موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی

تحت اللفظ

موجد کا حسن اپنی ہی ایجاد کھا گئی
ماں کا شباب کثرتِ اولاد کھا گئی

دیہات کے وجود کو قصبہ نگل گیا
قصبے کا جسم شہر کی بنیاد کھا گئی

اک عمر جس کے واسطے دفتر کیے سیاہ
اس مرکزی خیال کو روداد کھا گئی

تیری تو شان بڑھ گئی مجھ کو نواز کر
لیکن مرا وقار یہ امداد کھا گئی

کاری گروں نے بابوؤں کو زیر کر لیا
محنت کی آنچ کاغذی اسناد کھا گئی

قد تو پھلوں کا بڑھ گیا دورِ جدید میں
سپراؔ مگر اثر کو نئی کھاد کھا گئی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!