وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

تحت اللفظ

یہ کس نے شاخِ گل لا کر قریبِ آشیاں رکھ دی
کہ میں نے شوقِ گل بوسی میں کانٹوں پر زباں رکھ دی

سنا تھا قصہ خواں کوئی نیا قصہ سنائے گا
ہمارے منہ پہ ظالم نے ہماری داستاں رکھ دی

خلوصِ دل سے سجدہ ہو تو اس سجدے کا کیا کہنا
وہیں کعبہ سرک آیا جبیں ہم نے جہاں رکھ دی

اٹھایا میں نے شامِ ہجر لطفِ گفتگو کیا کیا
تصور نے تری تصویر کے منہ میں زباں رکھ دی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!