بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں

اردو شاعری

بات کہنے کی نہیں بات چھپانے کی نہیں
دل کی باتیں ہیں یہ لوگوں میں سنانے کی نہیں

جبر سے شیخ کرے داخلِ جنت تو کرے
زندگی موت کی باتوں میں تو آنے کی نہیں

کچھ تو کر خستگی اپنی پہ نظر اے دنیا
یہ تری عمر نئے فتنے اٹھانے کی نہیں

چل پڑے تو کبھی دیکھا نہیں مڑ کے ہم نے
جی میں آئی تو سنی ایک زمانے کی نہیں

سختئِ راہ تھکا دے تو تھکا دے ورنہ
جستجو تیرے مسافر کو ٹھکانے کی نہیں

کوئے جاناں سے بہت شکوے سہی پر راحیلؔ
آ گئے ہو تو ضرورت تمھیں جانے کی نہیں

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ