غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ عام تک نہ پہنچے

لہجہ

راحیلؔ فاروق کی آواز میں دیگر صدا بندیوں کے لیے یوٹیوب پر پیروی کیجیے!
صوتی ادب

غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ عام تک نہ پہنچے

غزل

غمِ عاشقی سے کہہ دو رہِ عام تک نہ پہنچے
مجھے خوف ہے یہ تہمت مرے نام تک نہ پہنچے

میں نظر سے پی رہا تھا تو یہ دل نے بد دعا دی
ترا ہاتھ زندگی بھر کبھی جام تک نہ پہنچے

وہ نوائے مضمحل کیا نہ ہو جس میں دل کی دھڑکن
وہ صدائے اہلِ دل کیا جو عوام تک نہ پہنچے

مرے طائرِ نفس کو نہیں باغباں سے رنجش
ملے گھر میں آب و دانہ تو یہ دام تک نہ پہنچے

نئی صبح پر نظر ہے مگر آہ یہ بھی ڈر ہے
یہ سحر بھی رفتہ رفتہ کہیں شام تک نہ پہنچے

یہ ادائے بے نیازی تجھے بے وفا مبارک
مگر ایسی بے رخی کیا کہ سلام تک نہ پہنچے

جو نقابِ رخ اٹھا دی تو یہ قید بھی لگا دی
اٹھے ہر نگاہ لیکن کوئی بام تک نہ پہنچے

انھیں اپنے دل کی خبریں مرے دل سے مل رہی ہیں
میں جو ان سے روٹھ جاؤں تو پیام تک نہ پہنچے

وہی اک خموش نغمہ ہے شکیلؔ جانِ ہستی
جو زبان پر نہ آئے جو کلام تک نہ پہنچے

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق

راحیلؔ فاروق پاکستانی پنجاب سے تعلق رکھنے والے اردو صدا کار ہیں۔

فہرستِ پیشکش
یہ صدا بندی اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

آپ کیا فرماتے ہیں بیچ اس مراسلے کے؟