غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں

تحت اللفظ

غیر کے خط میں مجھے ان کے پیام آتے ہیں
کوئی مانے کہ نہ مانے مرے نام آتے ہیں

عافیت کوش مسافر جنھیں منزل سمجھیں
عشق کی راہ میں ایسے بھی مقام آتے ہیں

اب مرے عشق پہ تہمت ہے ہوس کاری کی
مسکراتے ہوئے اب وہ لبِ بام آتے ہیں

واعظِ شہر کی محفل ہے کہ ہے بزمِ نشاط
حوضِ کوثر سے چھلکتے ہوئے جام آتے ہیں

یہ رہِ شوق رہِ عشق ہے اے اہلِ ہوس
منزلیں آتی ہیں اس میں نہ مقام آتے ہیں

اب نئے رنگ کے صیاد ہیں اس گلشن میں
صید کے ساتھ جو بڑھ کر تہِ دام آتے ہیں

داورِ حشر مرا نامۂ اعمال نہ دیکھ
اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں

جن کو خلوت میں بھی تاثیرؔ نہ دیکھا تھا کبھی
محفلِ غیر میں اب وہ سرِ عام آتے ہیں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!