ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں

تحت اللفظ

ساقی ہو اور چمن ہو مینا ہو اور ہم ہوں
باراں ہو اور ہوا ہو سبزہ ہو اور ہم ہوں

زاہد ہو اور تقویٰ عابد ہو اور مصلیٰ
مالا ہو اور برہمن صہبا ہو اور ہم ہوں

مجنوں ہیں ہم ہمیں تو اس شہر سے ہے وحشت
شہری ہوں اور بستی صحرا ہو اور ہم ہوں

یارب کوئی مخالف ہووے نہ گرد میرے
خلوت ہو اور شب ہو پیارا ہو اور ہم ہوں

دیوانگی کا ہم کو کیا حظ ہو ہر طرف گر
لڑکے ہوں اور پتھرے بلوا ہو اور ہم ہوں

اوروں کو عیش و عشرت اے چرخِ بے مروت
غصہ ہو اور غم ہو رونا ہو اور ہم ہوں

ایمان و دیں سے تاباںؔ کچھ کام نہیں ہے ہم کو
ساقی ہو اور مے ہو دنیا ہو اور ہم ہوں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ