بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کھلے

تحت اللفظ

بول اے سکوتِ دل کہ درِ بے نشاں کھلے
مجھ پر کبھی تو عقدۂ ہفت آسماں کھلے

یوں دل سے ہم کلام ہوئی یادِ رفتگاں
جیسے اک اجنبی سے کوئی رازداں کھلے

سہمی کھڑی ہیں خوفِ تلاطم سے کشتیاں
موجِ ہوا کو ضد کہ کوئی بادباں کھلے

وہ آنکھ نیم وا ہو تو دل پھر سے جی اٹھیں
وہ لب ہلیں تو قفلِ سکوتِ جہاں کھلے

وہ جبر ہے کہ سوچ بھی لگتی ہے اجنبی
ایسے میں کس سے بات کریں کیا زباں کھلے

جتنا ہوا سے بندِ قبا کھل گیا ترا
ہم لوگ اس قدر بھی کسی سے کہاں کھلے

محسنؔ کی موت اتنا بڑا سانحہ نہ تھی
اس سانحے پہ بال ترے رائگاں کھلے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!