اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

تحت اللفظ

اولِ شب وہ بزم کی رونق شمع بھی تھی پروانہ بھی
رات کے آخر ہوتے ہوتے ختم تھا یہ افسانہ بھی

قید کو توڑ کے نکلا جب میں اٹھ کے بگولے ساتھ ہوئے
دشتِ عدم تک جنگل جنگل بھاگ چلا ویرانہ بھی

ہاتھ سے کس نے ساغر پٹکا موسم کی بے کیفی پر
اتنا برسا ٹوٹ کے بادل ڈوب چلا مے خانہ بھی

خون ہی کی شرکت وہ نہ کیوں ہو شرکت چیز ہے جھگڑے کی
اپنوں سے وہ دیکھ رہا ہوں جو نہ کرے بیگانہ بھی

ایک لگی کے دو ہیں اثر اور دونوں حسب ِمراتب ہیں
لو جو لگائے شمع کھڑی ہے رقص میں ہے پروانہ بھی

دونوں جولاں گاہِ جنوں ہیں بستی کیا ویرانہ کیا
اٹھ کے چلا جب کوئی بگولا دوڑ پڑا دیوانہ بھی

وحدت میں کی کثرت پیدا جلووں کی پاشانی نے
ایک ہی جا تھا کچھ دن پہلے کعبہ بھی بت خانہ بھی

حسن و عشق کی لاگ میں اکثر چھیڑ ادھر سے ہوتی ہے
شمع کا شعلہ جب لہرایا اڑ کے چلا پروانہ بھی

دور مسرت آرزوؔ اپنا کیسا زلزلہ آگیں تھا
ہاتھ سے منہ تک آتے آتے چھوٹ پڑا پیمانہ بھی

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!