دلِ یزداں نے کہا

تحت اللفظ

دلِ یزداں نے کہا ایک خزانہ ہوں میں
کیوں نہ عالم پہ گہر پاش بنوں
پھر گل و لالہ و شبنم کو بکھیرا اس نے
سرمئی چادرِ شب کو مہ و انجم سے بنایا زرکار
اور حسینانِ جہاں کو درِ دنداں بخشے
اسے معلوم نہ تھا
کہ گل و لالہ جگر چاک بنیں گے اک دن
اور یہ شبنم بسر اوقات کرے گی رو کر
سرِ افلاک بھٹکتا ہی پھرے گا یہ چاند
اور انجم کی جھپکتی ہوئی آنکھوں میں کبھی
نیند ہو گی کہ نہیں
اسے معلوم نہ تھا ہائے کہ ہنستے ہوئے لب
کبھی بیچارگی و غم کو دبا رکھیں گے
دامنِ دل میں کئی اشک چھپا رکھیں گے

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!