دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا

تحت اللفظ

دنیا کے ہر خیال سے بیگانہ کر دیا
حسنِ خیالِ یار نے دیوانہ کر دیا

تو نے کمال جلوۂ جانانہ کر دیا
بلبل کو پھول شمع کو پروانہ کر دیا

مشرب نہیں یہ میرا کہ پوجوں بتوں کو میں
شوقِ طلب نے دل کو صنم خانہ کر دیا

ان کی نگاہِ مست کے قربان جائیے
میرے جنوں کو حاصلِ مے خانہ کر دیا

ٹھکرائے یا قبول کرے اس کی بات ہے
ہم نے تو پیش جان کا نذرانہ کر دیا

تیرے خرامِ ناز پہ قربان زندگی
نقشِ قدم کو رونقِ ویرانہ کر دیا

میخانۂ الست کا وہ رند ہوں فناؔ
جس پر نگاہ ڈال دی مستانہ کر دیا

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ