جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

تحت اللفظ

کوئی عشق میں مجھ سے افزوں نہ نکلا
کبھی سامنے ہو کے مجنوں نہ نکلا

بڑا شور سنتے تھے پہلو میں دل کا
جو چیرا تو اک قطرۂ خوں نہ نکلا

بجا کہتے آئے ہیں ہیچ اس کو شاعر
کمر کا کوئی ہم سے مضموں نہ نکلا

ہوا کون سا روزِ روشن نہ کالا
کب افسانۂ زلفِ شبگوں نہ نکلا

پہنچتا اسے مصرعِ تازہ و تر
قدِ یار سا سروِ موزوں نہ نکلا

رہا سال ہا سال جنگل میں آتشؔ
مرے سامنے بیدِ مجنوں نہ نکلا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!