بد شگونی

تحت اللفظ

عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو بلا رہے تھے
مگر مجھے ہوش ہی کہاں تھا
نظر میں اک اور ہی جہاں تھا
نئے نئے منظروں کی خواہش میں اپنے منظر سے کٹ گیا ہوں
نئے نئے دائروں کی گردش میں اپنے محور سے ہٹ گیا ہوں
صلہ، جزا، خوف، ناامیدی
امید، امکان، بے یقینی
ہزار خانوں میں بٹ گیا ہوں
اب اس سے پہلے کہ رات اپنی کمند ڈالے یہ چاہتا ہوں کہ لوٹ جاؤں
عجب نہیں وہ کتاب اب بھی وہیں پڑی ہو
عجب نہیں آج بھی میری راہ دیکھتی ہو
چمکتے لفظوں کی میلی آنکھوں میں الجھے آنسو
ہوا و حرص و ہوس کی سب گرد صاف کر دیں
عجب نہیں میرے لفظ مجھ کو معاف کر دیں
عجب گھڑی تھی
کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ