اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

تحت اللفظ

نوبتِ گریہ و بے تابی و زاری آئی
بڑے ہنگامے سے کل یاد تمھاری آئی

نزع میں بھی وہ یہاں تک نہیں آنے دیتا
اے خدا غیر کو آ جائے ہماری آئی

ان کو تشبیہ مسیحا سے جو دی وہ بولے
آج معلوم ہوا موت تمھاری آئی

کس طرف آئے کدھر بھول پڑے خیر تو ہے
آج کیا تھا جو تمھیں یاد ہماری آئی

نالۂ بلبلِ شیدا تو سنا ہنس ہنس کر
اب جگر تھام کے بیٹھو مری باری آئی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ