تیر پر تیر لگاؤ تمھیں ڈر کس کا ہے

تحت اللفظ

تیر پر تیر لگاؤ تمھیں ڈر کس کا ہے
سینہ کس کا ہے مری جان جگر کس کا ہے

خوفِ میزانِ قیامت نہیں مجھ کو اے دوست
تو اگر ہے مرے پلے میں تو ڈر کس کا ہے

کوئی آتا ہے عدم سے تو کوئی جاتا ہے
سخت دونوں میں خدا جانے سفر کس کا ہے

چھپ رہا ہے قفسِ تن میں جو ہر طائرِ دل
آنکھ کھولے ہوئے شاہینِ نظر کس کا ہے

نامِ شاعر نہ سہی شعر کا مضمون ہو خوب
پھل سے مطلب ہمیں کیا کام شجر کس کا ہے

صید کرنے سے جو ہے طائرِ دل کے منکر
اے کماندار ترے تیر میں پر کس کا ہے

میری حیرت کا شبِ وصل یہ باعث ہے امیرؔ
سر بہ زانو ہوں کہ زانو پہ یہ سر کس کا ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ