دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا

تحت اللفظ

دستور محبت کا سکھایا نہیں جاتا
یہ ایسا سبق ہے جو پڑھایا نہیں جاتا

کمسن ہیں وہ ایسے انھیں ظالم کہوں کیسے
معصوم پہ الزام لگایا نہیں جاتا

آئینہ دکھایا تو کہا آئنہ رخ نے
آئینے کو آئینہ دکھایا نہیں جاتا

کیا چھیڑ ہے آنچل سے گلستاں میں صبا کی
ان سے رخِ روشن کو چھپایا نہیں جاتا

حیرت ہے کہ مے خانے میں جاتا نہیں زاہد
جنت میں مسلمان سے جایا نہیں جاتا

اب موت ہی لے جائے تو لے جائے یہاں سے
کوچے سے ترے ہم سے تو جایا نہیں جاتا

اس درجہ پشیماں مرا قاتل ہے کہ اس سے
محشر میں مرے سامنے آیا نہیں جاتا

پرنمؔ غمِ الفت میں تم آنسو نہ بہاؤ
اس آگ کو پانی سے بجھایا نہیں جاتا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!