شے تمام اور ہستئِ لا شے تمام

اردو شاعری

شے تمام اور ہستئِ لا شے تمام
زندگی سامانِ عبرت ہے تمام

محتسب یہ خون ہے یہ خون ہے
بندہ پرور بندہ پرور مے تمام

علم بدہضمی سے وحشت بن گیا
لوگ دیکھے اور کر دی قے تمام

چاند کے صحرا بسانے رہ گئے
ہو گئے پچھلے مراحل طے تمام

سانس کیا ٹوٹی تری اے نے نواز
نغمہ ہائے نا تمامِ نے تمام

آہ کے پردے میں سر بکھرا کیے
زمزمہ ہے ورنہ دل کا لے تمام

جانے والے روٹھنے والے نہ تھے
آ گئے راحیلؔ پے در پے تمام

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

باتیں ہماری یاد رہیں گی۔۔۔

تنبیہ