ایک دو تین چار حد کر دی

تحت اللفظ

حسن پر اعتبار حد کر دی
آپ نے بھی فگارؔ حد کر دی

آدمی شاہکارِ فطرت ہے
میرے پروردگار حد کر دی

شامِ غم صبحِ حشر تک پہنچی
اے شبِ انتظار حد کر دی

ایک شادی تو ٹھیک ہے لیکن
ایک دو تین چار حد کر دی

زوجہ اور رکشا میں ارے توبہ
داشتہ اور بکار حد کر دی

چھ مہینے کے بعد نکلا ہے
آپ کا ہفتہ وار حد کر دی

گھر سے بھاگے تو کوئی بات نہیں
زندگی سے فرار حد کر دی

ایک مصرعے میں مثنوی لکھ دی
اس قدر اختصار حد کر دی

کیا مرصع غزل کہی ہے فگارؔ
آج تو تو نے یار حد کر دی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!