بڑے اچھے بڑے سیدھے کہیں کے

تحت اللفظ

بڑے اچھے بڑے سیدھے کہیں کے
ذرا دھبے تو دیکھو آستیں کے

چلو پابند ہی رہنا نہیں کے
مگر یہ بل بھی جائیں گے جبیں کے

مرے دامن میں موتی بھر دیے ہیں
سلیقے دیکھیے چشمِ حزیں کے

یہ نازِ دلربائی اللہ اللہ
زباں پر ہاں مگر تیور نہیں کے

میں پھر افسانۂ غم چھیڑتا ہوں
ذرا تم پھر کہو جھوٹے کہیں کے

خدا ناکردہ کچھ مختار ہوتے
اگر مجبور باشندے زمیں کے

جنھیں محشرؔ ہم اپنا جانتے تھے
وہ آخر بن گئے سانپ آستیں کے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!