اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو

تحت اللفظ

گرمئ شوقِ نظارہ کا اثر تو دیکھو
گل کھلے جاتے ہیں وہ سایۂ در تو دیکھو

ایسے ناداں بھی نہ تھے جاں سے گزرنے والے
ناصحو پند گرو راہ گزر تو دیکھو

وہ تو وہ ہے تمھیں ہو جائے گی الفت مجھ سے
اک نظر تم مرا محبوبِ نظر تو دیکھو

وہ جو اب چاک گریباں بھی نہیں کرتے ہیں
دیکھنے والو کبھی ان کا جگر تو دیکھو

دامنِ درد کو گلزار بنا رکھا ہے
آؤ اک دن دلِ پرخوں کا ہنر تو دیکھو

صبح کی طرح جھمکتا ہے شبِ غم کا افق
فیضؔ تابندگئ دیدۂ تر تو دیکھو

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ