پہلے شرما کے مار ڈالا

تحت اللفظ

پہلے شرما کے مار ڈالا
پھر سامنے آ کے مار ڈالا

ساقی نہ پلائی تو نے آخر
ترسا ترسا کے مار ڈالا

عیسیٰ تھے تو مرنے ہی نہ دیتے
تم نے تو جلا کے مار ڈالا

بیمارِ الم کو تو نے ناصح
سمجھا سمجھا کے مار ڈالا

خنجر کیسا فقط ادا سے
تڑپا تڑپا کے مار ڈالا

یادِ گیسو نے ہجر کی شب
الجھا الجھا کے مار ڈالا

فرقت میں ترے غم و الم نے
تنہا مجھے پا کے مار ڈالا

خنجر نہ ملا تو اس نے بیدمؔ
آنکھیں دکھلا کے مار ڈالا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ