چلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیں

تحت اللفظ

جدائی کے صدموں کو ٹالے ہوئے ہیں
چلے جاؤ ہم دل سنبھالے ہوئے ہیں

زمانے کی فکروں نے کھایا ہے ہم کو
ہزاروں کے منہ کے نوالے ہوئے ہیں

گزند اپنے ہاتھوں سے پہنچا ہے ہم کو
یہ سانپ آستینوں کے پالے ہوئے ہیں

نہیں نام کو ان میں بوئے مروت
یہ گل رو مرے دیکھے بھالے ہوئے ہیں

نہیں اعتبار ایک دم زندگی کا
ازل سے قضا کے حوالے ہوئے ہیں

ہزاروں کو تھے سرفروشی کے دعوے
تصدق فدا ہونے والے ہوئے ہیں

ہم آواز ہیں عیش و غم دونوں لیکن
ترانے یہ ٹھہرے وہ نالے ہوئے ہیں

منیرؔ اب رہِ حق میں لغزش نہ ہوگی
ید اللہ مجھ کو سنبھالے ہوئے ہیں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ