کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

تحت اللفظ

تمناؤں میں الجھایا گیا ہوں
کھلونے دے کے بہلایا گیا ہوں

ہوں اس کوچے کے ہر ذرے سے آگاہ
ادھر سے مدتوں آیا گیا ہوں

نہیں اٹھتے قدم کیوں جانبِ دیر
کسی مسجد میں بہکایا گیا ہوں

دلِ مضطر سے پوچھ اے رونقِ بزم
میں خود آیا نہیں لایا گیا ہوں

سویرا ہے بہت اے شورِ محشر
ابھی بے کار اٹھوایا گیا ہوں

ستایا آ کے پہروں آرزو نے
جو دم بھر آپ میں پایا گیا ہوں

نہ تھا میں معتقد اعجازِ مے کا
بڑی مشکل سے منوایا گیا ہوں

لحد میں کیوں نہ جاؤں منہ چھپائے
بھری محفل سے اٹھوایا گیا ہوں

عدم میں کس نے بلوایا ہے مجھ کو
کہ ہاتھوں ہاتھ پہنچایا گیا ہوں

کجا میں اور کجا اے شادؔ دنیا
کہاں سے کس جگہ لایا گیا ہوں

یہ پیشکش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on pinterest
Share on reddit
Share on linkedin
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لطفِ سخن کچھ اس سے زیادہ

خوش آمدید۔ آپ کی یہاں موجودگی کا مطلب ہے کہ آپ کو اردو گاہ کے جملہ قواعد و ضوابط سے اتفاق ہے۔ تشریف آوری کا شکریہ!