تم مجھے بھول جاؤ گے صاحب
ہائے کیا بھول پاؤ گے صاحب
میں شریف آدمی مجھے چھوڑو
خود کو کیا منہ دکھاؤ گے صاحب
تم نہیں مانتے مناتا ہوں
میں نہ مانوں مناؤ گے صاحب
تم تو خود شعلۂِ فروزاں ہو
آگ کیسے بجھاؤ گے صاحب
دل تو زندہ نہ ہو سکے گا اب
کتنے محشر اٹھاؤ گے صاحب
میری حالت ہے دیکھنے والی
دیکھنے بھی نہ آؤ گے صاحب
خود سے بھی بڑھ کے جانتا ہوں تمھیں
مجھے کیا کیا بتاؤ گے صاحب
کتنی پیاری ہیں یہ گہر آنکھیں
انھیں کب تک چراؤ گے صاحب
مان جاؤ کہ عشق ہے راحیلؔ
کتنی باتیں بناؤ گے صاحب
2 خیالات ”تم مجھے بھول جاؤ گے صاحب“ پر
واہ بہت عمدہ زبردست بھیا
بہت بہت اعلی بہت اعلی۔۔
راحیل بھائی سے مجھے خاص اُنسیت ہے اکثر ان کے اقتباسات زیرِ نظر آتے رہتے ہیں پڑھ کر دلی خوشی محسوس ہوتی ہے۔