آہ جو دل سے نکالی جائے گی

تحت اللفظ

آہ جو دل سے نکالی جائے گی
کیا سمجھتے ہو کہ خالی جائے گی

اس نزاکت پر یہ شمشیرِ جفا
آپ سے کیوں کر سنبھالی جائے گی

کیا غمِ دنیا کا ڈر مجھ رند کو
اور اک بوتل چڑھا لی جائے گی

شیخ کی دعوت میں مے کا کام کیا
احتیاطاً کچھ منگا لی جائے گی

یادِ ابرو میں ہے اکبرؔ محو یوں
کب تری یہ کج خیالی جائے گی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ