محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو

اردو شاعری

محشر کی اس گھڑی میں ہمارا کوئی تو ہو
اے رات اے فراق خدارا کوئی تو ہو

یہ بددعا نہیں مگر اس دل کا ہم نوا
کوئی تو ہو نصیب کا مارا، کوئی تو ہو!

تنکا ہے آشیانے کی کیا خوب یادگار
اچھا ہے ڈوبتے کو سہارا کوئی تو ہو

سرکار ہاتھ پاؤں تو سب دے گئے جواب
اس نامراد دل کا بھی چارا کوئی تو ہو

کیا ہجر کیا وصال،وہی عاشقوں کا حال
آخر قرار میں بھی بچارا کوئی تو ہو

راحیلؔ غم کے بعد خوشی بھی ملے مگر
اس بحرِ بے کراں کا کنارا کوئی تو ہو

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ