جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے

تحت اللفظ

جو میکدے سے بھی دامن بچا بچا کے چلے
تری گلی سے جو گزرے تو لڑکھڑا کے چلے

ہمیں بھی قصۂ دار و رسن سے نسبت ہے
فقیہِ شہر سے کہہ دو نظر ملا کے چلے

کوئی تو جانے کہ گزری ہے دل پہ کیا جب بھی
خزاں کے باغ میں جھونکے خنک ہوا کے چلے

اب اعترافِ جفا اور کس طرح ہوگا
کہ تیری بزم میں قصے مری وفا کے چلے

ہزار ہونٹ ملے ہوں تو کیا فسانۂ دل
سنانے والے نگاہوں سے بھی سنا کے چلے

کہیں سراغِ چمن مل ہی جائے گا راحتؔ
چلو ادھر کو جدھر قافلے صبا کے چلے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!