مواد پر جائیں۔
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
  • راحیلؔ
  • قرارداد
  • تشہیر
  • ضوابط
  • رابطہ
اردو گاہ
  • زبان

    فرہنگِ آصفیہ

    • لغت
    • تعارف
    • معروضات
    • لغت
    • تعارف
    • معروضات

    املا نامہ

    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب
    • املا
    • املا نامہ
    • مقدمہ
    • ابواب

    اردو محاورات

    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع
    • تعارف
    • فہرست
    • مقدمہ
    • اہمیت
    • ادب
    • مراجع

    اردو عروض

    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
    • تعارف
    • فہرست
    • ابواب
    • مصطلحات
  • کلاسیک

    ادبِ عالیہ

    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت
    • تعارف
    • کتب
    • موضوعات
    • مصنفین
    • شمولیت

    لہجہ

    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
    • تعارف
    • فہرست
    • ادبا
    • اصناف
  • حکمت

    اقوالِ زریں

    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان
    • اقوال
    • فہرست
    • شخصیات
    • زمرے
    • زبان

    ضرب الامثال

    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
    • تعارف
    • فہرست
    • زبان
    • زمرہ
  • نگارشات

    اردو شاعری

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    زار

    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف
    • تعارف
    • فہرست
    • پیش لفظ
    • پی ڈی ایف

    اردو نثر

    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے
    • تعارف
    • فہرست
    • اصناف
    • زمرے

    کیفیات

    • کیفیت نامے
    • کیفیت نامے
  • معاصرین

    معاصرین

    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت
    • معاصرین
    • فہرست
    • مصنفین
    • اصناف
    • موضوعات
    • لکھیے
    • برأت

اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

اسرار الحق مجازؔ لکھنوی

تحت اللفظ

شہر کی رات اور میں ناشاد و ناکارا پھروں
جگمگاتی جاگتی سڑکوں پہ آوارا پھروں
غیر کی بستی ہے کب تک در بہ در مارا پھروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

جھلملاتے قمقموں کی راہ میں زنجیر سی
رات کے ہاتھوں میں دن کی موہنی تصویر سی
میرے سینے پر مگر رکھی ہوئی شمشیر سی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

یہ روپہلی چھاؤں یہ آکاش پر تاروں کا جال
جیسے صوفی کا تصور جیسے عاشق کا خیال
آہ لیکن کون جانے کون سمجھے جی کا حال
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

پھر وہ ٹوٹا اک ستارہ پھر وہ چھوٹی پھلجڑی
جانے کس کی گود میں آئی یہ موتی کی لڑی
ہوک سی سینے میں اٹھی چوٹ سی دل پر پڑی
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

رات ہنس ہنس کر یہ کہتی ہے کہ مے خانے میں چل
پھر کسی شہناز لالہ رخ کے کاشانے میں چل
یہ نہیں ممکن تو پھر اے دوست ویرانے میں چل
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

ہر طرف بکھری ہوئی رنگینیاں رعنائیاں
ہر قدم پر عشرتیں لیتی ہوئی انگڑائیاں
بڑھ رہی ہیں گود پھیلائے ہوئے رسوائیاں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

راستے میں رک کے دم لے لوں مری عادت نہیں
لوٹ کر واپس چلا جاؤں مری فطرت نہیں
اور کوئی ہم نوا مل جائے یہ قسمت نہیں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

منتظر ہے ایک طوفان بلا میرے لیے
اب بھی جانے کتنے دروازے ہیں وا میرے لیے
پر مصیبت ہے مرا عہدِ وفا میرے لیے
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

جی میں آتا ہے کہ اب عہدِ وفا بھی توڑ دوں
ان کو پا سکتا ہوں میں یہ آسرا بھی توڑ دوں
ہاں مناسب ہے یہ زنجیر ہوا بھی توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

اک محل کی آڑ سے نکلا وہ پیلا ماہتاب
جیسے ملا کا عمامہ جیسے بنیے کی کتاب
جیسے مفلس کی جوانی جیسے بیوہ کا شباب
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

دل میں اک شعلہ بھڑک اٹھا ہے آخر کیا کروں
میرا پیمانہ چھلک اٹھا ہے آخر کیا کروں
زخم سینے کا مہک اٹھا ہے آخر کیا کروں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

جی میں آتا ہے یہ مردہ چاند تارے نوچ لوں
اس کنارے نوچ لوں اور اس کنارے نوچ لوں
ایک دو کا ذکر کیا سارے کے سارے نوچ لوں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

مفلسی اور یہ مظاہر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں سلطان جابر ہیں نظر کے سامنے
سیکڑوں چنگیز و نادر ہیں نظر کے سامنے
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

لے کے اک چنگیز کے ہاتھوں سے خنجر توڑ دوں
تاج پر اس کے دمکتا ہے جو پتھر توڑ دوں
کوئی توڑے یا نہ توڑے میں ہی بڑھ کر توڑ دوں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

بڑھ کے اس اندر سبھا کا ساز و ساماں پھونک دوں
اس کا گلشن پھونک دوں اس کا شبستاں پھونک دوں
تختِ سلطاں کیا میں سارا قصرِ سلطاں پھونک دوں
اے غمِ دل کیا کروں اے وحشتِ دل کیا کروں

  • سپاٹیفائی
  • یوٹیوب
  • پوڈ کاسٹ
Prevپچھلی پیشکشہم سنائیں تو کہانی اور ہے
اگلی پیشکشبول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کھلےNext

تبصرہ کیجیے

اظہارِ خیال

لہجہ

صوتی ادب۔ اردو کی کلاسیک غزلیں، نظمیں اور نثر پارے راحیلؔ فاروق کی آواز میں سنیے۔ دل آویز نقاشی اور پس پردہ موسیقی کے ساتھ!

آپ کے لیے

لہجہ - اردو گاہ - ربط

معترض فرشتوں کی یاد دہانی

جوشؔ ملیح آبادی
  • تحت اللفظ
  • راحیلؔ فاروق
میں نے جب لکھنا سیکھا تھا

میں نے جب لکھنا سیکھا تھا

ناصرؔ کاظمی
  • تحت اللفظ
  • غزل
  • راحیلؔ فاروق
بد شگونی - عجب گھڑی تھی - کتاب کیچڑ میں گر پڑی تھی

بد شگونی

افتخار عارفؔ
  • تحت اللفظ
  • نظم
  • راحیلؔ فاروق
لہجہ - اردو گاہ - ربط

غیر الفت کا راز کیا جانے

جلیلؔ مانک پوری
  • تحت اللفظ
  • راحیلؔ فاروق
وہ کہتے ہیں آؤ مری انجمن میں مگر میں وہاں اب نہیں جانے والا

وہ کہتے ہیں آؤ مری انجمن میں مگر میں وہاں اب نہیں جانے والا

نوحؔ ناروی
  • تحت اللفظ
  • غزل
  • راحیلؔ فاروق
ہمارا ساتھ دیجیے

اردو گاہ کے مندرجات لفظاً یا معناً اکثر کتب، جرائد، مقالات اور مضامین وغیرہ میں بلاحوالہ نقل کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ کسی مراسلے کی اصلیت و اولیت کی بابت تردد کا شکار ہیں تو براہِ کرم اس کی تاریخِ اشاعت ملاحظہ فرمائیے۔ توثیق کے لیے web.archive.org سے بھی رجوع لایا جا سکتا ہے۔

© 2022 - جملہ حقوق محفوظ ہیں۔