دل دل ہی رہے گا گلِ تر ہو نہیں سکتا

تحت اللفظ

دل دل ہی رہے گا گلِ تر ہو نہیں سکتا
خوں ہو کے بھی منظورِ نظر ہو نہیں سکتا

جو ظلم کیا تو نے کیا بے جگری سے
ایسا تو کسی کا بھی جگر ہو نہیں سکتا

تھک تھک کے تری راہ میں یوں بیٹھ گیا ہوں
گویا کہ بس اب مجھ سے سفر ہو نہیں سکتا

اظہارِ محبت مرے آنسو ہی کریں گے
اظہار بہ اندازِ دگر ہو نہیں سکتا

ہر بوند لہو کی کبھی بنتی نہیں آنسو
جیسے کہ ہر اک قطرہ گہر ہو نہیں سکتا

یہ عہدِ جوانی بھی ہے کچھ ایسا زمانہ
بے بادۂ سرجوش بسر ہو نہیں سکتا

لے جائے گا یہ دل مجھے اس بزم میں آخر
جس میں کہ صبا کا بھی گزر ہو نہیں سکتا

جب تک تری رحمت کا ہے کشفیؔ کو سہارا
سچ یہ ہے گناہوں سے حذر ہو نہیں سکتا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ