جو بات ہماری تھی وہ بات ہی کب کی ہے

اردو شاعری

جو بات ہماری تھی وہ بات ہی کب کی ہے
اجمالِ وفا میں سب تفصیل ادب کی ہے

سر مارتے پھرتے ہیں جو دشت میں آدم زاد
کچھ ہاتھ ہے اپنا بھی کچھ بات نسب کی ہے

عشاق تو پاگل ہیں فریاد پہ مت جاؤ
جس بزم میں تم آئے وہ بزم طرب کی ہے

اول تو محبت میں جو گزری سو ہے معلوم
پر کچھ نہیں کہہ سکتے جو کیفیت اب کی ہے

صدیاں تو نہیں گزریں اللہ نہ کرے گزریں
اے دل، یہ کہانی تو گزری ہوئی شب کی ہے

دستور کی زد میں ہے ناموسِ جواہر بھی
مٹی میں ملا کر قدر دنیا نے عجب کی ہے

یا بات نہ کر راحیلؔ یا بول تو اچھا بول
ظالم، تری باتوں میں تاثیر غضب کی ہے

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ