کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا

تحت اللفظ

کہتے ہو نہ دیں گے ہم دل اگر پڑا پایا
دل کہاں کہ گم کیجے ہم نے مدعا پایا

عشق سے طبیعت نے زیست کا مزا پایا
درد کی دوا پائی دردِ بے دوا پایا

دوست دارِ دشمن ہے اعتمادِ دل معلوم
آہ بے اثر دیکھی نالہ نارسا پایا

سادگی و پرکاری بے خودی و ہشیاری
حسن کو تغافل میں جرأت آزما پایا

غنچہ پھر لگا کھلنے آج ہم نے اپنا دل
خوں کیا ہوا دیکھا گم کیا ہوا پایا

حال دل نہیں معلوم لیکن اس قدر یعنی
ہم نے بار ہا ڈھونڈا تم نے بارہا پایا

شورِ پندِ ناصح نے زخم پر نمک چھڑکا
آپ سے کوئی پوچھے تم نے کیا مزا پایا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ