ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

تحت اللفظ

وہ نہیں بھولتا جہاں جاؤں
ہائے میں کیا کروں کہاں جاؤں

یہ نہیں چاند ہے وہی محبوب
کس طرح تا بہ آسماں جاؤں

آئی یاد اس کی زلف کی زنجیر
توڑ کر اب تو بیڑیاں جاؤں

رہنمائی کرے جو عالمِ غیب
وہ جہاں ہے نہاں وہاں جاؤں

کتنے روزوں سے غم نہیں کھایا
اس کے گھر آج میہماں جاؤں

ہو نہ گل گشت میں کہیں وہ گل
جی میں ہے آج بوستاں جاؤں

خاک اڑاتا ہوا ہر اک بن میں
صورتِ گردِ کارواں جاؤں

جی میں حسرت ہے قاصدوں کی طرح
ڈھونڈتا یار کا مکاں جاؤں

گھر میں بیٹھا رہوں توکل پر
سچ ہے ناسخؔ کہاں کہاں جاؤں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

ہم روایت شکن روایت ساز

پر

خوش آمدید!

قرأت ہائے تازہ

تنبیہ