نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا

تحت اللفظ

نہ گنواؤ ناوکِ نیم کش دلِ ریزہ ریزہ گنوا دیا
جو بچے ہیں سنگ سمیٹ لو تنِ داغ داغ لٹا دیا

مرے چارہ گر کو نوید ہو صفِ دشمناں کو خبر کرو
جو وہ قرض رکھتے تھے جان پر وہ حساب آج چکا دیا

کرو کج جبیں پہ سرِ کفن مرے قاتلوں کو گماں نہ ہو
کہ غرورِ عشق کا بانکپن پسِ مرگ ہم نے بھلا دیا

ادھر ایک حرف کہ کشتنی یہاں لاکھ عذر تھا گفتنی
جو کہا تو سن کے اڑا دیا جو لکھا تو پڑھ کے مٹا دیا

جو رکے تو کوہِ گراں تھے ہم جو چلے تو جاں سے گزر گئے
رہِ یار ہم نے قدم قدم تجھے یادگار بنا دیا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!