جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

تحت اللفظ

مے کشو مے کی کمی بیشی پہ ناحق جوش ہے
یہ تو ساقی جانتا ہے کس کو کتنا ہوش ہے

کہہ رہا ہے شورِ دریا سے سمندر کا سکوت
جس کا جتنا ظرف ہے اتنا ہی وہ خاموش ہے

پاک بازانِ محبت دامن آلودہ نہیں
خشک لب ساحل ہے گو دریا سے ہم آغوش ہے

غرق کر دیتی ہے کشتی نا خدا کی بے خودی
چھوڑ دے وہ مےکدہ ساقی جہاں مدہوش ہے

ابتدا سے آج تک ناطقؔ کی ہے یہ سرگزشت
پہلے چپ تھا پھر ہوا دیوانہ اب بےہوش ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ