پھر تمھارا فسانہ لے بیٹھا

12 اکتوبر 2018 ء

پھر تمھارا فسانہ لے بیٹھا
ہائے ہم کو زمانہ لے بیٹھا

ہاتھ میں تازیانہ لے بیٹھے
ہاتھ کو تازیانہ لے بیٹھا

خود تو تنہا ہی تھا ہمیں بھی کیا
ایک یکتا یگانہ لے بیٹھا

سو سو ایک ایک کے اٹھے طوفان
دل کا آئینہ خانہ لے بیٹھا

لے تو بیٹھے نشانہ وہ میرا
انھیں ان کا نشانہ لے بیٹھا

شکر ہے آپ نے نہیں پوچھا
نام میں آپ کا نہ لے بیٹھا

اتنے دشمن بھی ہم نہ تھے اپنے
آپ سے دوستانہ لے بیٹھا

میں کہاں بندگی کا ظرف کہاں
سانپ تھا اور خزانہ لے بیٹھا

پیر و مرشد کا کیا گیا لیکن
آس کو آستانہ لے بیٹھا

ایسے کافر بھی ہم نہ تھے راحیلؔ
غمزۂِ کافرانہ لے بیٹھا

راحیلؔ فاروق

پنجاب (پاکستان) سے تعلق رکھنے والے اردو شاعر۔

یہ کلام اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!