وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

تحت اللفظ

اے صنم وصل کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے

نہیں بچتا نہیں بچتا نہیں بچتا عاشق
پوچھتے کیا ہو شبِ ہجر میں کیا ہوتا ہے

بے اثر نالے نہیں آپ کا ڈر ہے مجھ کو
ابھی کہہ دیجیے پھر دیکھیے کیا ہوتا ہے

کیوں نہ تشبیہ اسے زلف سے دیں عاشقِ زار
واقعی طولِ شبِ ہجر بلا ہوتا ہے

یوں تکبر نہ کرو ہم بھی ہیں بندے اس کے
سجدے بت کرتے ہیں حامی جو خدا ہوتا ہے

برقؔ افتادہ وہ ہوں سلطنتِ عالم میں
تاجِ سر عجز سے نقشِ کفِ پا ہوتا ہے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ