گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے

تحت اللفظ

فراق سے بھی گئے ہم وصال سے بھی گئے
سبک ہوئے ہیں تو عیشِ ملال سے بھی گئے

جو بت کدے میں تھے وہ صاحبانِ کشف و کمال
حرم میں آئے تو کشف و کمال سے بھی گئے

اسی نگاہ کی نرمی سے ڈگمگائے قدم
اسی نگاہ کے تیور سنبھال سے بھی گئے

غمِ حیات و غمِ دوست کی کشاکش میں
ہم ایسے لوگ تو رنج و ملال سے بھی گئے

گل و ثمر کا تو رونا الگ رہا لیکن
یہ غم کہ فرقِ حرام و حلال سے بھی گئے

وہ لوگ جن سے تری بزم میں تھے ہنگامے
گئے تو کیا تری بزمِ خیال سے بھی گئے

ہم ایسے کون تھے لیکن قفس کی یہ دنیا
کہ پر شکستوں میں اپنی مثال سے بھی گئے

چراغِ بزم ابھی جانِ انجمن نہ بجھا
کہ یہ بجھا تو ترے خط و خال سے بھی گئے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!