مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی

تحت اللفظ

جب ہوا شب کو بدلتی ہوئی پہلو آئی
مدتوں اپنے بدن سے تری خوشبو آئی

میرے نغمات کی تقدیر نہ پہنچے تجھ تک
میری فریاد کی قسمت کہ تجھے چھو آئی

اپنی آنکھوں سے لگاتی ہیں زمانے کے قدم
شہر کی راہ گزاروں میں مری خو آئی

ہاں نمازوں کا اثر دیکھ لیا پچھلی رات
میں ادھر گھر سے گیا تھا کہ ادھر تو آئی

مژدہ اے دل کسی پہلو تو قرار آ ہی گیا
منزلِ دار کٹی ساعتِ گیسو آئی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ
عید مبارک - اردو گاہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!