تیری صورت تری آواز بھی پہچانتے ہیں

تحت اللفظ

تیری صورت تری آواز بھی پہچانتے ہیں
ہم کسی اور حوالے سے تجھے جانتے ہیں

ہم نے بھی عمر گزاری ہے شبِ ہجراں میں
ہم بھی یاروں کو ستاروں کی طرح جانتے ہیں

ہاتھ خالی ہیں تو دانائی کا اظہار نہ کر
ایسی باتوں کا بڑے لوگ برا مانتے ہیں

اس قدر اوجِ نزاکت پہ ہے اب رشتۂ جاں
ٹوٹ جاتا ہے اگر اور اسے تانتے ہیں

کس طرح میں تجھے مٹی کے حوالے کر دوں
لوگ تو زر کے لیے ریت کو بھی چھانتے ہیں

رامؔ اب شہر میں رہنے کا ارادہ ہی نہیں
دل لگانے کے تو ہم سارے ہنر جانتے ہیں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!