بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی

اردو شاعری

بندہ بھی ہے خدا بھی ہے کوئی
مجھ میں میرے سوا بھی ہے کوئی

غیر سے آشنا بھی ہے کوئی
بےوفا! باوفا بھی ہے کوئی

سوچ سے ماورا بھی ہے کوئی
لادوا کی دوا بھی ہے کوئی

حسن کی انتہا ملے تو کہوں
عشق کی انتہا بھی ہے کوئی

حذر اے دل حذر گمانوں سے
آنے والا رہا بھی ہے کوئی

بےطلب کی جو بندگی کی ہے
خیر اس کی جزا بھی ہے کوئی

ہم نے کاغذ سفید رہنے دیا
عرض بےمدعا بھی ہے کوئی

آپ راحیلؔ صاحب آپ نہیں
آپ میں آپ کا بھی ہے کوئی

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ