سن وطن میرا مطلع خورشید سے روشن تر ہے اور نام میرا افسر سلاطین سے دریافت کرکے جس کی تو بھیجی ہوئی آئی ہے اس سے جا کر کہہ دے کہ مجھ سے مسافر مصیبت زدہ کی طرف خیال نہ کرے اور مجھ سودائی پر دھیان نہ رکھے:

خوش جو آنے سے ہو اس کے پاس جا
ناز اس پر کر جو خواہاں ہو ترا

مشّاطہ جان گئی کہ وطن اس کا شرقستان ہے اور نام تاج الملوک۔ عالی نسب والاحسب ہے۔غرض تمام حال دریافت کرکے چتراوت سے آکر بیان کیا۔

شہزادہ روز پوشاک بدلتااور اس کے جھروکے کے نیچے سے ہوکر نکلتا۔چتراوت اس کے فراق سے چودھویں رات کے چاند کی طرح گھلنے لگی اور اس کے دردِ غم سے دل ہی دل میں گھٹنے لگی۔ چند روز تو یہ راز چھپا رہا، آخرش کھل گیا۔یہاں تک کہ ماں باپ نے بھی سنا،تب راجا نے ایک دلّالہ بڑی ہوشیار پختہ کار بلائی اور شہزادے کے پاس بھیجی کہ لڑکی کی نسبت کا پیغام اس کو دے اور اس کے دل کو ہر طرح سے لبھائے۔القصہ اس نے چترسین کا پیغام شہزادے کو دیااور اس گل اندام کا حسن بیان کیا۔اس نے تمام وکمال سن کر جواب دیا کہ تو میری طرف سے بعد سلام ونیاز کے راجا کی خدمت میں عرض کرنا کہ جو کوئی قبائے شاہی اور تاج شہنشاہی چھوڑ کر رنج سفر اور خرقۂ فقر اختیار کرے اور اپنے بیگانے سے کنارہ پکڑے، اس کی پابندی کا خیال کرنا‌فی الحقیقت پانی پر نقش بنانا اور ہوا کو گرہ میں باندھنا ہے۔یہ کہا اور اس کو رخصت کیا۔دلالہ نے تاج الملوک کے انکار کرنے کی کیفیت بادشاہ سے عرض کی۔ چتر سین اس کے اغماض کرنے سے متفکر ہوااور وزیر سے مشورت کی۔ اس نے عرض کی کہ ایک غریب بے خانماں کو اگر بادشاہ مطیع کرنا چاہےتوکیا بڑی بات ہے۔ آپ دیکھیے میں اس کو کس گھاٹ اتارتا ہوں۔ الغرض وہ مکار اس بات کے درپے ہوا کہ شہزادے کو چوری کی تہمت لگاکر گنہ گار ٹھہرائے اور اپنا کام اس کے ہاتھ سے یوں نکالے۔ سچ ہے کہ جو کوئی حکمت حکیم مطلق کی گوناگوں تامل کی نظر سے دیکھے تو کسی چیز کو خالی شر سے نہ پاوے اور ہر ایک شر کے بعد خیر ملاحظہ کرے۔

اے عزیز حق تعالیٰ نے عالم ارواح کو بدن سے نسبت دی ہے۔ پس جو حرکت کہ بظاہر بدن سے ہو، حقیقت میں روح سے ہے۔غرض جو فساد کہ اس عالم کون وفساد میں ہوتو اس کی طرف سے جان لیکن شر نہ سمجھ کہ درپردہ وہ خیر ہے، کیونکہ وہاں شر کی گنجائش نہیں۔

القصہ تاج الملوک کو خرچ کی احتیاج ہوئی۔ چاہا کہ بکاؤلی سے مانگے۔اس میں وہ سانپ کا من اپنی ران کا رکھا ہوا یاد آیا۔ جرّاح کو بلواکر ران چیر ڈالی اور مہرہ نکال کر زخم پر مرہم لگا دیا۔ جب کہ اچھا ہوا بازار میں لے گیا۔ جوہری دیکھ کر حیران ہوئے،وزیر کو جاکر خبر کی کہ ایک شخص ایسا جواہر بیچنے لایا ہے کہ ہم نے ساری عمر نہیں دیکھا اور بادشاہ کے سوا کوئی بھی اس کی قیمت دے ہی نہیں سکتا۔ سنتے ہی وزیر نے کئی جوان اس کے ساتھ کر دیے اور اس غریب الوطن کو ناحق پکڑاویا اور بلوایا۔ دیکھا تو وہی شخص ہے، فی الفور اسے چوری کی تہمت لگا کر قید کیا اور راجا کو یہ مژدہ سنایا کہ پرندہ دام توڑ کر اڑ گیا تھا، آج فریب سے میں نے اسے پھر پکڑا، اب یقین ہے کہ جو آپ کہیں گے قبول ہوگا۔

تیئیسویں داستان

بیاہ ہونے میں تاج الملوک کے چتراوت سے اور کھو دینے میں دَیر کے جس میں بکاؤلی تھی

جب شہزادے کو راجا چتر سین نے بندی خانے میں نہایت تنگ کیا کہ چتراوت سے شادی قبول کرے، لیکن وہ قید کی سختیاں ہر گز خاطر میں نہ لاتا تھا، بکاؤلی کے فراق میں دن رات چلّاتا تھا اور دیوار سے سر ٹکراتا تھا۔

ایک دن وہاں کے داروغہ نے راجا کی خدمت میں عرض کی کہ وہ نوگرفتار جو مانند مرغ نیم بسمل بے قرارانہ رات و دن خاک پر لوٹتا ہے، اگر اسے جلد آزاد نہ کیجیے گا تو خون ناحق سر پر لیجیے گا۔ چند روز میں تڑپ تڑپ کر مر جائے گا۔ مہا راج نے اسے تو کچھ جواب نہ دیا لیکن بیٹی کو کہلا بھیجا کہ تو جا کر اپنی شمع جمال کا پرتو اس پر ڈال۔ شاید تجھ پر پروانہ وار پگھل جائےاور اس کی متاع غرور جل جائے۔

چتراوت یہ بات سن کر نہایت شاد ہوئی، جلد آپ کو آراستہ کیا، حسن مادر زاد کو زیب و زینت سے دونا کر دیا پھر نرملا اور چیلا بھی بن ٹھن کر زُہرہ و مشتری کے مانند اس ماہر و کے ساتھ ہو لیں۔ غرض تینوں شہزادے کے پاس پہنچیں۔

گئی زنداں میں وہ رشک زلیخا
وہاں اس یوسف ثانی کو دیکھا
برائے نذر وہ لائی تھی جو جو
رکھا فی الفور اس کے آگے سب کو
وہ کیا تھی یعنی دندان مثل گوہر
عقیق لب بھی برگِ گل سے خوش تر
پھر ایسی ساعد سیمیں دکھائی
کہ چاندی چاند کی جن سے لجائی
رخ گل رنگ کا وہ زر دکھایا
چمک نے جس کی سورج کو جلایا
سنگھائی عطر سے بو اپنے تن کی
مہک شرمندہ کی مشکِ ختن کی
پھر آنکھوں کے اسے دکھلائے بادام
عوض عنبر کے زلفِ عنبریں فام
رکھا سیبِ ذقن پھر اس کے آگے
کہ اس کا بھی مزہ وہ شوخ چکھے
مگر رکھے انارِ سینہ مخفی
اطاعت اس نے کی شرم و حیا کی

لیکن شہزادے کی نظر قبول ان میں سے کسی پر نہ پڑی اور کوئی چیز اس کے نگاہ پر نہ چڑھی۔ فی الواقع اگر چتراوت کی آتش باطن تاثیر دار نہ ہوتی تو پھر اس کے تحفہ ظاہر ی خراب جاتے، ساری محنت رائگاں ہوتی۔

سن اے عزیز! رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے عبادت کو بادشاہ حقیقی کے نذر کے لائق نہ دیکھا۔عجز سے کہا کہ عبادت تیری میں نے جیسی چاہیے، نہیں کی۔ پھر کس کا منہ ہے کہ اپنی عبادت پر نازاں ہو۔بہتر یہی ہے کہ آپ کو اس کی محبت کی کھریا میں یہاں پک پگھلائے کہ اکسیر کی مانند خاک ہو جائے، تا شاہانِ اکسیر پسند کی آنکھوں میں سونے سے زیادہ نظر آئے۔

القصہ جب چتراوت نے دیکھا کہ چشم جادو اور تیغ ابرو سے کچھ نہ ہو سکے گا،بے طاقت ہوکر شہزادے کے آگے گرپڑی، تڑپنے لگی، یہاں تک کہ شہزادے کے دل کو بھی صدمہ پہنچا۔بے اختیار اٹھ کھڑا ہوا اور اس کو آغوش میں کھینچ لیا،شادی قبول کی کیونکہ بے اس کی خاطر داری اور رضامندی کے کسی طرح اپنی رہائی نہ دیکھی۔نرملا‌نے فی الفور یہ خوش خبری راجا کو پہنچائی کہ چتراوت گل مراد سے دامن بھر کر گھر میں آئی۔ چترسین نے فی الفور شہزادے کو بندی خانے سے نکالا، حمام میں بھیجا اور خلعت شاہانہ مرحمت فرمایا۔ پھر ایک مکان دلچسپ رہنے کو دیا اور نیک ساعت دیکھ کر اپنے خاندان کی رسم کے موافق اس دُرِّ ناسُفتہ کو اس لعل گراں بہا کے ساتھ بیاہ دیا۔ تاج الملوک چتراوت کے خلوت کدے میں آیا۔ نرملا اورچیلا اپنے اپنے عہدے پر آکر کھڑی ہو ئیں اور انھوں نے بھی گرمیاں بہت دکھلائیں، لیکن شہزادے نے کسی کی طرف آنکھ اٹھاکر نہ دیکھا،سرنیچے کیے بیٹھا رہا۔

جب پہر رات گزری، اٹھ کھڑا ہوا اور بکاؤلی کے مندر کی طرف چلا۔ چند روز سے اس گرفتار دام بلا کو نہ دیکھا تھا،تڑپ رہی تھی اور سر دے دے مارتی تھی۔ اتنے میں شہزادہ بھی جا‌پہنچا، دیکھتے ہی شاد ہوگئی اور سنبھل بیٹھی لیکن ہاتھ پاؤں کی مہدی دیکھ کر اس رشک سمن کا منہ غصے سے مثل لال ہوا، دل کوصدمہ کمال ہوا، طاقت خموشی کی جاتی رہی۔ کہنے لگی، واہ واہ شہزادے اتنے دنوں کے بعد آئے،مگر خوب رنگ لائے، عاشقوں کا نام ڈبویا،وفا کو داغ لگایا۔ زنہار عاشقی کا دم اب کبھی نہ بھرنا اور اپنا عشق کسی سے ظاہر نہ کرنا۔

ارے سنگ دل تونے یہ کیا کیا
کر انصاف اپنے ہی دل میں ذرا
مرا جسم گل رنگ ہو جائے سنگ
حناکا ہو پھر تیرے ہاتھوں پہ رنگ
میں پتھر کی ہوکر رہوں یوں پڑی
کرے عیش تو غیر سے ہر گھڑی
مرا غنچۂ دل یہاں داغ کھائے
وہاں اور گل کو گلے تولگائے
غضب ہے کہ معشوق غم سے جلے
شب وروز دست تاسف ملے
جو عاشق ہو خوش ہو کے دھومیں مچائے
وہ ماتم نشیں ہو، یہ شادی رچائے
نہ لے نام چاہت کا اے بد گہر
پڑیں پتھر ایسی تری چاہ پر
اٹھے درد وغم کی مرے دل میں ہوک
کرے چین تو حیف تاج الملوک
جو رنجش کی باتوں کو اس نے سنا
لگا بید سا کانپنے سر دُھنا
کہا، ہے ترا کس طرف آج دھیان
خیال ایسے دل میں نہ لا میری جان
اگرچہ ہوں شہزادۂ نام دار
مگر ہوں ترا بندۂ جان نثار
بلاشبہ ہوں مالکِ تخت وجاہ
میں تیرا ہوں مملوک اے رشک ماہ
مرا گوشت اور پوست سب ہے ترا
ترے ہاتھ مدت سے میں بک چکا
یہ جلوے نے دیوانہ مجھ کو کیا
کہ اپنوں سے بیگانہ مجھ کو کیا
مرے دل کو جس دن سے بھائی ہے تو
ان آنکھوں میں جیسے سمائی ہے تو
جبھی سے کوئی چیز بھاتی نہیں
نظر میں کوئی شے سماتی نہیں
ترے پا‎ؤں سا منہ نہیں چاند کا
تصدق ہے تجھ پر سے یہ دل مرا
سوا ترے پھر کس سے اے دل ربا
یہ عاشق ترا ہووے گا مبتلا
نہیں اور تجھ سی کوئی دوسری
پڑی آنکھ کس پر بھلا اب مری
نہ مجھ سے کبھی ہونا بدگمان
میں عاشق بہ دل ہوں ترا میری جان
یہ کیا دخل ہے حکم سے گر پھروں
جو فرمائے فوراً کوئے(١) میں گروں
تعلق نہیں اور کے ساتھ ہے
مرا جینا مرنا ترے ہاتھ ہے
مگر کیا کروں سخت ناچار تھا
بڑی قید میں میں گرفتار تھا
مجھے خواہش کتخدائی نہ تھی
مگر بے کیے بھی رہائی نہ تھی
نہ کرتا جو اس کام کو میں بھلا
تو آکر تجھے کس طرح دیکھتا
میں اس قید خانے میں مرتا ادھر
تو اس بت کدے میں تڑپتی ادھر
پہنچتی نہ میری خبر تجھ تلک
نہ حالت ترے درد کی مجھ تلک
فقط اپنا ہی دیکھتا جو ضرر
تو کرتا نہ یہ بات اے سیم بر
مجھے اپنا جی ایسا پیارا نہ تھا
مگر تیرا نقصان گورا نہ تھا
یقین تھا مرے دل کو اس بات کا
جیے گی نہ تو بھی جو میں مر گیا
اسی ڈر سے یہ امر میں نے کیا
مجھے ورنہ شادی سے کیا کا م تھا
پری نے یہ سن کر غضب سے کہا
“بھلا جھوٹ اتنا ہے کیوں بولتا
کوئی بیاہ کرتا نہیں جبر سے
حذر چاہیے ہے مرے صبر سے
وفا اور محبت تری دیکھ لی
یہ دو دن کی چاہت تری دیکھ لی
تجھے عیش و عشرت مبارک رہے
مجھے رنج و زحمت مبارک رہے
تجھے مجھ سے اس حال میں کام کیا
برے وقت کا کون ہے جز خدا”
سنا اس طرح کا جو اس نے کلام
لیا اپنا دل دونوں ہاتھوں سے تھام
دم سرد بھر بھر کے رونے لگا
دل و جان کو ہاتھوں سے کھونے لگا
پری نے جو دیکھا اسے اشک بار
لگی آپ بھی رونے بے اختیار
یہ حالت بڑی دیر طاری رہی
کہ دونوں طرف آہ و زاری رہی
پھر آخر کو وہ عاشق بے قرار
گرا اس کے قدموں پہ بے اختیار
پری بھی تحمل نہ کچھ کر سکی
اٹھا کر سر اس کا گلے لگ گئی
کہ میں تجھ سے جی میں نہیں کچھ خفا
یہ شکوہ زبانی فقط تھا مرا
ہے منظور بس مجھ کو تیری خوشی
خفا ہونے والی میں صدقے گئی
وہی مصلحت تھی جو تو نے کیا
میں عورت ہوں آخر مری عقل کیا
ہوا تجھ سے جو کچھ وہ مجھ کو قبول
نہ ہو تو ذرا اپنے دل میں ملول
ہزاروں ہوں گل رو اگر تیرے پاس
تو ہے جان و دل سے مگر میرے پاس

القصہ اسی طرح کے کلام آپس میں رہے، ہر گھڑی ادھر سے ناز تھا اس طرف سے نیاز تھا۔ القصہ تاج الملوک نے اپنے قید ہونے کا اور چتراوت سے شادی کرنے کا ماجرا مفصّل بیان کیا اور اس آئینہ رو کے دل سے غبار کدورت بالکل دھویا۔

اتنے میں صبح نمود ہوئی۔ تاج الملوک گھر گیا اور چتراوت کے پلنگ پر سو رہا، اسی طرح بلا ناغہ ہر شب بکاؤلی کے پاس جاتا تھا اور دن چتراوت کے ساتھ نقل اور حکایت میں کاٹتا تھا۔ وہ شہزادے کی ایسی حرکت سے نہایت حیران تھی، اور اپنے دل میں کہتی تھی، یا الٰہی طرفہ ماجرا کیا ہے کہ باوجود اس قربت کے میرے دل کی آگ شہزادے کے پنبہ زار کو سلگاتی نہیں اور اس کے خرمن تحمل کو جلاتی نہیں۔ تعجب ہے کہ بے دل و دل آرام ایک گھر میں ہیں اور تفاوت پورب پچھم کا سا ہے۔ اے عزیز جب تک تیرے دل کی آنکھیں اغیار کے حسن کو دیکھنے والی ہیں، تجھے یار کی صورت نظر نہیں آتی۔ ہرچند بے پردہ ہو، پہلے خار رغبتِ اغیار کو دل کی سرزمین سے اکھاڑ کر پھینک دے، پھر گل رخسار یار کو آئینہ دل میں دیکھ لے۔ اگر تو اپنے گلشن وجود کو بہ نظر تامل دیکھے تو اس میں رنگ و بو کے سوا کچھ نہ پاوے۔

القصہ ایک دن چتراوت نے شہزادے کا گلہ اپنے باپ سے کیا اور اس کی بے التفاتی کا سارا حال کہا۔ راجا نے کئی جاسوس شہزادے کے پیچھے لگائے تاکہ اس بات کو جلد دریافت کریں یہ تمام رات کہاں رہتا ہے۔ وہ اسی تلاش میں تھے کہ یہ اسی وقت پھر گھر سے نکلا اور اسی مندر میں گیا۔ رات بھر رہا، صبح ہوتے ہی پھر محل میں داخل ہوا۔ فوراً انھوں نے راجا سے جا کر عرض کی کہ شہزادہ فلانے مندر میں صبح تک رہتا ہے۔ اس سیہ دل نے کئی سنگ تراش چالاک دست اسی وقت بھیجے کہ اس کو کھود کر پھینک دیں۔ انھوں نے بموجب حکم کے اس مندر کو بیخ و بنیاد سے اکھاڑ کر دریا میں ڈال دیا۔

تاج الملوک اپنی عادت پر جو وہاں گیا تو اس کا نشان بھی نہ پایا۔ دیوانوں کی مانند وہاں کی خاک پر لوٹنے لگا اور یہ رباعی پڑھنے لگا:

اے جان اگر کھوج تیرا پاؤں میں
مرمر کے وہاں آپ کو پہنچاؤں میں
کچھ ہو نہیں سکتا ہے کروں کیا اے کاش
پھٹ جائے زمین اور سما جاؤں میں

آخر نا امید ہو کر دھاڑیں مار مار کر رویا اور پھر آیا۔

چند روز تو اس کو بےقراری کی لذت اور آہ و زاری کی کثرت رہی۔ جب اس صنم کے وصل سے بالکل مایوس ہوا، رونے کا بھی حاصل نہ دیکھا، چتراوت کی جادو بھری باتوں پر دھیان کیا۔ غرض نسیم وار اس کے غنچہ امید کو شگفتگی بخشی اور نیسانِ وصال سے اس کی صدف ِآرزو کو پُر گہر کیا۔

چوبیسویں داستان

بکاؤلی کے پیدا ہونے کی ایک کسان کے گھر میں اور تاج الملوک اور چتراوت کے ملنے میں اور پہنچنے میں ملک نگاریں کے

کہتے ہیں کہ اس بت خانہ کی زمین کو ایک کسان نے جوتا اور وہاں سرسوں بوئی۔ تاج الملوک وہاں کبھی کبھی سبزے کو دیکھنے جاتا تھا اور اپنے دلِ بے قرار کو وہاں کے سبزے سے تسکین دیتا تھا۔ جب وہ پھولی اور اس نے بہار پیدا کی، تب شہزادہ وہاں دونوں وقت جانے لگا اور یہ رباعی پڑھنے لگا:

کیا رنگ تمہارا ہے کبھو تو پھولو
آتی ہے مجھے عشق کی اس رنگ سے بو
نکلے ہو زمین سے اس لیے پوچھتا ہوں
گلشن سے میرے کچھ بھی خبر رکھتی ہو؟

القصہ وہ کھیت پکا اور کسان نے کاٹ کر اس کا تیل نکالا۔ ازبسکہ کسانوں کا چلن یہ ہے کہ جو چیز کھیت میں اگتی ہے، اس کو پہلے آپ کھاتے ہیں، اس لیے وہ اس کے جورو (بیوی) کے کھانے میں آیا۔ باوجودکہ وہ بانجھ تھی، خدا کی قدرتِ کاملہ سے حاملہ ہو گئی اور نو مہینے بعد لڑکی پری پیکر جنی۔ کسان کا گھر بے چراغ اندھیرا تھا؛ اس شمع کے پرتو سے روشن ہو گیا۔ ہر طرف دھوم پڑی کہ ایک بانجھ کے گھر سرسوں کے تیل کی تاثیر سے ایک لڑکی نہایت حسین ایسی پیدا ہوئی ہے کہ اس کے حسن کی تحریر و تقریر کسی سے نہیں ہو سکتی۔ منہ کی چمک نے چودھویں رات کے چاند کو ماند کر دیا۔ جب چودہ برس کی ہوگی تو سورج کو بھی داغ دے گی۔

رفتہ رفتہ یہ بات تاج الملوک کے بھی کان تک پہنچی۔ جانا کہ یہ تاثیر اسی سرسوں کی ہے۔ کسان کو اس کی بیٹی سمیت بلوا بھیجا۔ جوں ہی نظر اس لڑکی پر پڑی اس کی شکل اپنی معشوقہ کے مطابق پائی۔ نہایت شاد ہوا ۔سمجھا کہ یہاں اس نے جنم لیا ہے، بہت سے روپے اس کسان کو دے کر رخصت کیا کہ اس لڑکی کی بخوبی پرورش کر۔ جب وہ سات برس کی ہوئی، ہر طرف سے اس کی شادی کے پیغام کسان کو آنے لگے لیکن وہ اس اندیشے سے کہ شہزادے نے پرورش کے واسطے شدید تاکید کی تھی، خدا جانے آگے اسے کیا منظور ہے، ایسا نہ ہو کہ میری جان پر آ بنے، سب کو صاف جواب دیتا تھا اور بہانہ یہ دیتا کہ جس وقت وہ سیانی ہوگی، جسے پسند کرے گی اس کے ساتھ بیاہ دوں گا۔

قصہ مختصر جب اس نے دسویں برس میں پاؤں رکھا، تاج الملوک نے اس دہقان کے پاس ایک مشّاطہ کے ہاتھ یہ پیغام بھیجا کہ اپنی لڑکی کی شادی مجھ سے کر دے۔ یہ سن کر وہ بیچارہ کانپنے لگا اور بولا کہ مجھ غریب عاجز کا یہ منہ کہاں کہ بادشاہ کے داماد کو اپنا داماد کروں۔ اس کا آخر یہی پھل ہوگا کہ میری بیٹی لونڈی ہو کر رہے گی۔ ہزار افسوس! ایسی مہا سندر کو راجا کی بیٹی کی چپراسی بناؤں اور اس کے آگے اسے کمواؤں۔ یہ سن کر لڑکی نے کہا، سنو بابا میرا نام بکاؤلی ہے، میں پری ہوں، تم ایسے اندیشے نہ کرو، سب طرح خاطر جمع رکھو۔ کچھ وسواس نہیں کہ گل رنگین کی جگہ آخر سر پر ہے اور دُرّ بے بہا کا مکان شا ہوں کا افسر ہے۔ تم شہزادے سے کہلا بھیجو کہ چند ے اور بھی توقف کرے۔

کسان بے چارہ چپ ہو رہا۔ مشّاطہ نے آکر سب ماجرا حضور میں عرض کیا۔ تاج الملوک سنتے ہی مارے خوشی کے پھول گیا، سارا غم و الم بھول گیا اوراس کو بہت سا انعام دے کر رخصت کیا۔

جب بکاؤلی کے نحوست کے دن آخر ہوئے، سیکڑوں پریاں چاروں طرف سے وہاں آئیں اور سمن رو پری بھی پوشاک پر تکلف اور جواہرات بیش قیمت لے کر مع تخت زریں لے کر حاضر ہوئی۔ بادشاہ زادی نے کپڑے بدلے، گہنا پہنا۔ جب بن ٹھن چکی، ماں باپ سے کہا کہ میں اتنے دنوں تمھارے گھر مہمان تھی، اب رخصت ہوتی ہوں۔ باپ کا ہاتھ پکڑ کے اس کے مکان کے پچھواڑے لے گئی اور اشرفیوں کا دیگچہ کسی زمانے کا گڑا ہوا بتا دیا کہ اس کو نکال کر اپنے خرچ میں لاؤ۔ پھر رخصت ہوئی اور تخت پر سوار ہو بیٹھی۔

پریاں فی الفور اس کو اٹھا کر لے اڑیں اور جس جگہ کہ تاج الملک، چتراوت اور نرملا اور چیلا کو لے بیٹھا تھا آ کر اتریں۔ بکاؤلی نے سب کو وہیں چھوڑا، آپ اکیلی اندر گئی اور چتراوت کا ہاتھ پکڑ کر بہنوں کی طرح ناز سے گلے لگ گئی۔ وہ اس کی سج دھج دیکھ کر بے حواس ہوئی کہ مسند سے دب کر بیٹھی۔ پھر پری نے تمام اپنی سرگزشت شہزادی سے کہی اور اس کی سنی۔ پھر چتراوت سے کہا کہ اگر شہزادے کی رفاقت منظور ہو تو بسم اللہ، اٹھ کھڑی ہو، وہ تمھار گھر ہے۔ کچھ اندیشہ نہ کرو۔ چتراوت نے کہا کہ میری جان شہزادے کے ساتھ ہے، پھر اس جسم خالی کو کیونکر رکھ سکوں گی، بہ دل حاضر ہوں۔ اس وقت بکاؤلی نے پریوں کو اشارے سے کہا کہ تم ظاہر ہو۔

نقل کرتے ہیں کہ چپہ بھر زمین سنگل دیپ کی پریوں سے خالی نہ رہی۔ شہر میں دھوم پڑ گئی، لوگ گھبرائے، یہاں تک کہ راجا مضطرب ہو کر بیٹی کے محل میں دوڑا آیا۔ دیکھتے ہی اس کو شہزادہ استقبال کے واسطے اٹھ کھڑا ہوا، چند قدم بڑھا اور اپنی مسند پر بٹھایا۔ پھر اپنا اور بکاؤلی کا احوال مفصل کہہ کر سنایا۔ وہ پہلے تو بہت سا کُڑھا پھر نہایت خوش ہوا اور چتراوت کا ہاتھ پکڑ کر بکاؤلی کے ہاتھ میں دیا اور کہا کہ یہ میری اکلوتی بیٹی ہے، تیری پرستاری کے واسطے دیتا ہوں، توقع کہ اس پر نظر مہربانی کی رکھیو اور اپنی لونڈی جانیو۔ یہ کہہ کر رخصت کیا۔

تاج الملوک تخت پر سوار ہوا۔ بکاؤلی اور چتراوت داہنے بائیں بیٹھیں اور نرملا اور چیلا ادب سے سامنے۔ پھر پریاں تخت کو لے کر اڑیں، بات کی بات میں تاج الملوک کی ڈیوڑھی پر جا کر رکھ دیا۔

بکاؤلی اور چتراوت جو اندر گئیں، زین الملوک کے وزیر کا بیٹا بہرام نام کہ ملک نگاریں اور باغ اور قصر کا علاقہ اسی کا تھا، نذر لے کر دوڑا آیا اور آداب بجا لا کر اپنا نام و نشان بتایا۔ تاج الملوک نے اس پر بہت سی نوازش فرمائی، نذر لی، خلعت دیا پھر دولت خانے میں داخل ہوئے۔

دلبر اور محمودہ دیکھتے ہی شہزادے کو نہایت شاد ہوئیں پھر بکاؤلی اور چتراوت سے خوشی بخوشی ملیں۔

پچیسویں داستان

تاج الملوک کے نامہ لکھنے میں فیروز شاہ اور مظفر شاہ اور اپنے باپ کو اور آنے میں تاج الملوک کی ملاقات کو اور روح افزا پر عاشق ہو نا بہرام کا

مصور نگارستانِ عشق کا اس داستان کی تصویر صفحۂ  کا غذ پر یوں کھنچتا ہے کہ تاج الملوک نے فیروز شاہ اور مظفر شاہ اور زین الملوک کو مژدہ اپنے پہنچنے کا لکھ بھیجا اور اس کو پڑھ کر ہر ایک کا دل تر و تازہ ہوا۔ چنانچہ فیروز شاہ نے مع جمیلہ خاتون بڑی جاہ و حشمت سے شرقستان کی طرف کوچ کیا اور مظفر شاہ، حسن آرا اور روح افزا کو ساتھ لےکر اسی تجمل سے روانہ ہوا اور زین الملوک بھی خاص محل کو ہمراہ لے کر بڑے کرّ و فر، فوج اور لشکر سے چلا۔

غرض تھورے دنوں میں ملک نگاریں میں آ پہنچے اور اس کے گرد و نواح میں انسان اور پری زاد کی ایسی کثرت ہوئی کہ تل دھرنے کی جگہ نہ رہی۔ بارے تاج الملوک اور بکاؤلی کے دیدار سے سب مسرور ہوئے اور ہر ایک کے دل سے سارے رنج و الم دور ہوئے۔ تین روز تک جشن رہا، ناچ راگ دن رات ہوا کیا۔

چوتھے دن ہر ایک شاد و خُرّم رخصت ہو کر اپنے اپنے ملک کو رانہ ہوا، مگر بکاؤلی نے روح افزا کو نہ چھوڑا کہ چندے اور بھی اس کی صحبت سے حظِ زندگانی اٹھائے اور ایام جدائی کی سختیاں سب دل سے بھلائے۔ عقیق کا دالان اس کی خواب گاہ کے واسطے مقرر کیا۔ وہ پری پیکر اس حور سرشت کے ساتھ پہر رات گئے تک سرگرم گفتگو رہتی تھی، پھر خواب گاہ میں جا کر سو رہتی تھی۔

ایک رات کی نقل ہے کہ روح افزا کی چوٹی سوتے میں کھڑکی کے باہر جا پڑی تھی، اس کے موباف میں ایک گوہر شب چراغ چمک رہا تھا۔ بہرام بھی اسی وقت چاندنی کی سیر کرتا ہوا ادھر جا نکلا۔ جبکہ نگاہ اس پر جا پڑی، پہلے تو سمجھا کہ کالا اپنا من منہ میں لیے چڑھا جاتا ہے، پھر غور سے جو دیکھا تو معلوم کیا کہ کسی کی چوٹی میں لعل چمکتا ہے۔ جی میں سوچا کہ شاید بکاؤلی یہاں سوتی ہو اور اس کی چوٹی لٹک پڑی ہو۔ لیکن دل اس کا تمام رات پیچ و تاب کھاتا رہا، آخر رہ نہ سکا۔ صبح کو سمن رو پری سے پوچھا کہ فلانے مکان میں کون سوتا ہے، اس نے کہا کہ وہ روح افزا کی خواب گاہ ہے۔ سنتے ہی اس کے عشق کا سودا بہرام کے سر میں پیدا ہوا اور اس کی زنجیر زلف ڈھونڈنے لگا۔ چنانچہ دوسرے دن آدھی رات کے وقت کمند مار کر اس مکان میں جا کر اترا اور دالان کے اندر بے تابانہ چلا گیا۔ دیکھتا کیا ہے کہ وہ رشک زہرہ ایک سونے کے پلنگ پر ناز سے سوتی ہے۔ یہ کیفیت اس کی دیکھ کر کیفیوں کی مانند بے خود ہو گیا، اس نے تو کبھی اس شراب کو چکھا نہ تھا، اس کا نشہ سنبھال نہ سکا۔ بدمستوں کی طرح اس پری پیکر سے ہم آغوش ہو کر مچھیاں لینے لگا، فوراً اس کی آنکھ کھل گئی، دیکھا کہ بہرام ہے۔ اگرچہ اس کا سنگ عشق اس کے شیشہ دل کو بھی چور کر چکا تھا، لیکن اتنی چالاکی اور بے باکی اس کے طبع نازک کو خوش نہ آئی، بہت سا جھنجھلائی۔ آخرش طمانچہ مار کر ایسا دھکا دیا کہ کھڑکی سے گر گیا اور زار زار روتا ہوا اپنے گھر چلا گیا۔

صبح ہوتے ہی روح افزا نے بکاؤلی سے رخصت مانگی، اس نے ہر چند سماجت اور منت کی کہ چند روز اور بھی رہو، روح افزا نے نہ مانا، اس واسطے کہ اگر رات کی بات ظاہر ہوگی تو بکاؤلی مجھے ہنسی میں لے گی اور چھیڑے گی۔ آخرش نہ ٹھہری اور جزیرہ فردوس کی راہ لی، لیکن بہرام کے عشق سے دن کو چین سے نہ بیٹھتی تھی اور رات کو ایک دم آرام سے نہ سوتی تھی، بلکہ اکثر اوقات شمع فانوس کی مانند روتی تھی اور ساعت بساعت سموم غم سے مرجھاتی تھی اور اپنی نرگس مخمور میں گھڑی گھڑی آنسو بھر لاتی تھی۔

سچ ہے کہ جو دیدہ غور سے ملاحظہ کرے تو عشق کی بے تابی معشوق میں زیادہ دیکھے۔ یہ وہ گروہ ہے کہ کسی کے گلے میں کمند عشق ڈال کر دور سے اپنے حضور میں کھینچ لے اور کسی کو فَلاخن ہجر سے دور پھینک دے۔

چھبیسویں داستان

بہرام کے جزیرہ فردوس میں پہنچنے کی سمن رو پری کی مدد سے اور روح افزا سے ملنے میں بنفشہ کی توجہ سے

کہتے ہیں کہ بہرام روح افزا کے فراق میں یہاں تک نحیف ہو گیا کہ دبلاپے سے آنکھوں میں حلقے پڑ گئے، لیکن اس بات کی سمن رو کے سوا کسی کو اطلاع نہ تھی۔ چنانچہ وہ مُدام اس کو نصیحت کرتی کہ اے بہرام! اس خیال سے درگزر اور دل سے یہ اندیشہ فاسد دور کر، کیونکہ غیر جنس کا شجر محبت سوا فراق کے کچھ ثمر نہیں دیتا۔ خاک میں ملے ایسی دوستی جس سے ہمیشہ خرابی اور اضطرابی جی کو رہے اور ناحق ایک بے پروا کے پیچھے دکھ اور درد سہے۔ تو تاج الملوک کی بات پر نہ جا کہ نادر ہے یہ اتفاق ہو گیا کہ بکاؤلی کی طبیعت اس پر آگئی۔ والّا آدمی اور پری میں کیا مناسبت، لطیف اور کثیف میں ملاقات کی کون صورت۔ لیکن بہرام چپکا سنا کرتا تھا کچھ جواب نہ دیتا تھا۔ مگر یہ بیت پڑھتا تھا:

نصیحت کرتی ہو ناحق تم اتنی
نہیں جانے کی زنگی سے سیاہی

جب سمن رو نے دیکھا کہ خار عشق بہرام کے جگر میں ایسا چبھا ہے کہ اس کا نکلنا دشوار ہے، کہا اے خود فراموش! اس مہم میں مجھ سے تیری امداد اور تو کچھ نہیں ہو سکتی لیکن اگر تو کہے تو میں جزیرہ فردوس میں تجھے پہنچا دوں، پھر آگے تیری قسمت ہے۔

وہ اس بات پر بخوشی راضی ہوا۔ تب سمن رو نے اس کو زنانے کپڑے اور گہنا جس قدر مناسب تھا پہنایا۔ بہرام امرد تھا، ہو بہو ایک عورت پری پیکر بن کر چلا۔ پھر اس کا ہاتھ پکڑ کر جزیرہ فردوس کو لے اڑی اور اپنی منہ بولی بہن کے گھر میں کہ اس کا نام بنفشہ تھا اور وہی مشّاطہ روح افزا کی تھی، جا کر اتری۔ وہ سمن رو کے آنے سے نہایت مسرور ہوئی اور پوچھنے لگی کہ یہ نوجوان لڑکی تمہارے ساتھ کون ہے۔ اس نے کہا کہ میری دینی بہن ہے۔ اس کا جی اس سرزمین کی سیر کو بہت چاہتا تھا، اس واسطے میں تمہارے پاس لائی ہوں۔ اسے خوب طرح سیر کرواؤ، تماشے دکھاؤ۔ اس نے کہا بہت اچھا، آنکھوں سے۔ پھر سمن رو رخصت ہو کر بکاؤلی کے پاس آئی اور بہرام بنفشہ کے گھر میں رہا۔ وہ اسے دنيا کی نعمتیں کھلاتی تھی۔ شفقت اور مہربانی سے دن کو ہر ایک باغ میں لے جاتی تھی اور سیر دکھاتی تھی، شام کے وقت اپنے گھر آتی تھی۔ اسی طرح چند روز گزرے۔

ایک روز بنفشہ کہیں گئی تھی، اس وقت جو بہرام نے گھر خالی پایا تو اس کی مشاطگی کے اسباب میں سے آئینہ نکال کر اس کی پشت پر یہ شعر لکھا اور اسی جگہ رکھ دیا:

روشن نہ تھا یہ کچھ رخِ نیکوئے آئنہ
چمکائے تیرے عکس سے کیا روئے آئنہ
مشاطہ آئینہ کو تیرے آگے با آدب
بٹھلاتی ہے جو کھینچ کے زانوئے آئنہ
غیرت یہ کہتی ہے کہ اسے چور کیجیے
کیوں دیکھا تو نے جان جہاں سوئے آئنہ
سنمکھ جو تجھ سے ہوئے کسی اور طور سے
نظروں سے گر پڑے رخ دل جوئے آئنہ
آئینہ ایک دم نہ ٹھہرتا ترے حضور
باندھا ہے عکس زلف نے بازوئے آئنہ

الغرض کہ بنفشہ اپنے وقت پر مقابہ اور سنگار دان لے کر روح افزا کے پاس جا کر حاضر ہوئی پھر کنگھی اور چوٹی کر کے آئینہ جو اس کے ہاتھ میں دیا، شہزادی کی نظر جو اس کے پشت پر جا پڑی، نوشتہ دیکھا اور اس کو پڑھ کر معلوم کیا ہر چند راقم اس کا بہرام کے سوا کوئی نہیں لیکن اس بات کو اس طرح دریافت کیجیے تا اس کے آنے کا یقین ہوجائے اور دغدغہ دل میں نہ رہے۔ مشاطہ سے یوں مخاطب ہوئی، اے بنفشہ! جو چیز ہمیشہ ہے وہ کیا ہے اور وہ شے جو مدام غم کے ساتھ ہے کون شے ہے؟

اس نے ہر چند غور کیا لیکن جواب معقول نہ سوجھا۔ عرض کی کہ اس کا جواب لونڈی کل دے گی، اس وقت معاف کیجیے۔ یہ کہہ کر گھر آئی مگر اس پہیلی کے بوجھنے میں نہایت متفکر تھی۔ اس کی گھبرائی ہوئی صورت دیکھ کر بہرام نے پوچھا، بوا آج اتنی بےحواس کیوں ہو۔ تب بنفشہ نے سوال روح افزا کا اس کے سامنے بیان کیا اور کہا مجھ کو اس کے جواب میں اس کے سوا کچھ نہیں سوجھتا، یعنی اس حکیم مطلق کا نیرنگ دوام ہے اور شادی غم سے وابستہ مدام ہے۔

بہرام نے یہ سن کر کہا، اس سوال کا یہ جواب ہرگز نہیں، بلکہ یہ ہے: جس عاشق کے منہ پر معشوق کے ہاتھ کے طمانچے لگے ہیں وہ ہمیشہ سرخرو ہے اور مدام ناخوشی سے تلخ کام وہ ہے جس کا مطلوب محجوب ہے اور وہ ہر ایک کو اپنا محبوب سمجھتا ہے۔ نقل مشہور ہے کہ مجنون سے پوچھا کہ خلافت پیغمبر کی بعد خلفائے راشدین کے حق کس کا تھا؟ اس نے جواب دیا کہ لیلی کا۔

القصہ بنفشہ نے اسی کا جواب دیا ہوا صبح کو روح افزا کے حضور میں جا کر عرض کیا۔ سنتے ہی اس کو بہرام کے آنے کا یقین ہوا۔بنفشہ سے پوچھنے لگی سچ کہہ،یہ جواب کس نے دیا۔ اس نے ہر چند کہا کے رات کو میرے خیال میں گزرا تھا لیکن پری نے ہرگز نہ مانا۔ بنفشہ نے مجبور ہو کر کہا،کہ سمن رو پری اپنی منہ بولی بہن کو اس سر زمین کی سیر کے واسطے میرے گھر چھوڑ گئی ہے، اس نے یہ جواب مجھ کو سکھایا ہے۔ روح افزا نے کہا اس کو ہمارے پاس کبھی نہ لائی، بھلا تو آج اپنے ساتھ لے آئیو، ایک ذرا میں بھی دیکھوں۔ اس نے کہا بہت اچھا، اس کی اور میری دونوں کی سعادت ہے۔ چنانچہ شام کے وقت بہرام کو پہنا اوڑھا کر اپنے ہمراہ لے گئی۔ روح افزا نے دیکھتے ہی پہچان لیا کہ بہرام ہے لیکن اغماض کیا اور کچھ متوجہ نہ ہوئی۔ وہ سمجھا کہ اس نے مجھے ابھی تک نہیں پہچانا۔ شاید آئینہ کی پشت نہیں دیکھی اور میرا لکھا ملاحظہ نہیں کیا۔

قصہ کوتاہ، جب بنفشہ چوٹی گوندھ چکی، شہزادی نے آئینہ مانگا۔ بہرام نے جلدی سے اٹھا کر پشت کی طرف سے اسے دکھایا۔ وہ غنچہ دہن بے اختیار کھلکھلا کر ہنس پڑی اور بنفشہ سے کہنے لگی کہ اے تمہاری بہن بڑی کوڑ ہے کہ اب تک آرسی کی پشت و رو نہیں جانتی۔ آج کی رات اسے یہاں چھوڑ جاؤ، ہم اس کے ساتھ ہنسیں، بولیں، چہلیں کریں گے۔ اس نے عرض کی میری عین خوشی اور اس کی سراسر سرفرازی ہے۔

یہ کہہ کر وہ تو اپنے گھر آئی اور یہ دل آرام کے خلوت خانے میں رہا۔

اے عزیز! اگر بہرام زنانہ لباس نہ پہنتا تو ہرگز اپنی معشوقہ سے اتنا جلد نہ ملتا اور اپنے مطلب کو نہ پہنچتا۔ فی الواقع کہ جو عاشق کہ معشوق کا رنگ پکڑتا ہے، معشوق خود عاشق اس کا ہو جاتا ہے۔ چنانچہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے بھی اس وضع کا کلام فرمایا ہے، حاصل اس کا یہ ہے کہ خصائل خدا کی پیروی کرو تاکہ قربت اس سے حاصل ہو۔

جب امور عالم کے انتظام دینے والوں نے نقابِ ظلماتی سے چہرہ روز کو چھپایا اور چادر ماہتاب کا فرشِ نورانی سطح زمین پر بچھایا، روح افزا پریوں کی مجلس سے اٹھ کر خلوت سرا میں آئی۔ بہرام کو اکیلا لے کر بیٹھی، اس آشنا صورت نے اجنبیوں کی طرح سر رشتہ سخن کا نکالا، کہو بی، تمہارا نام کیا ہے۔ اس نے کہا کوچہ ننگ و نام تو مجھ سے کب کا چھوٹ چکا ہے، تیرے نام کے سوا کچھ یاد نہیں۔ پری نے پوچھا یہاں کس واسطے آئی ہو۔ جواب دیا کہ پروانے کے آنے کا سبب شمع پر بخوبی روشن ہے، اس سے پوچھا چاہیے۔

بہرام کی میٹھی میٹھی باتوں سے تو بہت محظوظ ہوئی لیکن ظاہر میں ترش رو ہو کر بولی، اے مکرہائی عیارنی! تیری باتوں سے میں نے پہچانا کہ تو رنڈی نہیں بلکہ مردوا ہے۔ یہ بھگل نکال کر تو یہاں درآمد ہوا ہے۔ میرے ناموس کو تونے برباد کیا، دیکھ تو اس دلیری کی کیسی سزا دیتی ہوں اور ڈھٹائی کا بدلہ کیسے لیتی ہوں۔ وہ ناکردہ کار، نیش اور نوشِ رنج و حلاوت سے واقف نہ تھا، ناز و نیاز کے بھید اس پر کھلے نہ تھے، اس کے علاوہ طمانچوں کا صدمہ آگے اٹھا چکا تھا، وہ ناز کی باتوں کو سچ سمجھا۔ یقین ہوا کہ اب پھر مار کھاؤں گا اور نکالا جاؤں گا۔ مارے ڈر کے تھر تھر کانپنے لگا اور اس شعر کو پڑھ کر بیہوش ہو گیا:

گر قتل کہ تیرے آگے مرنا
بہتر، نہ کہ دور زندگانی

پھر تو پری زاد سہم گئی کہ مبادا ڈر سے اس کی جان پر آ  بنے اور جفا کاروں میں میرا نام لکھا جائے۔ بے اختیار دوڑ پڑی اور سر اس کا اپنے زانوں پر رکھ کر گلفام کی بو یہاں تک سنگھائی کہ اس کو پھر ہوش میں لائی۔

اے عزیز اگر اپنے نور عقل کو حکمتوں سے زیادہ نہ چمکائے گا تو تجلی یار سے فائدہ نہ پائے گا، اگر تو یہ ہستی موہوم نہ چھوڑے تو حیات ابدی کب تیرے پاس آئے۔ جو راہ عشق میں آپ سے نہ گزرا، وہ منزل مقصود میں کب پہنچا۔

القصہ بہرام نے جو آنکھ کھولی تو اپنا مرتبہ برنگِ گل دیکھا اور محبوبہ کا مثل بلبل۔ مارے خوشی کے پھول گیا اور اگلی پچھلی باتیں بھول گیا۔ پھر تو بے کھٹکے اپنے ہونٹ کہ رشکِ گلبرگ تھے، اس کے دہن سے کہ غیرت غنچۂ یاسمین تھا، ملائے اور خوب ہی مزے اڑائے۔ ازبسکہ وہ گل پیرہن بھی اشتیاق میں بھری ہوئی تھی، آپ کو روک نہ سکی، گٹھ ہی گئی۔ آخر نسیم نے کلی کو پھول بنایا اور آپس میں نئی نئی طرح سے لطف اٹھایا۔ روح افزا کا یہ جی لگا کہ ایک ساعت اس سے جدا رہنا دشوار ہوا۔ پھر یہ ارادہ کیا کہ اس کو حرز جان کی طرح گلے سے لگائے رکھے مگر دشمنوں کی نظر سے چھپائے رکھے۔ آخر ایک طلسم اس کے گلے میں باندھا اور قمری بنا کر ایک سونے کے پنجرے میں رکھا۔ پھر تو وہ سروِ گل اندام روبرو لٹکائے رکھتی تھی۔ رات کو پنجرے سے نکال کر پھر آدمی بناتی تھی اور صبح تک اس کی صحبت سے انواع واقسام کی کیفیتیں اٹھاتی۔

چند مدت اس طرح گذر گئی اور یہ بات چھپی رہی۔ آخر عشق اور مشک بے ظاہر ہوئے نہیں رہتا۔ کچھ بو باس یہاں کی حسن آرا تک پہنچی، ایک دن نور کے تڑکے اس کی سن گن لینے آئی۔ جب روح افزا کے پاس آنکلی، دیکھا کہ اس کی زلف مشکیں کا طور بے طور ہے اور سیب زنخداں کا رنگ اور ہے۔ نسرین رخسار کی رنگت گل سی اور نرگس نیم خواب کی کیفیت جام سی دیکھی۔ پیشواز کی چولی کی حالت اور طرح کی پائی اور انگیا کی صورت کچھ اور ہی نظر آئی۔ سمجھی کہ اس کا یاقوت کسی کے الماس سے مقرر کندہ ہوا ہے اور جھونکا نسیم کا بلاشبہ اس کے غنچے کو لگا۔

دوڑ کر غصے سے ایک دو ہتڑ پیٹھ میں مارا اور کہنے لگی، اے علامہ کل کا نام ڈبویا، کیا غضب کیا تو نے۔ کنوارے میں کس سے آنکھ لگائی، تجھے غیر مردوے سے حیا نہ آئی؟ حیف تیری زیست پر،چپنی بھر پانی میں ڈوب مر، تیری رسوائی کا نقارہ بج گیا، تو نے باپ کا نام خراب کیا۔ سچ بتا کہ یہ کیا ماجرا ہے، نہیں تو تیرا گلا گھونٹ ڈالوں گی اور جیتا نہ رکھوں گی۔

روح افزا مارے ڈر کے تھرتھراتی تھی اور کہتی تھی، اماں مجھے تمھارے سر کی قسم جو میں نے کسی مردوے کو بھی دیکھا ہو تو آنکھیں پھوٹیں۔ یہ فقط تہمت ہے اور صاف بندش ہے۔ تم کیسی ماں ہو کہ بیٹی کو عیب لگاتی ہو اور لوگوں کے کہنے سننے پر جاتی ہو۔ غرض اس نے ہر چند سخت سخت قسمیں کھائیں اور بہتیری باتیں بنائیں مگر اس نے باور نہ کیا بلکہ درپے ہوئی کہ جس چور نے اس گھر میں کو نبھل دی ہے اسے پکڑا چاہیے اور اچھی طرح سزا کو پہنچائیے۔

ہزاروں جاسوسوں عیاروں نے زمین وآسمان کو ڈھونڈ مارا لیکن گھر کے پنجرے کا بھد کسی پر نہ کھلا۔ اے عزیز تو عرش پر کس کے ڈھونڈنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جو تیرے خانۂ دل میں ہے اس کی تو تجھے خبر نہیں۔ واہ واہ دور کا دھیان اور نزدیک آپ سے انجان:

کون ہے گھر میں جب اتنی بھی نہیں تجھ کو خبر
پھر تو یہ کیا جانے، کیا ہے اوجِ بامِ چرخ پر

القصہ حسن آرا نے جستجو کرکے روح افزا کی خواصوں کو دھمکایا اور مظفر شاہ کے غضب سے ڈرایا۔ تب ایک خواص کہ اس کا نام گل رخ تھا، اس کے نزدیک آکر یوں کہنے لگی کہ اس خلوت سرا کا بھید ہم پر کیوں کر کھلے، نہ وہاں تک گزارا، نہ دیدہ باطن بینا:

اس کے منہ کے دیکھنے کو دیدۂ دل چاہیے
چشم ظاہر بیں ہماری دید کرسکتی ہے کب

لیکن ان دنوں ہماری صاحب زادی صبح و شام اس قمری سے مشغول رہتی ہے اور اس کے پنجرے کو ایک دم آنکھ سے اوجھل نہیں رکھتی۔ ظاہر میں تو یہ پرندہ ہے اور باطن کی ہم کو خبر نہیں۔ بس اپنا طائر قیاس آگے نہیں اڑ سکتا، مگر ملکہ اڑتی چڑیا پہچانتی ہے، اس کی کنہ سمجھ لے۔

اے نادان! انسان کہ بسبب علاقۂ روح سبزہ زار دنیا کی سیر کو آتا ہے۔ جب تک یہ مربع طلسم عناصر اس کے گلے میں پڑا ہے اور قفس وجود میں طوق بندگی اس کا گلوگیر ہے، چشم ظاہر بیں مشت خاک کے سوا کچھ نہیں دیکھتی۔ جس دن یہ طلسم ٹوٹ گیا، کیفیت اس کی کھل جائے گی کہ وہ کون ہے اور یہ نیرنگ کیا ہے۔ چنانچہ رسول اللہ ﷺنے بھی فرمایا ہے، جب لوگ مریں گے اس حال سے آگاہ ہوں گے۔ وجود مطلق ایک دریا ہے اور ہر موجود مثل حباب ہے۔ جب حباب سے ہوا نکل گئی، دریا کے سوا کچھ نہیں۔ بس تامل سے دیکھ کہ اصل ہستی دریا کی ہے لیکن فرق مرتبہ کا البتہ ہے۔ حباب کو کوئی دریا نہ کہے گا اور دریا کو حباب اور کعبہ کو قبلہ کہتے ہیں اور بت خانے کو کنشت، جہنم کو دوزخ اور جنت کو بہشت:

ہر مرتبے میں اور ہی حکم وجود ہے
زندیق ہے جو حفظِ مراتب کرے نہ تو

واقعی مسئلہ وحدت الوجود کا مشکل ترین مسائل ہے۔ بہتیرے اس بحر عمیق میں گر کے مذہبِ جبری کے بھنور میں جا پڑے اور اکثر مسلکِ دہری کے گرداب میں ڈوبے۔ ہادی یہاں فضل الٰہی اور کرم رسالت پناہی کے سوا کوئی نہیں۔

قصہ کوتاہ حسن آرا نے روح افزا کی نشست گاہ میں جا کر پنجرے کو اتار لیا اور ارادہ لے جانے کا کیا۔ روح افزا اس کو شاہین کے چنگل میں دیکھ کر کلیجہ پکڑ کر رہ گئی۔ منہ سے تو مارے لحاظ کے بول نہ سکی، پر طائر روح قفس تن میں تڑپنے لگا۔ ہر چند تڑپا لیکن صیّادِقضا و قدر کے ہاتھ سے نہ چھوٹا۔

غرض اس بے پر کو وہ پری لے اڑی اور مظفر شاہ کے روبرو اس کا پنجرہ جا کر رکھ دیا۔ شاہ نے نکال کر اس کے بال و پر تمام ٹٹولے، آخر گلے پر جو ہاتھ پڑا تو ایک تعویذ بندھا نظر آیا۔ اس کو کھولا، بہرام آدمی ہوگیا۔

حاضرین مجلس سخت متعجب ہوئے۔ شاہ آتش غضب سے جل کر کباب ہوگیا اور کہنے لگا اے بد ذات نابکار تو غضب سلطانی سے نہ ڈرا اور اپنے جی میں کچھ نہ سوچا۔ سچ کہہ اس دیار میں تجھے کون لایا اور بادشاہوں کے محل میں کس نے پہنچایا؟ لے اس ڈھٹائی اور بے پروائی کا ثمرہ تو ہلاکت کے سوا کچھ نہ پائے گا اور اس کی سزا میں جان سے جائے گا۔ بہرام بولا، عاشقوں کا رہنما جذبہ اشتیاق ہے اور انھیں کے سزاوار تکلیف مالا یطاق ہے۔ عشق کی زنجیر وہ نہیں کہ کوئی آپ سے پاؤں میں ڈالے اور بہ اختیار گرفتار ہو۔ عاشقوں نے رشتہ رشتۂ اختیار سے توڑا ہے اور بے اختیاری سے جوڑا ہے۔ جس نے زندگی سے ہاتھ دھوئے، اسے موت سے کیا خطرہ ہے اور جان کی کیا پروا ہے۔ مگر حسرتِ دیدار جی میں رہے گی اور گور میں جوئے خون آنکھوں سے بہے گی:

موت سے ہرگز نہیں ڈرتا نہ کچھ غم ہے مگر
گلرخوں کی دید سے محروم میں رہ جاؤں گا

آخر مظفر شاہ کا شعلۂ غضب ایسا بھڑکا کہ لوگوں سے فرمایا، اس آتش کے پرکالے کو جلد شہر سے دور لے جا کر آگ میں ڈال دو اور جلا کے خاک سیاہ کردو۔ اتفاقاً تاج الملوک اور بکاؤلی گلستان ارم کی سیر کو آئے تھے، جس مقام سے جزیرۂ فردوس نزدیک رہ جاتا تھا وہاں پہنچے۔ جی میں آیا کہ چلو روح افزا کو بھی دیکھیں اور دو دن وہاں کی بھی سیر کریں۔ القصہ جزیرۂ فردوس کی طرف پھرے اور وہاں آنکلے جہاں لکڑیوں کا انبار لگا تھا اور بہرام اس پر بیٹھا تھا، بلکہ چاروں طرف سے آگ دے چکے تھے۔ جونہی بکاؤلی نے لوگوں کی بھیڑ دیکھی اور آگ بھڑکی ہوئی اسے نظر پڑی، تخت اپنا قریب لے جا کے پوچھنے لگی کہ یہ کیا ہنگامہ ہے۔ کوئی بول اٹھا کہ روح افزا کے عاشق کو جلاتے ہیں۔ سنتے ہی اس بات کے تخت سے اتر کر آگے بڑھی، کیا دیکھتی ہے کہ بہرام ہے۔ فی الفور بکاؤلی نے کہا جلد اس آگ کو بجھاؤ اور اس جوان کو نکالو۔ اگر اس کا ایک رواں جلا تو سیکڑوں کے سر جلاؤں گی، بلکہ اس کا گھر کا گھر خاک میں ملاؤں گی۔ لوگ ڈر گئے اور آگ کو بجھادیا اور بہرام کو نکال کر شہزادے کے حوالے کیا۔ اس کو ہمراہ لے کر ایک باغ میں جا اتری پھر تاج الملوک کو اور اسے وہاں چھوڑا، آپ مظفر شاہ اور حسن آرا کے پاس گئی، جھک کر سلام کیا، انھوں نے اس کا سر چھاتی سے لگایا، خیر و عافیت پوچھی اور آنے کی حقیقت۔

بکاؤلی نے کہا کہ میرا بے اختیار آپ کے اور چچی جان کے دیکھنے کو جی چاہتا تھا، اس کے سوا خیریت ہے لیکن راہ میں عجب ماجرا دیکھا ہے کہ میرے سسر کے وزیر زادے کو لوگ جلایا چاہتے تھے۔ اگر میرے آنے میں اور ایک دم کا وقفہ ہوتا تو وہ جل کر راکھ ہوجاتا اور ماں باپ کو دنیا سے کھو جاتا۔ اگر چہ مرنا سب کا برا ہے خصوصاً ایسے جوان شکیل کا۔ فی الواقع تقصیر بھی ایسی ہوئی تھی، لیکن اس طرح کی سزا اب فائدہ نہیں رکھتی۔ جو کچھ ہونا تھا سو ہو چکا۔ میں نے فرض کیا کہ آپ نے اسے مار ڈالالیکن کلنک کا ٹیکا تو نہ مٹے گا۔ اب  سو جانتے ہیں پھر ہزاروں جانیں گے۔ اس سے بہتر یہ ہے کہ اس کی تقصیر معاف کیجیے اور روح افزا کو اس کے ساتھ بیاہ دیجیے، کیونکہ بہرام نہایت طرحدار اور قابل ہے۔ کچھ اس میں مضاٰئقہ نہیں، وزیر اور بادشاہ میں ہمیشہ سے رشتہ ہوتا آیا ہے اور جو آپ انسان کو حقیر جانتے ہیں تو پھر مجھ کو کیوں تاج الملوک کے ساتھ بیاہا۔ بیٹی اور بھتیجی میں کیا فرق ہے۔

مظفر شاہ نے یہ باتیں سن کر سر جھکا لیا اور کہا بہت بہتر مختار ہو۔ پھر وہاں سے روح افزا کے پاس آئی دیکھا کہ وہ آنکھوں میں آنسو ڈبڈبائے، سر جھاڑ منہ پہاڑ بنائے بیٹھی ہے۔ ہنس کر کہنے لگی واہ واہ ری گھسکی! کہاں جا کر سرنگ لگائی۔ پناہ مانگیے تجھ سے اور ڈریے تیرے دیدے سے۔ بس اٹھ کھڑی ہو، ہنس بول، کپڑے بدل، حجرے سے باہر نکل، میں تیرے چاہنے والے کو سلامت لے آئی ہوں۔ اب کوئی دن میں دل کھول کر ملیو اور ہمیشہ عیش کیجیو۔

روح افزا بہن کی باتوں سے مسکرا کر اٹھ بیٹھی اور بلائیں لے کر گلے سے لپٹ گئی۔ رات کی رات تو بکاؤلی وہاں رہی، صبح کے وقت روح افزا کو مظفر شاہ اور حسن آرا کے پاس لےگئی، تقصیر معاف کروائی۔ پھر اس کو مائیوں بٹھا کر تاج الملوک اور بہرام کو لے کر جزیرہ ارم میں جا کر پہنچی اور یہ ماجرا من و عن اپنے ماں باپ کے گوش گزار کیا۔ پھر ان سے درخواست کی کہ وہ جس دھوم سے تاج الملک کو لے کر بیاہنے آئی تھے، اسی طرح تم بھی بہرام کو بیاہنے لے چلو اور کوئی دقیقہ فروگزاشت نہ کرو۔ چنانچہ انھوں نے ویسی ہی مہمان داری اور تیاری اندر باہر کی اور تجمل سے بہرام کو خلعتِ شاہانہ اور جواہر پہنا کر، پھولو ں کا سہرا باندھ کربڑے کرّ و فر سے جزیرہ فردوس کو روانہ ہوئے۔

وہاں کی تیاری کا کیا کہنا ہے۔ پری کے بیاہ کا تجمل زبان کیا بیان کرے اور قلم کب لکھ سکے۔ غرض مظفر شاہ کی طرف کے لوگوں براتیوں کو اور دولہا کو لے جا کر نہایت عظم و شان سے مجلس نشاط میں بٹھایا اورزنانی سواریوں کو اسی وضع سے اتروا کر بڑی تعظیم اور تواضع سے حسن آرا کے علاقہ دار مجلس انبساط میں لے آئے۔

پہر رات تک اندر باہر ناچ رنگ کی صحبت رہی، آتش بازی انواع و اقسام کی چھوٹا کی۔ پھر اپنے خاندان کے چلن کے موافق اس پری پیکر کا نکاح اس رشک قمر کے ساتھ بندھوایا۔ ہار اور پان دینے کےبعد نوشہ کو ریت و رسم کے واسطے محل میں بھجوایا۔

بکاؤلی بھی بہنوں کی طرح بہرام کے ساتھ گئی اور ٹونے ٹوٹکے کرتی ہوئی اس کی طرف سے خوب جھگڑی۔ پھر آرسی مصحف دکھایا اور دولہا کو دلہن کا جھوٹا شربت پلایا۔ اس کے بعد مظفر شاہ اور حسن آرا نے روح افزا کو بہت سا جہیز نقد و جنس، لونڈی غلام دے کر بہ تجمل تمام رخصت کیا۔

برات کو اسی رونق سے فیروز شاہ اور تاج الملوک لیے ہوئے شاد و خرم جزیرۂ ارم میں داخل ہوئے۔ کئی دن وہاں چہل رہی، پھر بکاؤلی اور تاج الملوک روح افزا اور بہرام کو اسی طمطراق سے لے کر ملک نگاریں کو روانہ ہوئے، تھوڑے عرصہ میں جا پہنچے۔

پھر بہرام کے ماں باپ کو بلوا کر تمام قصہ کہہ کر سنایا اور دونوں کا دیدار دکھایا۔ وہ بہو بیٹے کو دیکھ کر بہت شاد ہوئے اور بکاؤلی کے جان و دل سے ممنونِ احسان ہوئے۔

مِن بعد وزیر نے مجلس نشاط کی وہاں تیار کی، بادشاہ کو جا کر لے آیا اور جتنے چھوٹے بڑے امیر تھے ان کو بھی بلایا۔ جس قدر اہل طرب شہر میں تھے، ان کو طلب کیا۔ غرض کئی دن تک ناچ راگ کی صحبت رہی، مہمان داری بخوبی کی۔ بادشاہ اور بادشاہ زادے کے حضور میں سیکڑوں کشتیاں جواہر اور پوشاک کی رکھیں اور محل بھی اسی قبیل سے بھجوائیں۔ انعام اور اکرام لوگوں کو بہت سا دیا، نقد و جنس بے شمار بانٹا۔ بعد اس کے حضرت اعلیٰ قلعۂ مبارک میں تشریف لے گئے۔ سب مہمان بھی رخصت ہوئے۔

پھر بکاؤلی نے حمالہ کو کہلا بھیجا کہ جلد میرے باغ اور محل کو اکھڑواکر یہاں لے آؤ۔ وہ دو چار ہی دن کے عرصے میں لے کر پہنچی، فی الفور متصل اپنی دولت سرا کے نہایت آراستگی کے ساتھ قائم کرکے روح افزا اور بہرام کے حوالے کیا۔ الحمد للہ خدا کے فضل سے سب شاد ہوئے اور بخوبی آباد ہوئے۔

غرض جس طرح سے کیا ان کو شاد
ہماری بھی دے یا الٰہی مراد

تاریخ سال ہجری:

یہ قصہ ہوا جب بخوبی تمام
تو پھر فکر تاریخ تھی صبح و شام
یکایک سنی میں نے آواز غیب
کہ ہے مذہب عشق تاریخ و نام

تاریخ سن عیسوی :

ہوئی پھر یہ خواہش کہ کلک و زباں
کریں عیسوی سال کو بھی بیان
تو پھر ہاتفِ غیب نے دی صدا
کہ اس مذہب عشق میں کوئی آ
کرے مشرب جام گر اختیار
تو راز نہاں اس پہ ہو آشکار

 

 

ناظرین پر روشن ہو کہ تھوڑا سا احوال شاہجہاں کے بادشاہ ہونے کا آخر کتاب میں تھا۔ مترجم نے اس کو مع حکایت کے جو اس کے مطابق تھی، اس واسطے ترجمہ نہ کیا کہ وہ خلاف شاہجہاں نامے کے نکلا۔ شاید مصنف نے سنا سنایا لکھا واِلّا اتنا فرق نہ ہوتا۔ جس کو مفصل اس کا دریافت کرنا ہو وہ اصل کتاب کے آخر کو اور شاہجہاں نامے کے اس مقام کو، جہاں وہ احوال ہے، ملاحظہ کرے۔

الحمد للہ فسانہ خوش اسلوب و داستان مرغوب مسمّٰی بمذہب عشق معروف بہ “گل بکاؤلی” بروئے انٹرنیٹ بشکل برقی کتاب  ماہ ستمبر ٢٠٢٠ ؁ء کو طبع ہوا۔

 

 

(١) جملوں اور عبارتوں کے حذف کی کارروائی لاہور کی اشاعت میں کی گئی تھی جہاں سے پنڈت برج موہن دتاتریہ کیفی دہلوی کا یہ مقدمہ ماخوذ ہے۔ زیر نظر برقی کتاب میں اصل کتاب سے کوئی جملہ حذف نہیں کیا گیا ہے۔ (Yethrosh)

) خلاصہ اس تمثیل کا یہ ہے کہ جس طرح آلات تحریر بہت ہیں اور ہر ایک کو اپنے ہی باعث تحریر ہونے کا دعویٰ، پر باطن میں اور ہے۔ اسی طور ظاہر میں عاشق کو معشوق کی اور معشوق کو عاشق کی طلب ہے اور درحقیقت محرک اس سلسلے کا وہ ہے کہ دل دونوں کا جس کے تصرف میں ہے۔

١۔ کنویں

ختم شد

یہ کتاب اردو گاہ اور مجلسِ برقی اشاعتِ ادبیاتِ عالیہ کے تعاون سے پیش کی گئی ہے۔
یہ کتاب اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

نئی کتابیں

تنبیہ