ہم سنائیں تو کہانی اور ہے

تحت اللفظ

ہم سنائیں تو کہانی اور ہے
یار لوگوں کی زبانی اور ہے

چارہ گر روتے ہیں تازہ زخم کو
دل کی بیماری پرانی اور ہے

جو کہا ہم نے وہ مضمون اور تھا
ترجماں کی ترجمانی اور ہے

ہے بساطِ دل لہو کی ایک بوند
چشمِ پر خوں کی روانی اور ہے

نامہ بر کو کچھ بھی ہم پیغام دیں
داستاں اس نے سنانی اور ہے

آبِ زمزم دوست لائے ہیں عبث
ہم جو پیتے ہیں‌ وہ پانی اور ہے

سب قیامت قامتوں کو دیکھ لو
کیا مرے جاناں کا ثانی اور ہے

شاعری کرتی ہے اک دنیا فرازؔ
پر تری سادہ بیانی اور ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!