وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

تحت اللفظ

یادش بخیر جب وہ تصور میں آ گیا
شعر و شباب و حسن کا دریا بہا گیا

جب عشق اپنے مرکزِ اصلی پہ آ گیا
خود بن گیا حسین دو عالم پہ چھا گیا

جو دل کا راز تھا اسے کچھ دل ہی پا گیا
وہ کر سکے بیاں نہ ہمیں سے کہا گیا

ناصح فسانہ اپنا ہنسی میں اڑا گیا
خوش فکر تھا کہ صاف یہ پہلو بچا گیا

اپنا زمانہ آپ بناتے ہیں اہلِ دل
ہم وہ نہیں کہ جن کو زمانہ بنا گیا

دل بن گیا نگاہ نگہ بن گئی زباں
آج اک سکوتِ شوق قیامت ہی ڈھا گیا

میرا کمالِ شعر بس اتنا ہے اے جگرؔ
وہ مجھ پہ چھا گئے میں زمانے پہ چھا گیا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!