دردِ دل پاسِ وفا جذبۂ ایماں ہونا

تحت اللفظ

دردِ دل پاسِ وفا جذبۂ ایماں ہونا
آدمیت ہے یہی اور یہی انساں ہونا

نو گرفتارِ بلا طرزِ وفا کیا جانیں
کوئی نا شاد سکھا دے انھیں نالاں ہونا

روکے دنیا میں ہے یوں ترکِ ہوس کی کوشش
جس طرح اپنے ہی سائے سے گریزاں ہونا

زندگی کیا ہے عناصر میں ظہورِ ترتیب
موت کیا ہے انھی اجزا کا پریشاں ہونا

دفترِ حسن پہ مہرِ یدِ قدرت سمجھو
پھول کا خاک کے تودے سے نمایاں ہونا

دل اسیری میں بھی آزاد ہے آزادوں کا
ولولوں کے لیے ممکن نہیں زنداں ہونا

گل کو پامال نہ کر لعل و گہر کے مالک
ہے اسے طرۂ دستارِ غریباں ہونا

ہے مرا ضبطِ جنوں جوشِ جنوں سے بڑھ کر
ننگ ہے میرے لیے چاک گریباں ہونا

قید یوسف کو زلیخا نے کیا کچھ نہ کیا
دلِ یوسف کے لیے شرط تھا زنداں ہونا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!